اللہ تعالٰی کا وعدۂ خلافت - خواجہ فہد اقبال

تم میں سے جو لوگ ایمان والے ہوں گے اور نیک عمل کریں گے اللہ تعالٰی کا ان سے وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں خلافت عطا کر دیں گے جیسے ان سے پہلے لوگوں کو خلافت عطا کی تھی۔ پھر وہ ان کے لئے اس دین کو غالب کر دیں گے جو ان کے لئے پسند فرمایا ہے اور ان کے خوف کو امن سے بدل دیں گے، بشرطیکہ وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد کفر کریں تو یہی لوگ فاسق ہیں۔

(سورۃ النور: ۵۵)

اللہ تعالٰی کی یہ سنت رہی ہے کہ جو افراد ان معیارات پر پورے اترتے ہوں انہیں وہ حکومت سے نوازتے ہیں اور زمین میں اپنا نائب (یعنی خلیفہ) بنا لیتے ہیں۔ پھر جو اللہ تعالٰی کا نائب بن جائے کیا زمین کی کوئی طاقت اسے زیر کر سکتی ہے؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ گویا خلافت محض حکومت ملنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ عالمی طاقت بن جانے کا منصب ہے۔

قرآن کریم میں کئی مقامات پر ان ہستیوں کا تذکرہ آیا ہے جنہیں اللہ تعالٰی نے اپنا خلیفہ بنایا۔ پہلے یہ عہدہ آدم علیہ السلام کو عطا ہوا تو نہ صرف انہیں پوری زمین کی بادشاہت ملی بلکہ انہیں مسجودِ ملائک ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا ۔ پھر بنی اسرائیل میں داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کو خلافت بخشی تو فلسطین میں قائم ان کی حکومت کو ایسی طاقت دی کہ انسانوں کے علاوہ جنوں اور پرندوں بھی ان کی رعایا میں شامل ہوئے۔ یمن میں رہنے والی قوم صبا کے ساتھ سلیمان علیہ السلام کی گفت و شنید سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی حکومت کا کتنا رعب و دبدبہ تھا اور ان کی حکومت کتنی زبردست عالمی طاقت تھی۔

قرآن کریم میں ایک اور مثال ذوالقرنین (غالبأ سائرس اعظم) کی ہے جنہوں نے مشرق ،مغرب اور شمال کی سمت میں تین فوجی مہمات میں ایک بہت وسیع خطے کو فتح کیا اور ایک عظیم الشان سلطنت قائم کی۔ قرآن کے نزول کے بعد ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں خلافتِ راشدہ، خلافتِ بنو امیہ، خلافتِ بنو عباس اور خلافتِ عثمانیہ کی مثالیں ملتی ہیں۔ بلاشبہ اپنے اپنے ادوار میں یہ محض مسلمانوں کی حکومتیں ہی نہیں تھیں بلکہ مسلم اور مستحکم عالمی طاقتیں بھی تھیں۔

تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمان اسلام سے جڑے رہے اور اپنی دینی ذمہ داریاں بخوبی انجام دیتے رہے، انہیں دنیا میں بھی غلبہ حاصل رہا اور تمام علوم و فنون کے بھی وہی امام رہے۔ اور جب بھی انہوں نے نے دین کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا تو دنیا میں بھی انہیں ذلت و رسوائی ہی ملی۔ یہود و نصارٰی کا معاملہ یہ رہا کہ جب تک انہوں نے مذہب کو اپنی پہلی ترجیح بنائے رکھا، پورا یورپ جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبا رہا۔ اور جب انہوں نے مذہب کو چھوڑ کر بلکہ مذہب کا انکار کر کے دنیاوی علوم کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا تو نتیجہ ان کی نشاطِ ثانیہ(Renaissance) کی صورت میں نکلا۔

انہوں نے سائنس کے میدان میں بے مثال ترقی کی اور اپنی ایجادات اور دریافتوں سے پوری دنیا کی آنکھیں خیرہ کر دیں۔ لیکن مسلمانوں کا معاملہ ان سے بالکل مختلف ہے۔ دین سے دور ہو کر ہم دنیا میں جتنی بھی کوشش کر لیں وہ سب اکارت جائے گی اور ذلت و مسکنت ہی ہمارا مقدر رہے گی۔ ہماری نشاطِ ثانیہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم یہود و نصارٰی کی پیروی چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسولﷺ کا دامن تھام لیں اور اپنا ایمان اور عمل درست کریں۔ جب ہم ایسا کریں گے تو اللہ تعالٰی اپنا وعدہ پورا فرمائیں گے اور ہمیں اپنا نائب ہونے کا اعزاز بخشیں گے اور پھر ہمارے لئے دنیا میں بھی کامیابی ہو گی اور آخرت میں بھی۔

علامہ اقبال نے فرمایا تھا:

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

اُن کی جمیعت کا ہے ملک و نسب پر انحصار

قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمیعت تری

دامنِ دیں ہاتھ سے چُھوٹا تو جمیعت کہاں

اور جمیعت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی