لیبیا میں امن کا راستہ ترکی سے گزرتا ہے- ایردوان

لیبیا کانفرنس سے قبل واشنگٹن کے اخبار پولیٹیکو میں ایک مقالہ شائع ہوا جس میں انہوں نےکہا کہ لیبیا میں مصر،متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسےغیر جمہوری ممالک جنگی جنونی حفتر کو لگام دیں ورنہ دیر ہو جائے گی۔

صدر رجب طیب ایرودان نے کہاہے کہ لیبیا میں امن کا راستہ ترکی سے گزرتا ہے۔ صدر کا لیبیا کانفرنس سے قبل واشنگٹن کے اخبار پولیٹیکو میں ایک مقالہ شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ لیبیا میں مصر،متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسےغیر جمہوری ممالک جنگی جنونی حفتر کو لگام دیں ورنہ دیر ہو جائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ ترکی لیبیائی کی حفاظتی قوتوں کی تربیت کرتےہوئے انہیں دہشتگردی اورت انسانی تجارت کے خلاف جنگ کےلیے تیار کرے گا۔ صدر نے کہا کہ لیبیا 10 سال سے خونریز جنگ میں مصروف ہے تاہم عالمی برادری اپنی ذمے داریوں سے منہ چھپائے تشدد کے خاتمے اور امن و استحکام کی بحالی سے دور ہے ۔

انہوں نے کہا کہ فرض کریں کہ یورپ کی طرف سے عسکری امداد میں کسی قسم کی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں ہوتا تو لیبیا مجبوراً تعاون کےلیے ترکی کی جانب ہاتھ بڑھائے گا۔