درد ناک زندگی گزارنے والی پہلی کمپیوٹر پروگرامر کی کہانی

ایڈا لولیس کو دنیا کی پہلی کمپیوٹر پروگرامر کہا جاتا ہے۔ایڈا لولیس کا بڑا کارنامہ انالیٹیکل انجن کے لیے پہلا الگورتھم تحریر کرنا بتایا جاتا ہے جو ایک عام مقصد کے لیے تیار کردہ مشین یا کمپیوٹر کی بنیاد تھا۔ یہ ایک کارنامہ تھا جسے انجام دینے والی یہ لڑکی کم سنی سے لے کر موت تک تکلیف دہ اور مشکل حالات کا سامنا کرتی رہی۔ آئیے ایڈا لولیس کی کتابِ زیست کے اوراق الٹتے ہیں۔

ایڈا لولیس کے والد کا نام جارج گورڈن بائرن تھا جو مشہور شاعر اور برطانیہ کے نواب خاندان کا فرد تھا۔ دنیا اسے لارڈ بائرن کے نام سے بھی جانتی ہے۔لندن کے اسی نواب کے گھر ایڈا لولیس نے 10 دسمبر 1815 کو آنکھ کھولی۔بائرن اولادِ نرینہ کی خواہش رکھتے تھے اور بیٹی کی پیدائش پر انھیں‌ شدید مایوسی ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایڈا لولیس تمام عمر والد کی شفقت اور پیار سے محروم رہی۔

ایڈا کے والد اپنی بیوی سے بھی نباہ نہ کرسکے اور نوبت علیحدگی تک پہنچ گئی۔قسمت کی ستم ظریفی یہ دیکھیے کہ ایڈا کو اپنی ماں کی محبت اور توجہ بھی حاصل نہ ہوسکی۔ وہ اپنی بیٹی کو اکثر اس کی نانی کے پاس چھوڑ جاتی تھیں۔دوسری طرف ایڈا بچپن ہی سے بیمار رہنے لگی۔ آٹھ برس کی عمر میں اسے سَر میں مستقل درد کی شکایت ہوئی جس نے بینائی پر منفی اثر ڈالا۔

زندگی کے چودھویں برس وہ خسرے کی بیماری کے بعد بستر سے لگ گئی۔ ڈیڑھ برس تک شدید بیمار رہنے کے بعد بیساکھیوں کی مدد سے چلنے کے قابل ہوئی۔اس دوران باہمّت ایڈا لولیس نے تعلیم کا سفر جاری رکھا اور سائنس کے علاوہ مختلف فنون میں دل چسپی لینے کے ساتھ اس حوالے سے عملی طور پر بھی متحرک رہی۔زندگی کے آخری برسوں میں اسے سرطان کا عارضہ لاحق ہو گیا اور اسی بیماری کے باعث 1852 میں ایڈا لولیس کی موت واقع ہو گئی۔