مارگلہ کے چیتے - آصف محمود

مارگلہ کے جنگل میں ٹریل فائیو پر ایک ہدایت نامہ موجود ہے۔’’ جنگل میں چیتے بھی ہوتے ہیں ، احتیاط کریں ، اکیلے نہ جائیں ، مقررہ راستے سے ہٹ کر نہ چلیں ، شام ہونے سے پہلے واپس آ جائیں ، کسی درندے کو دیکھیں تو شور مچائیں تا کہ کوئی آپ کی مدد کو پہنچ سکے، وغیرہ وغیرہ‘‘۔

لوگ یہ ہدایت نامہ پڑھتے ہیں اور غیر یقینی کے عالم میں اسے نظر اندازکرکے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ان کے خیال میں یہ ہدایت نامہ ٹریل فائیو کے حسن کو مزید پر اسرار بنانے کی ایک کوشش کے علاوہ کچھ نہیں۔لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ، چیتے نہ صرف موجود ہیں بلکہ خاصے خطرناک ہو چکے ہیں۔ گرمیوں میں مارگلہ اتنا خطرناک نہیں ہوتا،جاڑا زیادہ بے رحم ہوتا ہے۔اوپر پہاڑوں پر برف پڑتی ہے اور چیتے برساتی نالے کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے مارگلہ میں اتر آتے ہیں۔ہم دور سے دیکھنے والوں کو پہاڑوں پر اتری برف اور مارگلہ میں اترے خزاں کے رنگ تو نظر آتے ہیں لیکن ان رنگوں کے پیچھے بستیوں میں چیتوں کے ہاتھوں لوگوں کی زندگی کتنی مشکل ہو جاتی ہے یہ ہمیں کم ہی معلوم ہوتا ہے۔کبھی کچھ معلوم ہو بھی جائے تو یہ ہمارے لیے ایک مزیدار کہانی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ غالبا دس بارہ سال پہلے مس مصرو سے جب میں نے پوچھا تھا درخت کے ساتھ یہ بندوق کیوں لٹک رہی ہے تو اس نے کہا تھا : باگھ اور چیتے میرے جانوروں کو کھا جاتے ہیں اس لیے رکھی ہوئی ہے۔

یہ سن کر مجھے بھی بہت مزہ آیا تھااورمجھے اس بات کا کوئی احساس نہ تھا چیتے کے اس خوف میں یہاں زندگی گزارنا کتنا مشکل ہو گا ۔ مارگلہ کے سیاحتی مقامات میں سے ایک شاہدرا ہے۔یہاں کی آبشارموسم گرما میں آپ کو شانت کر دیتی ہے۔ لیکن کسی کو معلوم نہیں یہاں کا جاڑا کیسا ہوتا ہے۔ شام ڈھلتی ہے اور بستی میں خوف اتر آتا ہے کہ کہیں چیتا حملہ نہ کر دے۔پچھلے ماہ اوپر پہاڑوں پر برف پڑی ۔ اس ایک ہفتے میں اس بستی میں چیتوں نے گیارہ دفعہ حملہ کیا۔ حالیہ برفباری کے بعد سے اب تک یہاں ایک درجن کے قریب بکریاں ،ایک بچھڑا اور تین گائیں چیتے کے ہاتھوں ماری جا چکی ہیں۔ ابھی کل سے برفباری کا ایک اور سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔برف اور بھوک سے ستائے چیتے ہو سکتا ہے پھر بستی کا رخ کریں۔سوال یہ ہے کہ یہ غریب لوگ کہاں جائیں؟ غریب آدمی کی ایک گائے کی مالیت کسی طور پر بھی ایک لاکھ سے کم نہیں اوراس بستی میں صرف ا س جاڑے میں سات گائیں چیتے کے ہاتھوں ماری جا چکی ہیں۔گائوں کے بوڑھے بزرگوں سے میری بات ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ چیتا عموما اس وقت شکار کرتا ہے جب کچھ کچھ اندھیرا ہو اور کچھ کچھ روشنی۔ یعنی شام کے وقت جب ابھی مکمل تاریکی نہ ہوئی ہو اور صبح سویرے جب ابھی کچھ اندھیرا باقی ہو۔لیکن جب برف پڑتی ہے اور اسے جنگل میں کھانے کو کچھ نہیں ملتا پھر وہ کسی بھی وقت حملہ آور ہو جاتا ہے۔یہ لوگ پریشان ہیں کہ یہی سلسلہ جاری رہا تو آج جانوروں کی باری ہے کل انسانوں کی باری بھی آ سکتی ہے۔ ایک نوجوان نے کہا کہ ہم اگر چیتے کو مار دیں تو وائلڈ لائف والے آ جائیں گے کہ ایک نایاب جانور مار کر آپ نے جرم کا ارتکاب کیا ہے لیکن جب ہمارے جانور مرتے ہیں تو کوئی ہمارے نقصان کا ازالہ نہیں کرتا۔گائوں میں لوگوں کا ذریعہ آمدن ہی کیا ہوتا ہے۔ امام مسجد صاحب کی گائے ان کا ایک برا ذریعہ آمدن تھی اسے بھی چیتا کھا گیا۔اب پانچ سات ہزار ماہانہ لینے والا امام مسجد ایک لاکھ کی گائے کہاں ے لائے؟ کچھ سال پہلے حکومت نے مری سے آگے جنگلات میں وائلڈ لائف پراجیکٹ کے تحت چیتے چھوڑے تاکہ اس نایاب جانور کی افزائش کی جا سکے۔اب چیتے تو چھوڑ دیے لیکن اس بات کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا کہ وہ کھائیں گے کیا۔ مری سے تھوڑا آگے دریا ئے جہلم گزرتا ہے جو کشمیرا ور پاکستان کو الگ کرتا ہے۔چیتے اس دریا کو عبور نہیں کر سکتے۔

چنانچہ وہ دریا کے ساتھ منگلا تک جاتے ہیں اور واپس آ جاتے ہیں۔ یہی پٹی ان کا رہائشی علاقہ ہے۔ اس علاقے میں ان کے کھانے کے لیے کوئی جانور نہیں چھوڑے گئے اس لیے بھوک سے مجبور ہو کر وہ بستیوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ برف باری کے دنوں میں اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ اوپر کے پہاڑوں کے چیتے بھی مارگلہ میں اتر آئیں۔ یہ امکان صورت حال کو مزید خطرناک بنا دیتا ہے۔چیتوں کی افزائش نسل کا یہ کون سا طریقہ ہے کہ باہر سے فنڈز لینے کے لیے اپنے عوام کی زندگی خطرے میں ڈال دی جائے؟ حکومت نے چیتے چھوڑ تو دیے مگر اب خود وائلڈ لائف کو معلوم نہیں ان کی تعداد کتنی ہو چکی ہے۔اس کے پاس سیٹلائٹ ٹریکنگ کی سہولت ہے نہ ہی چیتوں اور ان کے پیدا ہونے والے بچوں میں کوئی ٹرانسمیٹر لگایا جاتا ہے کہ ان کی لوکیشن معلوم ہوتی رہے۔ اس سارے معاملے کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے چیتوں کے ہاتھوں بچے بھی محفوظ نہیں۔ پچھلے سال میں بچوں کے ساتھ مری کی تحصیل کوٹلی ستیاں کے گائوں نڑ میں اپنے دوست بلال یامین کے ہاں ٹھہرا۔

معلوم ہوا ایک دس سالہ بچی شام کے وقت گھر سے نکلی اور چیتا شاید گھات لگا کر بیٹھا تھا اس نے بچی کو اٹھا لیا۔ گھر کے صحن کی نرم مٹی پر چیتے کے پنجے کے نشان دیکھ کر لوگوں کو شک ہوا ۔تلاش شروع ہوئی اور جنگل سے اس کی لاش ملی ۔بچی کا سر چیتا کھا چکا تھا۔
دور بیٹھے میرے اور آپ جیسے لوگوں کے لیے یہ سب ایک دلچسپ داستان ہو سکتی ہے، ایک ایڈونچر کا احساس کہ اس دور میں ہمارے مارگلہ کے جنگل سے سندربن کے جنگلات جیسی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں۔ہو سکتا ہے وائڈلائف کے افسران بھی خوش ہوتے ہوں کہ چیتوں کی معدوم ہوتی نسل کو انہوں نے ایک تازہ زندگی دے دی ہے لیکن جن لوگوں پر بیت رہی ہے ان کے لیے یہ سب ایک ڈرائونا خواب بن چکا ہے۔ اس خوف سے کہ چیتے حملہ نہ کر دیں شام ڈھلے بستی سنسان ہو جاتی ہے۔
اس مسئلے کے دو حل ہیں۔اول:وائلڈ لائف ٹرینکولائزر گن استعمال کر کے ان چیتوں کو بے ہوش کر کے پکڑ لے اور کہیں اور منتقل کر دے اور جن کا مالی نقصان ہو چکا ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔دوم: لوگ تنگ آمد بجنگ آمد کے طور پر ان چیتوں کا شکارشروع کر دیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ پہلے حل کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے اور روایت یہ ہے کہ دوسرے حل پر کام شروع ہو چکا ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.