واے افسوس متاعِ کارواں جاتا رہا - صباحت منصور

یہ غالباً ۲۰۰۳ کا زمانہ تھا اور بچوں کی اسکول کی چھٹیاں لہذا ہم معمول سے زیادہ مصروف تھے ،ایک سمر کیمپ میں نہ صرف اپنے بلکہ محلے کے بچوں کو بھی لے کر دور دراز کے ایک اسکول میں جایا کرتے۔ وہاں پر ساری بچیاں تھیں کالج اور یونیورسٹی کی لہذا سینئر ہونے کی بناءپر 10سے 12سال کے لڑکوں کی کلاس لینا میری ذمہ داری ٹہری۔ سمر کیمپ بہت اچھا رہا،یہاں بچوں نے کھیل ہی کھیل میں بہت مثبت کام سیکھ لئے۔

یہاں تک کہ اختتام نزدیک آ نے لگا۔آخر میں ہر کلاس کو کچھ نہ کچھ اسپیشل کرنا تھا اور ہمیاری کلاس کو ایک ڈرامہ کشمیر کے موضوع پر کرنا تھا۔اس وقت بھی کشمیر ایک سلگتا ہوا ایشو تھا۔ سمر کیمپ بہت اچھا رہا،یہاں بچوں نے کھیل ہی کھیل میں بہت مثبت کام سیکھ لئے۔یہاں تک کہ اختتام نزدیک آ نے لگا۔آخر میں ہر کلاس کو کچھ نہ کچھ اسپیشل کرنا تھا اور ہمیاری کلاس کو ایک ڈرامہ کشمیر کے موضوع پر کرنا تھا۔ اس وقت بھی کشمیر ایک سلگتا ہوا ایشو تھا۔ ہمیں اس ڈرامے کی اچھی سی تیاری کروانی تھی،کہانی ایک مجاہد کے گرد گردش کرتی تھی جو بلآخر شھید ہو جاتاہے اور فوراً ہی ہندو فوجی اس کی بہن کو اٹھا لے جا رہے ہیں،جب کہ پیچھے کھڑی اس کی ماں رو رو کر ہلکان ہو رہی . کہانی جاندار تھی اور متاثر کن بھی،لیکن پریشانی یہ ہوئی کہ کوئی لڑکا،ماں اور بہن کا رول کرنے پر رضامند نہ ہوا،جس سے کہو وہ لڑکا منع کر دے۔

آخر میں نے سوچا کہ قرعہ ڈالوں جس کا نام آۓ وہ پرفارم کرے گا یعنی مجاہد کی ماں اور بہن کا رول۔کیا آپ یقین کریں گے اس شرمندگی کا جو ان کے چہروں پر ثبت ہو گئی اور چارو ناچار ان کو لڑکیوں کا گیٹ اپ کرنا پڑا۔ خیر وہ ڈرامہ ہوگیا اور کافی جاندار رہا جس میں بہن اور امی کے آنسو سچ مچ کے تھے،جو وہ عورت کا روپ اختیار کرنے پر بہا رہے تھے اور میں آج تک ان کی نگاہیں بھلا نہ سکی۔ یہ بات آج صبح کا اخبار دیکھ کہ یاد آئ جس میں تین لڑکیاں ایک لڑکے کو کتا بنا کر اس کا پٹہ پکڑ کر کھینچ رہی ہیں۔feminism اور communism کی ماری ہوئی یہ لڑکیاں مجھے ان سے ہمدردی ہے لیکن مجھے اس مرد پر ضرور حیرت ہےجو مرد ہو کر کتا بنا ہوا ہے۔

وہ چاروں ہوش و حواس میں تھے یا معاشرتی نا ہموار یوں کے سبب کسی نفسیاتی بیماری کے اثر میں،اللہ ہی جانے کیا ہے لیکن وہ جسے اللہ نے قوام بنایا مسجود ملائک بنایا،وہ کیسے ایک کتا بنے پر راضی ہو گیا۔استغفراللہ۔ پھر سوچتے سوچتے یہ خیال آیا کہ کیسے ایک بہن کی پکار پر محمد بن قاسم کوسوں دور سے دوڑا چلا آ گیا تھا،کیسےخلیفہ معتصم باللہ ایک بہن کی پکار پر مدد کے لیے بیچین ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور آج کشمیر کو قید ہوئے چار ماہ ہونے کو ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا واقعی امت مسلمہ مردوں سےخالی ہو گئی ہے؟؟؟