نئے سال کا کارڈ - وقاص‌احمد

وزیرِ اعظم نے وزیر اطلاعات کی توسط سے اعلان کیا ہے کہ وہ یوٹیلیٹی سٹورز پر آٹا، گھی، چینی اور دال پر عوام کو تقریباً چھ ارب روپے کی سبسڈی دیں گے۔ اس رعایت کے حقیقی مستحقین کی جانچ کے لئے حکومت ان کو کارڈ جاری کرے گی۔ گویا ہیلتھ کارڈ، انکم سپورٹ کارڈ کے بعد یہ ایک نیا کارڈ ہوگا۔ یہ کارڈ مستحقین کو ملے نہ ملے ، کارڈ اور اسپر سافٹ ویئر سسٹم بنانے والوں کی تو موجیں لگ گئی ہیں ۔

ان کارڈوں کی حفاظت کے لیے اب لوگوں کو بھی کافی اقدامات کرنے ہونگے۔ خیر ! اس بات سے انکار نہیں جب حکومت کو مہنگائی اور روزگار کی عمومی صورتحال ٹھیک کرنے میں شدید مشکلات درپیش ہوں تو پسے ہوئے طبقات کی مدد اور انکی مشکلات میں کمی لانے کے لئے خصوصی اقدامات کرنا مستحسن عمل ہے۔ لیکن جس طرح صحت کارڈ کا پھیلاؤ پنجاب ا ور خیبر پختونخواہ میں ہی رہا ہے اس یوٹیلیٹی سپورٹ کارڈ کے بھی فوائد پورے ملک کے مستحقین کے بجائے وہی صوبے اٹھائیں گے جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ لیکن چلیں اس ملک کے کمزور غریب طبقات کے حوالے سے کچھ نہ کچھ تو کام ہو رہا ہے ۔

سندھ والوں اور خاص طور پر کراچی والوں کو اٹھارہویں ترمیم کے نقصانات کا احساس جس شدت سے تحریک انصاف کے حکومت میں آنے کی وجہ سے ہوا ہے شاید اتنا پہلے نہیں تھا۔ عمران خان نے پی پی پی اور سندھ حکومت کے خلاف جو نفرت بھرے جذبات پالے ہوئے ہیں اس سے قطع نظر کہ وہ صحیح ہیں یا غلط ، سندھ کی صوبائی حکومت اس کا بھرپور انتقام کراچی سے لے رہی ہے۔

صوبوں اور ان میں آبادی کی تقسیم کا سیاسی طور پر اثر کچھ اس طرح ہوگیا یا کردیا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت لازماً یہ سوچتی ہوگی کہ اگر کے پی کے پورا اور پنجاب آدھے سے زیادہ بھی قابو میں آ گیا تو اگلی وفاقی حکومت پھر ہماری۔ پی پی پی سوچتی ہے کہ کراچی جائے بھاڑ میں اگر دیہی سندھ بھی ہمیں بھٹو کے نام پر ووٹ دیتا ہے تو پورا سندھ ہمارا۔ تبھی تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کراچی کے بارے خود اپنی طرف سے یا سندھ حکومت کے ساتھ کسی سنجیدہ کوششوں کے بجائے صرف لارا لپا دے دے کر وقت گزار رہی ہے۔ وزیر اعظم کو کراچی میں اپنا ووٹ بینک بچانے کے لیے جلد اقدامات کرنے ہونگے ۔ آپ کے بلند بانگ دعووں اور زمینی نتائج میں جو سمندر حائل ہے وہ آپ کی نیم عالمانہ فی البدیہ تقریروں سے نہیں عملی اقدامات سے کم ہوگا۔ وزیر اطلاعات نے یہ بھی بتایا کہ وفاقی حکومت پبلک سیکٹر ترقیاتی فنڈ میں سے اب تک ستاسی ارب روپے خرچ کر چکی ہے اور اگلے سال سات سوارب روپے خرچ ہونگے۔ صوبوں کو جو 900 ارب روپے گئے ہیں یا جائیں گے ان کا حال احوال کیا ہے اللہ ہی جانے۔

یہ بھی پڑھیں:   صرف جماعت اسلامی - آصف محمود

لیکن سوال یہ ہے کہ وفاق سات سو ارب روپے اگلے چھ مہینے میں کیسے خرچ کر پائے گا۔ راقم یہی بات عرصے سے کہہ رہا ہے کہ حکومت بڑے ترقیاتی منصوبوں پر اگر کام شروع نہیں کرے گی تو نہ صنعتیں زیادہ پیداوار بڑھا پائیں گی اور نہ روزگار کے دروازے کھل پائیں گے۔ سبسڈی دینا اچھی بات ہے لیکن ٹیکس دینے والوں کے پیسوں کو دور رس نتائج دینے والے منصوبوں پر خرچ کرنا زیادہ اہم اور ضروری ہے۔ ایک اور توجہ طلب بات یہ ہے کہ حکومت فی الفور بار بار گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا بند کرے۔ حکمران اپنی نا اہلیوں کا انتقام کب تک عوام سے لیتے رہیں گے۔ یہ سبسڈیوں، رعایتو ں اور سپورٹ کا اثر صفر ہوجاتا ہے جب بجلی پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے۔

راقم حکومت کو خبردار کر رہاہے کہ یہ سٹریٹجی کہ متوسط طبقات جنکی ماہانہ آمدنی تیس سے پچاس ساٹھ ہزار تک ہے جو بچوں کو اچھی تعلیم دینا چاہتے ہیں ، پیٹ کاٹ کر ان کا مستقبل سنوارنا چاہتے ہیں ۔جو عزت سے ایک چھوٹے سے کرائے کے فلیٹ میں رہتے ہیں ، جو بے شک کم کماتے ہیں لیکن خودداری اور عزت نفس کی وجہ سے کسی لنگر اور کسی سپورٹ کارڈ کی طرف ان کے دل مائل نہیں ہوتے ، ان کی عزت نفس اور کمر کو نہ توڑا جائے ۔ ماہرین سے مشورہ کر کے اس خاص مڈل کلاس، باشعور طبقے کا خاص خیال رکھا جائے۔ پاکستان کے شہری علاقے خاص طور پر کراچی اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ ایک خاص منصوبے پر عمل درآمد کرنے کے بعد ہی تو بلاول صاحب نے ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شامل ہونے کا لالی پاپ دیا اور اپنے عزائم کا اظہار کیا ہے۔ جی ! وہ منصوبہ جس کے کامیاب ہونے میں پی ٹی آئی سندھ اور وفاق کی لاپرواہی،وعدہ خلافی اور سنگین غفلت کا پورا پورا ہاتھ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آپ کو گھبرانا نہیں - حبیب الرحمن

راقم جانتا ہے کہ اس میں آئین و قانون میں پائے جانے سنگین مسائل بھی وجہ ہیں لیکن حکومت اس سلسلے میں بھی آرڈیننس اور اعلیٰ عدلیہ سے قانونی رائے حاصل کر سکتی ہے۔ نئے چیف جسٹس کراچی سے تعلق رکھتے ہیں اور کراچی کے مسائل میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔ ان کے سامنے اگر صوبے کی سطح پر این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم کا معاملہ رکھاجائے جس میں سندھ کے شہری علاقوں کے لئے ایک فارمولے کے تحت فنڈز مختص کئے جائیں تو وہ ضرور عدل و انصاف سے اس معاملے کو دیکھیں گے۔ تحریک انصاف کی پنجاب حکومت کو بھی پہل کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کے لیے ایک قانون پاس کروانا چاہئے جس میں جنوبی پنجاب کے لئے خاص فارمولے کے تحت فنڈز مختص کئے جائیں۔

اس سےجنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے پی ٹی آئی کے وعدوں کی طرف پیشقدمی نظر آئے گی۔ اگر عمران خان صاحب یہ سب بھی نہیں کر سکتے تو پھر عہدہ چھوڑ کر کسی کا لج میں انقلابی حکومتوں کی اجزائے ترکیبی اور فلاحی ریاستوں کے حکمرانوں کی صلاحیتوں ، اہلیتوں اور قابلیتوں پر لیکچرز دیں ۔ لیکن اس کے لیے بھی شاید انہیں آدھی پونی تاریخ کی کتابیں نہیں، فہم کے ساتھ مکمل تاریخ پڑھنی پڑے گی۔