نیک نام جرنیل حافظ محمد حسین انصاری- حافظ محمد ادریس

14جنوری2004ء کو پاک فوج کے ایک نیک نام جرنیل حافظ محمد حسین انصاری‘ اپنی حیاتِ مستعار مکمل کرکے خالق حقیقی کے جوارِ رحمت میں پہنچ گئے۔ ان کی عمر وفات کے وقت 80سال تھی۔ وہ 14اگست1923ء کو جموں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد غلام محمد اور تایاسلطان محمد جرأت مند مسلمان تھے ‘جو اسلامی غیرت اور جذبہ آزادی سے بچپن ہی سے سرشار تھے‘ اسی جذبے نے دونوں نوجوان بھائیوں کو ہندو مہاراجہ کی ریاست سے مسلمان ریاست بہاول پور کا راستہ دکھایا۔ جنرل انصاری کی ابتدائی تعلیم جموں میں مکمل ہوئی۔ بعد میں ان کا خاندان بہاول پور منتقل ہوگیا ‘مگر کوٹلی لوہاراں ضلع سیالکوٹ میں بھی گھر بنا لیا اور یہاں بھی ان کی رہائش رہی۔ ان کا تعلق سلیچ خاندان سے ہے‘ جو جاٹوں کی ایک ذیلی شاخ ہے۔ انصاری ان کا خطاب ہے ‘جو اُن کو اُن کے استاد نے دیا تھا۔
جنرل انصاری جیسے نیک سیرت لوگ آج ہمارے معاشرے میں خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ خالق ارض وسما نے انہیں بہت سی نادر خوبیوں سے نوازا تھا۔ دنیامیں ذہین اور قابل لوگ تو بہت پائے جاتے ہیں‘ مگر اپنی ذہانت اور قابلیت کو خیروبھلائی‘ خدمت انسانیت اور اعلائے کلمۃاللہ کے لیے وقف کرنے والے بہت کم لوگ ملتے ہیں۔

مرحوم جرأت مند سپاہی‘ غیور مسلمان‘ خوددار انسان‘ عجزوانکسار کے مرکب جرنیل اور دیانت کے اعلیٰ مقام پر فائز پاکستانی تھے۔ مادی وسائل کے بے پناہ مواقع ملنے کے باوجود انہوں نے آج کے دورِ حرص وہوس میں ہمیشہ قناعت اور فکر آخرت کو پیش نظر رکھا۔ ان کے دامن پر کسی طرح کا کوئی دھبہ ہے‘ نہ ان کے کردار میں ذرا برابر کوئی جھول! ان کی عظمت کی دلیل اس حقیقت سے واضح ہے کہ ایک وسائل سے مالا مال ادارے کے سربراہ رہنے کے باوجود وہ لاہور کی ایک مضافاتی اور ڈیویلپمنٹ سے محروم بستی میں چھ مرلے کے ایک سادہ مکان میں زندگی گزار کے آخرت کی وسعتوں کی جانب رخت سفر باندھ گئے۔
اب تو ڈیفنس روڈ اور نئے ائیرپورٹ کی وجہ سے اس علاقے کی قیمت بڑھ گئی ہے‘ مگر جس وقت مرحوم نے گلشن علی میں اپنا مکان بنایا اس وقت یہ ایک پسماندہ گاؤں ہی تھا۔ وہ چاہتے تو اپنے ہم عصر افسروں کی طرح اربوں کی جائیداد چھوڑ جاتے‘ مگر انہیں معلوم تھا کہ دنیا کی اس عارضی زندگی کے ختم ہوتے ہی جن سوالوں کا سامنا کرنا پڑے گا‘ ان میں سے نمایاں سوال یہ ہوگا کہ مال کس طرح کمایا اور اسے کہاں خرچ کیا۔ دنیا میں اس عظیم شخص نے بھرپور زندگی گزاری‘ مگر اپنے اجلے دامن کو کبھی داغ دار نہیں ہونے دیا۔

اس پر چھینٹے اڑانے والے اہل ِاقتدار پوری ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ ان کے خلاف فردِ جرم لے آئے‘ مگر ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ ہر الزام سے پاک اور بری الذمہ تھے۔ یہ جرنیل ہمارے دور کا ابوذر تھا!
اللہ کی محبت میں ڈوب کر اور رسول مجتبیٰؐ کی عقیدت میں جھوم کر جب وہ گفتگو کرتے تو لبوں سے پھول جھڑتے۔ رقت قلب ان کی گفتگوؤں کی قدروقیمت کو دوبالا کردیتی اور اخلاص کی شیرینی دلوں کے زنگ اتارنے میں اکسیر کاکام کرتی۔ انہوں نے قرآن ِمجید فرقان حمیدمحض حفظ ہی نہیں کیا ‘بلکہ اس کے تمام مفاہیم ومطالب کو دل میں بٹھا بھی لیا تھا اور اسی پر اکتفا نہیں کیا‘ بلکہ سچے عاشق ِرسولﷺ کی طرح اس کے احکام پر پوری طرح کاربند بھی تھے۔ جنرل محمدحسین انصاری کے حالات و واقعات کے بارے میں جو لوگ جانتے ہیں‘ انہیں خوش گوار حیرت ہوتی ہے کہ:؎
یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی
ان کی حقیقی تصویر اور مکمل تعارف جب بھی لوگوں کے سامنے آئے گا‘ آج کے دورِ انحطاط میں وہ اسے دیومالائی شخصیت یا افسانوی کردار قرار دیں گے‘ مگر خدا گواہ ہے کہ ہم ان کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں یا الفاظ میں بیان کررہے ہیں ‘وہ اس سے کچھ زیادہ ہی تھے ‘کم ہر گز نہ تھے۔

جنرل انصاری مرحوم سے پہلی ملاقات کینیا میں ہوئی تھی۔ مرحوم کے کچھ قریبی رشتہ دار نیروبی میں مقیم ہیں۔ حاجی محمد لقمان صاحب سابق چیئرمین اسلامک فاؤنڈیشن نیروبی کے والد جناب سلطان محمد اور جنرل محمد حسین انصاری کے والد غلام محمد حقیقی بھائی تھے۔ اس طرح میرے مشفق دوست اور بزرگ محمد لقمان صاحب اور جنرل انصاری صاحب آپس میں فرسٹ کزن ‘یعنی چچازاد بھائی تھے۔ واضح رہے کہ جنرل صاحب کے والد غلام محمد اور تایا سلطان محمد دونوں بہاول پور میں نواب صاحب کے پاس اعلیٰ مناصب پر فائز تھے۔ 1974ء سے میں نیروبی میں مقیم اسلامک فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہا تھا۔
غالباً 1983ء میں جنرل صاحب کچھ دنوں کے لیے اپنی اہلیہ کے ہمراہ نیروبی تشریف لائے۔ اسلامک فاونڈیشن نیروبی کے چیئرمین حاجی محمدلقمان صاحب نے مجھے ان کی آمد کی اطلاع دی اور اپنے خاندانی تعلق کے ساتھ ان کا غائبانہ تعارف کرایا تو ملاقات کا اشتیاق پیدا ہوا۔ لقمان صاحب کے ہاں عشائیے میں ملاقات ہوئی۔ میں پاکستان کے ریٹائرڈ جرنیل اور سرکاری افسر کو اس سادگی‘ بے تکلفی‘ اخلاص اور تواضع کا پیکر پا کر حیرت میں ڈوب گیا‘ مگر ساتھ ہی قلبی مسرت بھی حاصل ہوئی کہ ہماری زوال پذیر قوم کا دامن ایسے قیمتی ہیروں سے مالامال ہے۔

جنرل محمدحسین انصاری کے بارے میں اس سے قبل محض اتنا ہی سن رکھا تھا کہ سقوط ڈھاکہ کے وقت وہ مشرقی پاکستان میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ جنرل انصاری تیکھے نقش ونگار کے ساتھ نہایت پھرتیلے اور سمارٹ نظر آئے۔ ان کے چہرے پر اس وقت ڈاڑھی نہیں تھی‘ مگر چہرے پر شرافت کی جھلک اور آنکھوں میں حیا کی چمک نمایاں تھی۔ سقوط ڈھاکہ‘ اس کے پس منظر اور پیش منظر کے ساتھ مجھے ایک خصوصی تعلق تھا‘ اس لیے مجھے ان سے بہت سے سوالات پوچھنے تھے‘ مگر انہوں نے ساری داستان کو چند فقروں میں یوں سمیٹا کہ موضوع ڈھاکہ سے جنگی قیدیوں کی طرف منتقل ہوگیا۔ جنرل صاحب کے رشتہ داروں میں سے کسی نے اطلاعاً کہا کہ آپ نے انڈیا کی قید میں پورا قرآن پاک حفظ کرلیا تھا۔ جنرل صاحب یہ الفاظ سن کر اللہ کا بار بارشکر ادا کرنے لگے۔
سقوط ڈھاکہ کے بارے میں ان کا تبصرہ یہ تھا کہ بلاشبہ یہ ہماری تاریخ کا بہت بڑا المیہ تھا‘ لیکن بدقسمتی اور بدتدبیری سے مشرقی پاکستان میں معروضی حالات ایسے ہوگئے تھے کہ کوئی فوج بھی جنگ جاری نہیں رکھ سکتی تھی۔ البدر اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کے سوا پورے مشرقی پاکستان میں بنگلہ دیش اور عوامی لیگ کی حمایت میں ساری آبادی مغربی پاکستان کے خلاف ہوچکی تھی۔ مغربی پاکستان سے رابطہ ٹوٹ چکا تھا اور حالت یہ تھی کہ فوج کے لیے سبزی بھی مغربی پاکستان سے آیا کرتی تھی۔ بہت سے کردار پردے کے پیچھے سقوط ڈھاکہ کے لیے منصوبہ بندی کررہے تھے۔

باہر کے دشمنوں کے ساتھ اپنوں کی سازشیں بھی دشمن کا کام آسان کرنے کا ذریعہ بن رہی تھیں۔ فوجی مظالم کی داستانوں کے حوالے سے جنرل انصاری نے کہا کہ اکا دکا واقعات کی تردید تو نہیں کی جاسکتی ‘مگر بحیثیت ِمجموعی ہمارا کردار ایسا بدنما نہیں تھا ‘جیسا مختلف اندرونی وبیرونی ذرائع سے پیش کیا گیا۔ جنرل نیازی کے ہتھیار ڈالنے کا تذکرہ ہوا تو انصاری صاحب نے کہا کہ نیازی کی جگہ کوئی اور جرنیل ہوتا تو بھی یہی کچھ کرتا؛ البتہ ہم سے کچھ غلطیاں سر زد ہوئی تھیں۔ میں نے اپنے محاذ پر ہم منصب بھارتی فوجی افسر سے کہا کہ میں نہ تو ہتھیار پھینکوں گا اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے تمہیں دوں گا؛ البتہ اتارنا چاہوتو اتارلو۔ انڈیا کی قید کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کسی بھارتی فوجی افسر کا ذکر کیا‘ جس سے قبل از تقسیم ان کا تعارف تھا۔ اس کے حسن سلوک کی انہوں نے تعریف کی ‘جبکہ بعض ہندو اور سکھ افسروں کے معاندانہ رویے کا تذکرہ بھی ہوا۔ ان کے بقول ؛قید کے دوران قرآن مجید یاد کرنے کا عمل شروع ہوا تو انہوں نے محسوس کیا کہ جیسے شر میں سے خیر برآمد ہوگیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اگرچہ انڈیا کی قید تکلیف اور اذیت کا باعث تھی ‘مگر ان کے حق میں بہت بڑا خیر کا پہلو یہ نکلا کہ انہوں نے پورا قرآن پاک اپنے سینے میں محفوظ کر لیا۔

جنرل انصاری صاحب اپنی وفات سے چند سال قبل تک نماز تراویح میں قرآن پاک سناتے رہے۔ آخری چند سال صحت کی کمزوری کی وجہ سے وہ اس معمول کو جاری نہ رکھ سکے۔ وہ محض حافظ قرآن ہی نہ تھے ‘بلکہ عالم بھی تھے۔ جماعت اسلامی کے تحت فہم قرآن کے پروگراموں میں بطور مربی شرکت فرماتے اور حاضرین کو ایسے دل نشین انداز میں قرآن کا پیغام پہنچاتے کہ تمام خواتین وحضرات ان کے اگلے پروگرام کیلئے سراپا شوق ہوجایا کرتے تھے۔ مجھے خود ان کے ساتھ بعض پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا۔ واقعہ یہ ہے کہ ان کے درد میں ڈوبے ہوئے الفاظ وفقرات سیدھے دل میں اترتے چلے جاتے تھے۔ تلاوتِ قرآن میں ایسا سوز وگداز ہوتا کہ قرآن کے الفاظ سامعین کو آسمان سے نازل ہوتے ہوئے محسوس ہوتے۔ مجھے جماعت اسلامی کی طرف سے صوبہ پنجاب کی امارت سے فارغ ہونے کے بعد ادارہ معارف اسلامی میں ذمہ داریاں سنبھالنے کا حکم ملا تو ادارے کے رفقا نے ادارے میں ہی ایک مختصر اور پروقار تقریب بعنوان خیرمقدمی استقبالیہ ترتیب دی۔ اس میں دیگر احباب کے علاوہ جنرل انصاری صاحب بھی شریک تھے۔ انہوں نے اس موقع پر سورہ انفطار کی تلاوت فرمائی تو سوزوگداز نے ایک سماں باندھ دیا‘ جس کا لطف مجھے آج بھی محسوس ہوتا ہے۔
جنرل صاحب اور میرا دفتر ایک دوسرے سے بالکل ملحق تھے‘ اس لیے ان کی زندگی کے آخری ایام میں ان سے خاصا قریبی تعلق رہا۔