نیل کنارے کا شہید - پروفیسر جمیل چودھری

اس مضمون میں اپنے الفاظ کم اورعظیم دینی سکالروں کے الفاظ زیادہ استعمال کرونگا۔عظیم شہید کودنیا کے بڑ ے بڑے سکالروں نے اونچی سطح سے بہت ہی خوبصورت الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیاہے۔کچھ ان میں ایسے ہیں جو بعد میں خود بھی شہادت کے رتبے پرفائض ہوئے۔یہ وہ لوگ تھے۔ جنہوں نے اپنے عظیم قائد کو سناتھا۔

انکی صحبتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ان کو مصر کے شہروں کے ساتھ ساتھ دوردراز دیہاتوں میں قرآنی پیغام پہنچاتے دیکھاتھا۔ان کوخراج عقیدت پیش کرنے والے ایسے سکالر ہیں جو بعد میں خود بھی مینارہ نور ثابت ہوئے۔قائد محترم حسن البناء1906ء میں پیداہوئے اور1949ء میں انہیں رات کی تاریکی میں ایک سٹرک پرچلتے ہوئے گولیوں سے بھون دیاگیا۔لاش جب گھرپہنچی توباطل کی طرف سے حکم یہی تھا کہ جنازہ کااعلان نہیں کرنا۔مسجد تک کندھا دینے والے انکے والد محترم عبدالرحمن لبناء اور شہید کی بیٹیاں تھیں۔دوستو۔آسمان نے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھاتھا۔قبرستان پر بھی پہرہ تھا۔ان کو قرآنی دعوت پھیلانے کے لئے صرف 21۔سال کامختصر ساعرصہ ملاتھا۔تعلیم کے مکمل ہونے پرہی انہوں نے داعی اسلام بننے کااعلان کردیاتھا۔

اسماعیلیہ میں ملازمت اور دعوت اسلام اکٹھی شروع ہوگئی تھی۔شہروں کے کالج،یونیورسٹیاں ،کلب اور کھیل کے میدان وہ کسی بھی جگہ جانے سے ہچکچاتے نہیں تھے۔اور مصر کے دیہات جودوردراز صحراؤں میں واقع تھے۔تمام کے تمام ان کی دعوت کی دسترس میں تھے۔تعداد 2۔ہزار بتائی جاتی ہے۔اور کئی دیہاتوں میں انہوں نے اپنا پیغام 2۔دفعہ پہنچایا۔اپنے ساتھیوں کو صرف دینی تربیت نہیں بلکہ جہاد کی تربیت بھی دی۔1948ء کی جنگ فلسطین میں ان کے مجاہدوں کے جوہر دنیا پر واضح ہوگئے تھے۔اس کے بعد میں اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ اور خیالات کی جگہ اخوان کے ایک دوسرے عظیم سکالر سید قطب کے خیالات پیش کرتا ہوں۔"تاریخ اسلام میں لاتعداد داعی نظر آتے ہیں۔

لیکن دعوت وتشہیر ایک چیز ہے اور تعمیر بالکل دوسری بات ۔ہرداعی معمار نہیں ہوسکتا اورہرمعمار بھی یہ عبقریت اورعظمت نہیں پاسکتا۔یہ عظیم الشان عمارت جسے اخوان المسلمون کہتے ہیں۔اسی تعمیر و عبقریت کا ایک مظہر ہے۔یہ لوگ کوئی ایسا گروہ نہیں ہیں۔کہ خطیب نے ان کے جذبات کوگرمادیاہو۔انکے احساسات بیدار کردیئے ہوں اور وہ کسی سطحی سوچ کے تحت کسی عارضی ہدف کے گرد جمع ہوگئے ہوں۔اخوان وہ عمارت ہیںکہ تعمیر کی خوبی واستحکام اس کے ایک ایک زاویے سے اجاگر ہوتی ہے۔اسرہ جات،شعبہ جات،علاقہ جات،تنظیمی مراکز اورمکتب ارشاد اپنی مثال آپ ہیں۔حسن البنا کی عبقریت کاایک اور پہلو مختلف النوع شخصیات ونفوس کواکٹھا کرلینے میں نمایاں ہوتا ہے۔

یہ قدسی نفوس مختلف علاقوں سے آئے تھے۔مختلف معاشرتی پس منظر رکھتے تھے۔مختلف ذہنی استعداد کے مالک تھے۔لیکن ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے تھے۔سب کی ایک ہی پہچان ،سب کا ایک ہی رجحان،چوتھائی صدی کے اندر یہ سب مختلف خیال افراد ایک اکائی کی حیثیت اختیار کرگئے۔یہ جدوجہد اپنے عروج پہ تھی کہ حسن البنا اپنے رب کے حضور پیش ہوجاتے ہیں۔لیکن اس کے بعد عمارت کی بنیادیں ہلی نہیں بلکہ مزید مستحکم ہوگئیں"حسن البناء شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے والے سید قطب ایک بڑی تفسیر"فی ظلال القرآن"کے مولف تھے۔انکی اور بھی معروف کتابیں ہیں۔فرعون مصر جمال عبدالناصر نے انہیں 29۔اگست1966ء کو پھانسی پر لٹکادیا۔اس کے بعد ہم جسٹس عبدالقادر عودہ کے الفاظ مستعار لیتے ہیں۔"12۔فروری1949ء کو حسن البناء رات کے وقت خون میں لت پت اپنے رب کریم سے جاملے۔آپ نے اقامت دین کے راستے میں حائل بتوں کوپاش پاش کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔

آپ نے مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کی صحیح تصویر جاگزیں کرنے،ان کے دلوں میں اسے راسخ کرنے،عملی زندگی میں انہیں اسلام کے تابع فرمان بنانے اور اسلام کی بالادستی قائم کرنے کی راہ میں جام شہادت نوش کیا۔حسن البناء نے جن بتوں کوپاش پاش کرتے ہوئے شہادت کامرتبہ پایاان میں سے سرفہرست عصر حاضر کے وہ بت ہیں کہ جنہیں لوگوں نے اﷲ کوچھوڑ کر اپنامعبود بنارکھا تھا۔اور وہ اﷲ کی نافرمانی کرتے ہوئے دولت و اقتدار کے کروفر،رسم ورواج کے چنگل یامذہبی فریب کاری سے متاثر ان بتوں کے سامنے ماتھا ٹیکتے ہیں۔حسن البناء نے نہ تو کوئی جنگ چھیڑی تھی اور نہ وہ بغاوت کے مرتکب ہوئے تھے۔وہ ایک نہتے انسان تھے۔ان کے پاس صرف حق کاہتھیار تھا۔لیکن یہ ان کی سرشت میں نہ تھا کہ و ہ لوگوں پرچڑھ دوڑیں۔

وہ حکیمانہ انداز سے لوگوں کو اپنی طرف بلاتے تھے۔ایسے کام کی طرف جن میں سراسر انکی دنیا وآخرت کی بھلائی تھی۔اور اس پکار میں لوگوں کی خوش بختی کاسامان تھا۔بے شک اخوان المسلمون کے محترم قائد کوقتل کردیاگیا۔انکے ساتھیوں میں کئی قتل ہوئے۔بہت سے ستائے گئے۔آزمائے گئے۔لیکن یہ سب کچھ انہیں اﷲ تعالیٰ کی طرف دعوت سے پھرانہ سکے۔بلکہ ان کے ایمان وثابت قدمی اضافے کاسبب بنے۔حسن البناء شہید اسلام ہیں۔جنہوں نے اذہان میں اسلام کی تجدید کو زندہ کیا۔مسلمانوں کے مردہ دلوں میں زندگی کی روح پھونکی۔انہیں خواب غفلت سے بیدار کیااور انہیں اپنی آزادی اورناموس دین وملت کی حفاظت کے لئے ابھارا۔"یہ جسٹس عبدالقاد رعودہ کے الفاظ تھے۔انہیں مختصر کرکے پیش کیاگیاہے۔

یہ مصری ہائی کورٹ کے جج رہے تھے۔جمال عبدالناصر نے اس عظیم جج کو بھی پھانسی پرلٹکا دیاتھا۔ اسی وقت پھانسی پرلٹکنے والے کچھ دیگر مردان مجاہد بھی تھے۔آیئے اب ہم دیکھتے ہیں کہ حسن البناء تحریک پاکستان اور قائداعظم کوکس نظر سے دیکھتے ہیں۔لندن سے واپس آتے ہوئے قائد اعظم کچھ دنوں کے لئے قاہرہ میں رکے۔اخوان المسلمون کے ذمہ داران نے انکا استقبال کیا۔16دسمبر تا19دسمبر1946ء کے دوران امام حسن البناء کی قائد اعظم سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔حسن البناء نے تحریک پاکستان کی تائید اور تحسین کی۔اور انہیں قرآن کریم کا ایک خوبصورت نسخہ تحریک پاکستان کی تائید کے لئے بطور ہدیہ پیش کیا۔(یہ نسخہ اب بھی مزار قائد اعظم کے میوزیم میں موجود ہے)مفتی اعظم فلسطین محمد امین الحسینی بھی قاہرہ میں ہونے والی ملاقاتوں میں شریک ہوئے تھے۔ایک ملاقات عرب لیگ کے سیکرٹری عزام صاحب کے گھرہوئی تھی۔جہاں حسن البناء ،قائد اعظم اور لیاقت علی خان بھی تھے۔اخوان المسلمون تحریک پاکستان کی زبردست حامی تھی۔جب14۔اگست1947ء کو پاکستان قائم ہوگیا۔توقاہرہ سے حسن البناء نے مبارک باد کاپیغام بھیجا۔

قاہرہ14۔اگست1947
عزت مآب محمد علی جناح

آج کے اس تاریخی اور ابدیت کے حامل دن کہ جب دانش وحکمت پر مبنی آپ کی قیادت میں پاکستان کی اسلامی ریاست کاقیام عمل میں آیا ہے۔میں آپ کودل کی گہرائیوں سے مبارک باد اورنیک تمنائیں پیش کرتاہوں۔یہ مبارک باد وادی نیل کے سپوتوں اور بالخصوص اخوان المسلمون کے دلی جذبات کی حقیقی عکاس اورنمائندہ مبارک باد ہے۔

حسن لبناء ۔قاہرہ

جب پاک وہند میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے اس وقت بھی حسن البناء دونوں اطراف کے لیڈروں کو امن قائم کرنے کی بات کہتے رہے۔امام حسن لبناء کارابطہ مولاناشبیر احمد عثمانی سے بھی رہا۔اور وہ پاکستان کے لئے اپنی تائید وحمایت کااظہار کرتے رہے۔قیام پاکستان کے فوراً بعد بھارت کے مسلمانوں پرہندوں اورسکھوں نے جوبہیمانہ مظالم کئے۔ان پر مسلمانوں سے اظہار یکجہتی اور اظہار ہمدردی کی غرض سے حسن البناء نے قائداعظم کے نام حسب ذیل ٹیلی گرام بھیجا۔

قاہرہ۔31۔اگست1947ء

جناب قائداعظم محمد علی جناح

مسلمان ہند کے بہنے والے خون پراخوان المسلمون گہرے رنج وغم کاشکار ہیں۔ہم اپنے تمام فوت شدگان کے لئے شہادت اورانکے اہل خانہ کے لئے صبرجمیل کی دعاکرتے ہیں۔ہم نے ماؤنٹ بیٹن،نہرو،اورگاندھی کے نام بھی فوری تارارسال کئے ہیں۔اورانہیںمسلمانوں پرہونے والی اس زیادتی کو روکنے میں غفلت برتنے کاذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ہم دل کی گہرائیوں سے آپ کے ساتھ ہیں۔اور عملاً آپ کے شانہ بشانہ ہیں۔اس ضمن میں ہم نے اپنے ہاں موجود سفارتی حلقوں تک بھی اپنے جذبات پہنچائے ہیں۔یقینا صبراور ثابت قدمی کامقدر فتح ونصرت ہواکرتی ہے۔

من جانب۔حسن البناء

ان تاروں اورخطوط سے تحریک پاکستان کے ساتھ کھلم کھلا ہمدردی کااظہار ہوتا ہے۔یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حسن البناء صرف اپنے ملک مصر پر ہی نہیں بلکہ تمام عالم اسلام پرنگاہ رکھے ہوئے تھے۔ہم آخر میں رابرٹ جیکسن وقائع نگار نیویارک کرونیکل نے جس عقیدت کااظہار کیا ہے اس کا تذکرہ کرنابھی ضروری سمجھتے ہیں۔رابرٹ جیکسن حسن البناء کو 1946ء میں ملاتھا۔اس وقت تک اخوان المسلمون کی آواز مغرب میںبھی پہنچ چکی تھی۔جب رابرٹ جیکسن ملنے آئے تو5۔لاکھ لوگ حسن البناء کے حلقہ ارادت میں آچکے تھے۔رابرٹ نے ملتے ہی کہاکہ یہ وہ شخص ہے جومشرق کومتحد کرکے اس کاوجود لوٹا سکتا ہے۔جب مشرق اس خواہش میں جی رہا تھا۔تو اس شخص کاوجودمٹا دیاگیا۔مشرق کے اندر یہ سکت نہیں ہے کہ کوئی ہیرا اس کے ہاتھ لگ جائے اوروہ اسے سنبھال سکیں۔اور اسکی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں۔اس کی شخصیت جازب نظرتھی۔وہ جامع گفتگو کرتا۔حالانکہ اسے عربی کے علاوہ کوئی اور زبان نہیں آتی تھی۔

رابرٹ اور حسن البناء کی ملاقات کے وقت اخوان کے انگریزی جاننے والے ساتھی اسے اخوان کے مقاصد سمجھانے کی کوشش کرتے رہے۔حسن البناء خاموش بیٹھے رہے۔حسن البناء اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا اس (رابرٹ جیکسن) سے یہ پوچھیں کہ کیا اس نے محمدﷺ کوجانا اور پڑھا ہے۔رابرٹ نے جواب دیاکہ ہاں حسن البناء نے کہا ہم وہی محمدﷺ والا کام کررہے ہیں۔رابرٹ جیکسن نے واپس امریکہ جاکرلکھا کہ مجھے قوی امید تھی کہ یہ شخص عوامی لیڈر شپ پر چھاجائے گا۔مصرکی حد تک نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں۔پھر اسکی کہی ہوئی بات پوری ہوئی۔اس نے اپنے رسالہ میں لکھا کہ میں نے اس کی تحریک کاموازنہ،محمد بن عبدالوہاب،السنوسی،محمد احمد المہدی،جمال الدین افغانی اورمفتی محمد عبدہ سے کیا۔

حسن البناء نے ان تمام بزرگوں کی اچھی باتوں کواخذ کیااور انکی غلطیوں کوچھوڑ دیا۔انہوں نے جمال الدین افغانی اور مفتی محمد عبدہ کے طریق کار اکٹھا کردیا۔رابرٹ جیکسن دیکھ چکے تھے کہ اس نے جنگ فلسطین اورجنگ نہرسویز میں اہم رول اداکیاتھا۔حسن البناء نے اپنے آپ کو زر،زن اورجاہ و حشمت سے بچائے رکھا۔اس نے کم عمری میں ہی شادی کرلی تھی۔اس نے حضرت عمرؓ کی طرح مادی فوائد سے اپنے اہل خانہ کودوررکھا۔حسن البناء کے پروگرام سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی احیاء کاپروگرام ہرلحاظ سے مکمل ہوتا ہے۔اس میں جز کاری اور رفوگری کی گنجائش نہیں ہوتی۔رابرٹ کے مطابق حسن البناء کی سوچ میںلچک تھی۔فکرمیں حریت تھی۔ان کی روشن روح تابناک تھی اور گہرائیوں میں ایمان کی غالب اورمضبوط قوت اتری ہوئی تھی۔اس کے اندرانکسار تھا۔

اس کی نظر پاکیزہ تھی۔اسکی زبان بھی پاکیزہ تھی۔اسکا قلم بھی پاکیزہ تھا۔رابرٹ کی رائے کویہیں ختم کرتے ہیں۔حسن البناء نے سرکاری ملازمت ترک کردی تھی۔تب ایک بڑے اخبار کی طرف سے ایڈیٹرشپ کی پیشکش ہوئی۔لیکن انکا رکردیاگیا۔جب کسی نے سوال کیا کہ آپ کیاکھاتے ہیں۔اس نے بڑی سادگی سے جواب دیا۔"محمد خدیجہؓ کے مال میں سے کھاتے تھے۔میں خدیجہ کے بھائی کے مال میں سے کھاتاہوں"حسن البناء نے شہروں اوردیہاتوں کاسفر کیا۔ٹرین،بسیں،اونٹ اورکشتیوں پرسفرکرتے رہے اور قرآنی دعوت پہنچاتے رہے۔مصر کاشاید ہی کوئی گاؤں ہو۔جہاں انہوں نے قرآن کاپیغام نہ پہنچایا ہو۔دوستو۔21۔سال کے عرصے میں پورے مصر میں اسکی دعوت قرآنی کاچرچا ہوگیاتھا۔

اخوان المسلمون ایک متحد طاقت بن گئے تھے۔باطل ڈرگیا۔اور سازش تیارکرلی گئی۔اور43سال کی عمر میں ہی انہیں شہید کردیاگیا۔ان کے بعد کئی حضرات تختہ دارپر لٹکائے گئے ان کے بعد کئی حضرات" مرشد عام"مقرر ہوتے رہے۔تحریک اب بھی زندہ ہے۔2011ء میں محمد مرسی کوعوام نے اپنے ووٹوں سے صدر چنالیکن آمرانہ سوچ کی فوج صرف ایک سال ہی اسے برداشت کرسکی۔چند ماہ پہلے وہ ایک قیدی کے پنجرے میں ہی شہید ہوگئے۔باطل قوتیں اخوان کومٹانے کی جتنی مرضی کوششیں کرلیںلیکن مصر کا مستقبل اخوان المسلمون ہی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */