سلطان قابوس - فیض اللہ خان

سلطان قابوس کا یہ کمال کم ہے کہ امت میں فتنہ ڈالنے والے " خوارج " کو انسان کا بچہ بنادیا ۔۔۔۔ یہ بھی خوبصورتی ہے کہ اپنے پچاس برس کے اقتدار میں آس پڑوس میں کوئی شیطانی کھیل کھیلے نہ ہی کسی سازش کا حصہ بنے {ایران امارات و سعودی عرب کی طرح } اپنے لوگوں کی فلاح پہ توجہ دی بقیہ بطور انسان خامیوں سے کون پاک ہوسکتا ہے ؟؟؟ بلاشبہ اسرائیل سے انکے تعلقات تھے لیکن صرف اس بنیاد پہ انہیں راندہ درگاہ نہیں کیا جاسکتا عالمی سیاست کی کچھ مجبوریاں بھی ہوتی ہیں اور پھر یہ تعاون قطعا ایسا نہیں کہ سلطان نے اس بنیاد پہ کسی دوسری مسلم ریاست میں تباھی پھیلائی ہو ۔۔۔۔

میں زندگی میں ایک بار ہی مسقط گیا اور وہ بھی صرف ائِرپورٹ تک محدود رہا ، برطانیہ سفر کے دوران جب وہاں رکنا پڑا تو میرا بچہ چار چھے ماہ کا تھا جب پرواز کا وقت آیا تو یقین مانیں کہ انکا ائیر پورٹ عملہ خود چل کر آیا اور کہا کہ آپ کو قطار میں لگنے کی ضرورت نہیں وہیں کرسی پہ ہم بیٹھے رہے اور اہلکاروں نے فیملی کے کاغذات پہ ٹھپے وغیرہ لگا کر قطار سے آگے کرکے جہاز میں بھیجا { گود والے بچوں کی ساری فیملیز کیساتھ یہی عمل کیا گیا } ۔۔۔ سعودی عرب و امارات کے ہوائی اڈوں پہ موجود نودولتئِے کس رعونت کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ بتانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔ اس مختصر سے تعارف کے بعد عمان کے لوگوں کی قدر خوب دل میں رہی ۔۔۔سلطان قابوس ویسے ہی اقتدار میں آئے جیسا کہ زیادہ تر مسلمان بادشاہ آتے رہے ہیں مگر اچھی بات یہ رہی کہ خون خرابہ نہ ہوا بڑی سافٹ قسم کی بغاوت تھی اور سچی بات یہ ہے پچاس برس کے بعد بغاوت کے نتائج بتاتے ہیں کہ سلطان کا فیصلہ خاصا درست تھا حالانکہ تھا اپنے ہی والد کے خلاف ۔۔۔۔ خدا سلطان کو غریق رحمت کرے ۔ ان سے کوئی نظریاتی ہم آھنگی نہ ہونے باوجود دل سے دعا نکلتی ہے ، بلاشبہ ایسے حکمران سو برس بھی حکومت کریں تو کسی کو اعتراض نہیں ہوتا ورنہ، شاہ عبد اللہ ، حسنی مبارک ، سیسی ، بشار ، صدام اور قذافی وغیرہ کی مثالیں سامنے ہیں جن سے نفرت رکھنے والوں کی کمی نہیں دوسری طرف شاہ فیصل شہید اور قابوس جیسے سلطان ہیں جنہیں اختلاف کے باوجود نہایت احترام سے یاد کیا جاتا ہے ۔۔۔خدا اہل عمان کو سلامت رکھے ، اپنے پرامن بااخلاق اور خوشحال بھائیوں کو دیکھ کر مسرت کا احساس ہوتا ہے ۔۔۔

Comments

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان 11 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ طالبان سے متعلق اسٹوری کے دوران افغانستان میں قید رہے، رہائی کے بعد ڈیورنڈ لائن کا قیدی نامی کتاب لکھی جسے کافی پذیرائی ملی۔ اے آر وائی نیوز کے لیے سیاسی، سماجی، عدالتی اور دہشت گردی سے متعلق امور پر کام کرتے ہیں۔ دلیل کے ساتھ پہلے دن سے وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.