عراق میں ایک سید گھرانہ تھا

گھر میں ایک سید زادی اور اس کے بچے تھے خاوند کا انتقال ہوچکا تھا۔سید زادی بچو کو ساتھ لئے روزی اور پناہ کی تلاش میں عراق سے ثمر قند آگئی۔ثمر قند آ کر سید زادی نے لوگوں سے دریافت کیا کہ شہر میں کون زیادہ سخی ہے جو ہم کو پناہ دے دیں۔لوگو نے بتایا کے شہر میں دو ہی سخی ہیں ایک حاکم وقت جو مسلمان ہے دوسرا پادری ہے جو آگ کی عبادت کرتا ہے۔

سید زادی نے سوچا کے پادری تو مسلمان نہیں وہ کیا پناہ دے گا۔حاکم کے پاس چلتے ہیں سید زادی بچوں کو لے کر مسلمان حاکم کے پاس آئی اور کہنے لگی میں آل رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ہوں میرے خاوند کا انتقال ہوگیا ہے۔میں بے بس ہوں مجھے پناہ چاہئیے حاکم وقت نے جواب دیا تہمارے پاس کوئی ثبوت کوئی سند ہے کہ تم آل رسول ﷺ ہو آج کل ہر کوئی کہتا ہے کے میں سید ہوں۔سید زادی نے جواب دیا میرے پاس تو کچھ بھی نہیں آپ کو دیکھانے کے لئےحاکم وقت بولا میرے پاس کوئی پناہ نہیں ایرے غیرے کے لئےجواب ملنے پر سید زادی پادری کے دروازے پے آئی۔سید زادی نے بتایا کے میں سید زادی ہو آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوں۔میرا خاوند انتقال کر گیا ہے میرے ساتھ میرے بچے بھی ہے مجھے پناہ چاہئیے۔

پادری نے اپنی بیوی کو آواز دی ان کو عزت کے ساتھ گھر لے آو پادری نے سید زادی اور اسکے بچو کو کھانا کھلایا رہنے کہ لئے چھت دی۔آدھی رات ہوئی حاکم وقت جب سو گیا تو خواب میں حضور ﷺ کو ایک سونے کے محل کے سامنے تشریف فرما دیکھا۔حاکم وقت نے پوچھا حضور ﷺ یہ کس کامحل ہے آپ ﷺ نے فرمایا یہ ایک ایمان والے کا گھر ہے حاکم وقت کہنے لگا میں بھی ایمان والا ہوں۔آپ ﷺ نے فرمایا تیرے پاس ایمان کا کوئی ثبوت کوئی سند ہے تو دکھا دو۔حاکم وقت کانپنے لگا۔

آپ ﷺ نے فرمایا میری بیٹی تیرے پاس آئی تو نے اسے سند مانگی دور ہوجا میری نظروں سےحاکم وقت جب بیدار ہوا اپنے بال نوچنے لگا پچھتانے لگا جلدی سے ننگے سر پاوں پادری کے گھر پر آدھی رات کو دستک دی۔پادری جب باہر آیا حاکم وقت کہنے لگا تو وہ مہمان مجھے دے دیں۔میں تجھے تین سو دینار دیتا ہوں پادری نے کہا تم مجھے ساری دنیا کی دولت بھی دو تب بھی نہیں اور جو تم خواب دیکھ کر آئے وہی خواب میں نے بھی دیکھا ہے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اپنی نظروں سے دور کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے میری بیٹی کو سر ڈھانپنے کے لیے جگہ دی اور کھانا کھلایا آج میں نے تمہیں اور تمہارے خاندان کو بخش دیا۔میرا سارا خاندان کلمہ پر ایمان لا چکا ہے جناب رسول ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے پادری تم نے میری بیٹی کو پناہ دی۔جا تہمارا سارا خاندان جنتی ہے ۔پادری نے حاکم وقت سے کہاجا چلا جا دیکھے ہوئے اور اندیکھے میں بہت فرق ہوتا ہےمیں نے بند آنکھوں کا سودا کیا۔