قائد بابا - اجمل بھٹی

25 دسمبر 1876 کا سورج قائداعظم محمد علی جناح کے خاندان کے لئے تو خوشیوں کا پیغام لے کر آیا لیکن وہ دن برصغیر کے مسلمانوں کے لئے بھی خوش بختی اور مسرت و شادمانی کی نوید لایا کیو نکہ اس دن اس عظیم رہنما نے دنیا میں آنکھ کھولی جو کہ بعد میں برصغیر کے مسلمانوں کا نجات دھندہ ٹھہرا جس نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑی قوم کو آزادی کی صبح پر نور سے روشناس کرایاپہلے پہل وہ ہندئووں اور مسلمانوںکے مشترکہ حقوق کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔اس بنا ء پر انہیں ہندو مسلم اتحاد کا سفیر بھی کہا جانے لگالیکن جلد ہی انہیں انگریزوں کی جانبداری اور ہندئووں کی عیاری کا ادراک ہو گیانہرو رپورٹ کی اشاعت نے ان پر اصل حقیقت آشکار کر دی اور پھر انہوں نے مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کے قیام کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا1936؁ء میں مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے کے بعد انہوں نے ہندوستان کے طول و عرض کے طوفانی دورے کیے اتحاد، ایمان اور تنظیم پر یقین رکھنے والے قائداعظم محمدعلی جناح تھوڑے ہی عرصہ میں برصغیر کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں کامیاب ہو گئے لے کے رہیں گے پاکستان ،بن کے رہے گا پاکستانـ، کے نعرے چہار طرف گونجنے لگے ان کی شخصیت و کردار کو داغدار کرنے کی لیے طرح طرح کے الزامات لگائے گئے اور کئی قسم کی سازشیں کی گئیں لیکن وہ ان سب سے بے نیاز اپنے مقصد کے حصول کے لئے کوشاں رہے اور بالآخر14 اگست 1947 کو قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت اور ان کے جانثار ساتھیوں کی انتھک کاوشوں سے مسلمانوں کے لئے پاکستان کی صورت میں ایک علیحدہ مملکت معرض وجود میں آ گئی۔

یہ اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم اور ہمارے اسلاف کی بے پناہ قربانیوں کانتیجہ ہے کہ آج ہم ایک آزاد وطن میں سانس لے رہے ہیںقائداعظم پوری دنیا پر حکمرانی کرنے والے انگریز سامراج سے وطن کی آزادی کی جنگ جیت گئے لیکن قیام پاکستان کے ایک سال بعد ہی زندگی کی بازی ہار گئے اور یوں انہیں اس نوزائیدہ مملکت کی پرداخت کرنے کا موقع نہ مل سکا وزیراعظم لیاقت علی خان نے ملک کی صورت حال کو سنبھالا دینے کی کوشش کی لیکن 1951 ؁ء میں انہیں شہید کر دیا گیاپہلے ہی بہت سی قوتیں پاکستان کے قیام سے ناخوش تھیں اوراب انہیں دیگر مفاد پرست عناصر سے مل کر کھل کھیلنے کا موقع مل گیا اور پھر اقتدار پرقبضہ جما کر وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں ہو گئے زرعی اصلاحات نافذ ہو سکیں اور نہ ہی معیشت کی سمت درست ہوسکی تعلیمی پالیسی کے نام پرنت نئے تجربات شروع ہوگئے اعلٰی عہدوں پر من پسند افرادکو تعینات اور قومی خزانے کو ریوڑیوں کی طرح بانٹا گیاہر با اثر شخص حصہ بقدر جثہ وصول کرنے لگا اور یوں ملک کو آئی-ایم- ایف جیسے ساہوکار اداروں کے ہاتھوں گروی رکھ دیا گیا اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے اسی لیے تو آج پاکستان بری طرح قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
قائد بابا۔۔ آپ نے ہمیںکیسی آزادی دلوائی کہ آج72 سال گزرنے کے بعد بھی ہم فکری طور پر آزاد نہیں ہم آزاد خارجہ پالیسی بناسکتے ہیں اور نہ ہی دفاعی حکمت عملی۔

یہ بھی پڑھیں:   5 فروری کشمیر یوں کی آواز بننے کا دن - محمد عنصر عثمانی

تعلیم و صحت تو درکنار پٹرول، گیس اور بجلی بھی ہمارے قابو سے باہر ہیںزراعت کا بھٹہ پہلے ہی گول ہو چکا ہے اب سیاحت و معدنیات بھی ہمارے ہاتھوں سے نکلتی جارہی ہیں۔ ہماری معیشت عالمی مالیاتی اداروں کی مرہون منت اور دولت چند ہاتھوں میں مرکوز ہو کر رہ گئی ہے دہشت گردی و انتہا پسندی کا عفریت ملکی سالمیت کو نگل رہا ہے۔ لسانیت، صوبائیت اور فرقہ واریت کا زہر پورے ملک میں پھیل رہا ہے۔ سیاست پر چند خاندانوں کا قبضہ ہے اور وہی ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ بابا ۔۔آپ نے پاکستان اس لیے بنایا تھا کہ یہاں تمام لوگ ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کریں گے اور ملکی تعمیر وترقی اور خوشحالی کے لیے ایک دوسرے کے دست و بازو بنیں گے لیکن یہاں تو صورت حال بالکل الٹ ہے مذہب کے نام پر گلے کاٹنا، مزار ، مساجد، مندر اور چرچوں پر حملے کرنا غیرت ایمانی کاتقاضا سمجھا جاتا ہے بم دھماکوں ، خود کش حملوں، فائرنگ اور قتل و غارت گری نے عوام کو نفسیاتی مریض بنا کر رکھ دیا ہے غربت کی ستائی مائیں لخت جگر اٹھائے نہروں میں کود رہی ہیں فیس نہ ہونے کے باعث باپ بچوں کو گولیاںمارنے کے بعداپنی زندگی کا خاتمہ کر رہے ہیں تعلیم یافتہ نوجوان نوکریاں نہ ملنے کے باعث ڈگریوں کو آگ لگا رہے ہیں چند سر پھرے کلاشنکوف اٹھا کر چوری و ڈکیتی کی راہ اپنا چکے ہیں۔

ْقائد بابا ۔۔آپ کے رفیق علامہ اقبال نے فرمایا تھا ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا، دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا شاید اسی وجہ سے آپ نے برصغیر کے مظلوم و مجبور مسلمانوں کو آزادی دلائی لیکن یہاںتو نظام ہی بدل گیا ہے لٹیروں ، ڈاکوئوں، اور رسہ گیروں کی حمایت کی جاتی ہے جبکہ دردمندوں ، ضعیفوں اور غریبوں کی مدد تو درکنار ان پہ عرصہ حیات تنگ کرنا ہر بالادست کا وطیرہ بن چکاہے۔ بابا۔۔۔آپ نے پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور مضبوط دفاع کا خواب دیکھا تھا ہم اس خواب کو صحیح معنوں میں شرمندہ تعبیر تو نہ کر سکے البتہ میزائل ٹیکنالوجی اور ایٹم بم بنا کر پاکستان کو ملت اسلامیہ کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ضرو ر بنا دیا ہے یہ کیسے اور کیونکر ہوا اس سب سے قطع نظر یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ تمام تر رکاوٹوں اور سازشوں کے باوجود ہم یہ سنگ میل عبور کر چکے ہیں آہوں ،سسکیوں ،درد و الم اور محرومیوں کے اس سفر میں یہی ایک قابل ذکر پیش رفت ہے جو کہ ہمارا سرمایہ ہے۔ قائد باباہم شرمندہ ہیں۔۔۔۔ آپ نے ہمیں پاکستان کا تحفہ تو دے دیا لیکن ہم اس تحفے کی صحیح قدرومنزلت نہیں کرسکے یہاں تو سب اپنی خواہشات اور مفادات کے اسیر ہیںدولت و ہوس کے پجاری ملکی وسائل کو گدھ بن کر نوچ رہے ہیں ایسے میں آزاد اور خوشحال پاکستان کا خواب کس طرح شرمندہ تعبیر ہوگا؟ تبدیلی اور نئے پاکستان کے نعروں کی گونج بھی فضاؤں میں سنائی دے رہی ہے قائد کا پاکستان بنانے کے راگ بھی الاپے جارہے ہیں قائد ثانی کہلانے کے دعویدار تو بہت ہیں مگرقائداعظم محمد علی جناح کی جانشینی کا صحیح حق اد اکرنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں حسرت ویاس کے ان اندھیروںمیں امید کی اک کرن ہے جو سات دہائیوں سے اگلی نسل کو منتقل ہوتی چلی آرہی ہے۔