زندگی سے ڈرتے ہو؟ طوبیٰ ناصر

زندگی تو تم بھی ہو‘ زندگی تو ہم بھی ہیں

آدمی سے ڈرتے ہو؟

آدمی تو تم بھی ہو، آدمی تو ہم بھی ہیں

آدمی زبان بھی ہے، آدمی بیاں بھی ہے

اس سے تم نہیں ڈرتے!

حروف اور معنی کے رشتہِ ہائے آہن سے

آدمی ہے وابستہ

آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ

اس سے تم نہیں ڈرتے!

اِن کہی‘سے ڈرتے ہو‘

جو ابھی نہیں آئی، اُس گھڑی سے ڈرتے ہو

اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو

پہلے بھی تو گزرے ہیں

دور نارسائی کے، بے ریا خدائی کے

پھر بھی یہ سمجھتے ہو، ہیچ آرزومندی

یہ شبِ زباں بندی ہے رہِ خداوندی

تم مگر یہ کیا جانو

لب اگر نہیں ہلتے، ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں

ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں، راہ کا نشاں بن کر

نور کی زباں بن کر

ہاتھ بول اٹھتے ہیں، صبح کی اذاں بن کر

روشنی سے ڈرتے ہو؟

روشنی تو تم بھی ہو، روشنی تو ہم بھی ہیں

روشنی سے ڈرتے ہو

شہر کی فصیلوں پر

دیو کا جو سایا تھا پاک ہو گیا آخر

رات کا لبادہ بھی

چاک ہو گیا آخر، خاک ہو گیا آخر

اژدھامِ انساں سے فرد کی نوا آئی

ذات کی صدا آئی

راہِ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکے

اک نیا جنوں لپکے

آدمی چھلک اٹھے

آدمی ہنسے ۔۔۔
دیکھو، شھر پھر بسے ۔۔۔ دیکھو

تم ابھی سے ڈرتے ہو؟جب ن م راشد کی یہ نظم پڑھی تو مجھے بھی ڈر لگا کے میں نے بھی جب ایک پڑھے لکھے طبقے کو ایک پاگل ،بے لگام جانور کی طرح لڑتے دیکھا تو انسان سے ڈر لگا،اسے انسان کہتے ہوئے ڈر لگا۔ جانور بے لگام ہو جائے تو اسے مار دیا جاتا ہے،آدمی بے لگام ہو جائے تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے؟کالے کوٹ اور سفید کوٹ کی جنگ میں بھول گئے کے شعبے کا نام لگنے سے پہلے انسان ہونے کا مان ملا تھا ایسا مان کے اللہ پاک نے فرشتوں سے کہا سجدہ کرو میں نے انسان کو بنایا ہے جو دنیا میں میرا خلیفہ بن کر زندگی گزارے گا اور میں انسانوں کے غول میں اللہ کے خلیفہ کو ڈھونڈتی ہی رہ گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   زندگی بامقصد بنالیں- امیرجان حقانی

میں نے دیکھا تو انسان انسان کا گریبان پکڑے کھڑا تھا تب مجھے انسان سے پھر ڈر لگا۔ میں نے سفید کوٹ پہنے ایک آدمی کو کسی دوسرے کا مذاق اڑاتے دیکھا تو مجھے اس آدمی سے ڈر لگا جو اپنے انسان ہونے کو نہیں پہچانا، مجھے اس سفید کوٹ سے ڈر نہیں لگا کے وہ تو ایک مسیحا کا تھا جس کو تو زخم پر مرہم رکھنے والے پہنا کرتے ہیں اور وہ مسیحا آج بھی ہیں کے کسی ایک انسان کے اپنے آپ کو نہ پہچاننے سے سب انسان تو ایک جیسے نہیں ہو جایا کرتے۔ میں نے وہی کوٹ پہنے کتنے ہی ہاتھوں کو زخموں پر مرہم رکھتے دیکھا تو مجھے ان انسانوں سے ڈر نہیں لگا کے وہ تو انسانیت کی پہچان تھے۔

میں نے کالے کوٹ میں ایک انسان کو ڈنڈا اٹھائے توڑ پھوڑ کرتے دیکھا تو مجھے اس انسان سے ڈر لگا اس کوٹ سے ڈر نہیں لگا کہ وہ کوٹ تو میرے ملک کے قانون کی پہچان ہے اسی کی ہی وجہ سے مظلوموں کو ان کا حق اور ظالم کو سزا ملتی ہے۔ہاں! مجھے اس آدمی کے اپنے منصب کے بھول جانے سے ڈر لگا کے جب جب انسان اپنا مقام اور منصب کو بھول گیا وہ بھٹک گیا اور انسانیت کی راہ سے ہٹ گیا۔

میں اپنے ملک اس صورتحال سے ڈر گئی لیکن مایوس نہیں ہوئی کے ہمارے پاس ابھی بھی وقت ہے، ہمارے پاس ابھی بھی انسانیت کا نسخہ ہے جو ہمیں اپنے رب کے سامنے مایوس نہیں ہونے دے گا۔ آئیں ہم عہد کریں کہ ہم چاہے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں ہم سب سے پہلے انسانیت کے رشتے سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے گئے کہ ہماری پہچان امن ہو کہ ہمیں دیکھ کر کوئی ڈرے نہ۔