علاج نہ انصاف- سجاد میر

جنگ کی باتیں یاد آنے لگیں ہیں ارادہ ہے کہ 16دسمبر کے ان لمحوں کو یاد کروں گا جسے ہم بھولتے جا رہے ہیں۔ چلو اس میں تو دو ایک دن کی تاخیر ہو سکتی ہے۔ تاہم ایک ایسا واقعہ ہو گیا ہے جو ہمیں جنگ کی یاد ایک اور طرح یاد دلا رہا ہے۔ اس کے اثرات اتنے ہی ہولناک ہیں جتنے کسی جنگ کے ہو سکتے ہیں۔ ایک وزیر نے بڑے درد سے پوچھا کہ اگر بھارت لاہور پر خاکم بدھن قابض ہونے پر قابض ہو جاتا تو کیا وہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر ایسا دھاوا بولتا جیسا ہمارے قانون کے جلیل القدر محافظوں نے بولا ہے۔ یہ بات سوچنا بھی تکلیف دہ ہے کہ دشمن ادھر کا رخ کرے۔ مگر ایسی سخت تلخ صورت ناک میں بھی ہم ایسے کیسے دشمن کے بارے میں سوچتے ہیں کہ وہ حالت جنگ میں اپنے سخت ترین دشمنی کے ہسپتالوں پر حملہ نہیں کرے گا۔ انسانوں نے اپنی پوری شقاوت قلبی اور بہیمیت کے باوجود اتنا تو کیاکہ حالت جنگ میں عورتوں ‘ مریضوں اور اسیروں پر حملے نہیں کیے ۔چونکہ 16دسمبر کے دن سر پر ہیں چلئے اسے چھوڑیے عین حالت جنگ میں جو شخص ڈھاکہ ایک پنج ستارہ ہوٹل میں داخل ہو جاتا تو اسے گویا پناہ مل جاتی۔ عالمی قوانین کے تحت یہ سمجھا جاتا کہ اس نے ہتھیار ڈال دیے ہیں ۔آج کے غیر مہذب انسان نے بھی کچھ اصول سیکھ لئے ہیں۔

ہسپتالوں پر بم نہ گرانے یا انہیں مسمار نہ کرنے کا دستور جنگ عظیم اول اور دوم میں بھی آزمایا۔ ہسپتال کا بھی یہ تقدس تھا اور عدالتوں کا بھی یہی حال تھا کہ چرچل سے جب کسی نے پوچھا کہ جنگ کا کیا حال ہے۔ اس نے جوابی سوال پوچھا کہ آیا برطانیہ کی عدالتیں کام کر رہی ہیں۔ اگر ایسا ہے تو برطانیہ کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ عدالتی نظام کا باقی رہنا کسی ملک کی بقا کا نشان ہی ہوا کرتا ہے۔ پاکستان میں قانون کے پیشے کو ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان کا خواب دیکھنے والا بیرسٹر اور پاکستان بنانے والا بھی وکیل۔ قانون کے پیشہ سے متعلق ہونا ہمارے لئے آزادانہ اور دیانتدارانہ فکر کی علامت سمجھا جاتاہے یہ تصور کیا جاتا تھا کہ قانون دان کبھی غلط روش پر نہیں چل سکتا۔ پاکستان بننے کے بعد بھی سیاسی تحریکوں کے پیچھے قانون دانوں کا ہاتھ ہوتا تھا۔ اس بات کا کوئی تصور تک نہ تھا کہ شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کے مقدمات کی وکیل کوئی فیس لیتے ہوں حتیٰ کہ یہ بھی نہ ہوتا تھا کہ کسی ایسی الجھن میں پھنس کر آپ کو وکیل تلاش کرنا پڑتا ہو۔بڑے سے بڑا وکیل اس کام کے لئے حاضر ہوتا تھا۔ شہری آزادی کے بہت سے مقدمات سے واسطہ رہا ہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ وکیل ڈھونڈنا اور وکیل کرنا کبھی کوئی مسئلہ تھا۔ ایوب خاں کے خلاف جب تحریک میں شدت آئی تو یاد ہے مشرقی پاکستان کے ایک سابق چیف جسٹس غلام مرشد بھی میدان میں اترے۔

اصغر خاں کے بعد یہ پہلی بڑی آواز تھی جو جمہوریت کے میدان میں ابھری تھی۔ جسٹس صاحب خطاب کے لئے ساہیوال بار روم پہنچے۔ ان دنوں قانون کا احترام اس قدر تھا کہ ایوب خاں نے دفعہ144لگا رکھی تھی جس کے تحت چار سے زیادہ افراد کا اجتماع غیر قانونی تھا۔ ساہیوال کے ایک وکیل اللہ ان کی مغفرت کرے ‘نے فیصلہ کیا‘ وہ چار افراد کا جلوس نکالیں گے وہ چار ساتھی 22مارچ کو ساہیوال سے چلے اوکاڑہ میں رکتے ہوئے اگلے روز لاہور پہنچے۔ مینار پاکستان پر پہنچ کر پاکستان کی سلامتی کی دعائیں کیں۔ انہوں نے پاکستان اور جمہوریت کے حق میں بینر اٹھا رکھے تھے۔ یہ جمہوری جدوجہد کا آغاز تھا چنانچہ مجھے یاد ہے کہ جسٹس مرشد نے اپنی تقریر کا آغاز انگریزی کے کس جملے سے کیا تھا۔ وہ بنگالی متانت کا نمونہ گویا ہوا کہ سورج مشرق سے نکلتا ہے‘ مگر اس بار مغرب سے نکلا ہے اور وہ بھی ساہیوال سے جہاں کے وکیلوں نے قانون کی علمبرداری کی تاریخ رقم کر دی ہے۔ انہوں نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جمہوری جدوجہد کا ایک نیا باب لکھ ڈالا ہے۔ یہ وہ جمہوری جدوجہد ہے جو ہم نے دیکھی ہے۔ قانون کا احترام اس قدر تھا کہ ہم طالب علموں نے فیصلہ کیا کہ ہم بھی کوئی ایسا کام کریں گے۔چنانچہ مجھے اپنی جمہوری جدوجہد کا یہ باب یاد ہے کہ میں کوئی دو ڈھائی سو طلبہ کو لے کر سڑکوں پر لے کر بازار میںنکل آیا۔ چار چار کی ٹولیوں میں‘بینر اٹھائے ہوئے ایک جگہ جا کر پولیس نے روک لیا۔

ہم نے چار چار کی ٹکڑیوں میں دھرنا دے ڈالا باقی کے مناظر کیا بیان کروں خیال تھا کہ طلبہ کا یوں منظم رہنا مشکل ہو گا۔ وہ کیسے بہتردن تھے۔ پھر اسے جدوجہد نے ایوب خاں کو چلتا کیا۔ اس کا کیا فائدہ ہوا کیا نقصان ہوا۔ وکیل کیسے انسپائر کرتے تھے۔ اور ڈاکٹروں کا کیا احترام نہ تھا۔ اتنے بیباک نہ تھے۔ پرائیویٹ تو بہت کم تھے ۔ یا سرکاری ہسپتال تھے یا ڈاکٹروں کے ذاتی کلینک تھے۔ ذاتی کلینک میں جانا بھی کوئی بہت مہنگا کام نہ تھا۔ مجھے یاد ہے ۔ گھر میں وزٹ کا کیا چارج کرتے تھے۔معاشرہ بگڑا ہے تو کس بری طرح بگڑ اہے۔ اس بگاڑ کا قصہ کیا سنائوں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اب اگر دوسری جنگ عظیم ہوتی تو چرچل کو بتایا جاتا کہ نہ عدالتیں کام کر رہی ہیں نہ ہسپتال تو وہ مدبر شاید حوصلہ ہار جاتا اور بے ساختہ کہتا۔ بلا شبہ ہم جنگ ہار چکے ہیں۔ ہر روز کوئی نہ کوئی خبر‘ کم تو ڈاکٹر بھی نہیں کر رہے۔ ہر روز ینگ ڈاکٹر کا ہنگامہ کھڑا ہے۔ ہم نے میڈیسن کے پیشے کو بہت مہنگا کر دیا ہے۔ کسی نے کہا تھا مری ماں اپنا زیور بیچ کر مجھے پڑھائے گی تو اس کے بیٹے کا زیادہ فیسیں لینا تو بنتا ہے نا۔ یہ وہ پیشہ ہے جس میں حلف اٹھایا جاتا ہے مگر جب ڈاکٹروں کی سنو تو ان کی اپنی کہانی ہے۔ یہ اب ایک کاروبار بن گیا ہے۔ وکیل روز سڑکوں پر ہوتے ہیں۔ ڈاکٹروں نرسوں کی کبھی پریس سے لڑائی ہے تو کبھی مریضوں سے۔ مریض بھی کم نہیں کرتے۔ ان کی بھی ایک نفسیات ہے۔

وہ اب ڈاکٹر کو مسیحا نہیں سمجھتے۔ کبھی کبھی تو ڈاکو کہتے ہیں۔ معاشرہ اپنا فرض ادا نہیں کر رہا۔ ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ وکیلوں کا تو یہ حال ہو گیا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ قانون کی حکمرانی قائم کرنا‘ لوگوں کو شہری حقوق دلانا ان کی ذمہ داری اور فریضہ نہیں ہے بلکہ ان کا ایک ایسا کارنامہ ہے کہ معاشرے کو اس کا معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔ اکثر مقدس پیشے بگڑ بگڑ کر اپنی شکل بدل چکے ہیں۔ کسی نے تجویز پیش کی تھی کہ ایسے مقدس پیشوں کا سارا نظام ہی بدلا جائے۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہوں۔ چاہے انشورنس کا نظام ہو۔ استاد کے پیشے کو دیکھئے۔ پہلے کیا دن تھے کہ کم تنخواہ پانے والا استاد جب نکلتا تھا تو سارا شہر راستہ چھوڑ کر کھڑا ہو جاتا تھا۔ یہ شام کو کاروبار کرنے والی اکیڈمیاں ہوتی ہی نہیںتھیں۔ سب نے دکانیں لگا رکھی ہیں۔ ہسپتالوں میں مریض نہیں جاتے۔ کلائنٹ جاتے ہیں۔ضلع کچہریوں میں انصاف کی تلاش نہیں ہوتی اپنی دولت کی نمائش ہوتی ہے جس سے انصاف خریدا جاتا ہے۔ چھوٹے شہروں کی کچہریوں میں برادریوں کی بنیادوں پر تخت پوش لگے ہوتے تھے۔ چلئے کوئی تعلق اور مروت تو ہوتی تھی۔

اب کارپوریٹ کلچر آ گیا ہے۔ دنیا بدل گئی ہے۔ ہر جگہ کاروبار ہے کاروبار ایسے میں آپ انسانیت کہاں تلاش کرتے پھریں گے۔ ہم اس چکر میں ہیں کہ طلبہ یونینیں بحال کی جائیں کہ نئی لیڈر شپ اس سے آئے گی۔ بڑے بڑے سیاسی نام گنوائے جاتے تھے اب پتا چلا کہ وکیلوں کا طرہ اور ڈاکٹروں کی ٹھاٹ باٹ اسی الیکشن کی وجہ سے ہے۔ کوئی کہہ رہا تھا ان انتخابات کا دورانیہ کم کیا جائے وگرنہ بہت سے ساتھی ان الیکشنوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ تو کیا جمہوریت کو ملک بدل کر دیں۔ ہم اس قابل بھی نہیں رہے۔ یہ بحث تو خیر ہمارے ہاں ایک عرصے سے ہوتی آئی ہے۔ نئے نئے انداز ہیںپھر کہتے ہیں ۔انہیںجمہوریت تو چاہیے۔ طلبہ یونین بن جائیں۔ بار روم بھی بن جائیں۔ میڈیکل ایسوسی ایشن بھی۔ پھر کہتے ہیں‘ الیکشن ہر سال نہ کرائو کچھ وقفہ دے لو۔ بلیک میلنگ کم ہو جائے گی۔ اب آپ ہی بتائیے کون سی بات اصولی طور پر ٹھیک ہے۔ کیا انتخابات بلیک میلنگ ہے۔ ہر شے ‘ پیشہ وارانہ بن گئی ہے۔ ہر بات جو مشن ہوا کرتی تھی۔ اب پیشہ بن گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہم مقدس کا لفظ لگا دیتے ہیں۔ اسے مقدس پیشہ کہہ لیتے ہیں۔