شام میں اسرائیل کے فضائی حملے، ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا

اسرائیل نے شام میں ایسے درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو شامی حکومت اور اس کی اتحادی ایرانی فورسز کے تھے۔بدھ کو اسرائیلی فوج نے کہا کہ ایک ایرانی یونٹ کے راکٹ حملے کے جواب میں انھوں نے شام میں ’وسیع پیمانے پر فضائی حملے‘ کیے ہیں۔

دوسری طرف شام نے بیان جاری کیا ہے کہ ان حملوں میں دو شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ انھوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ شامی فضائی فورس نے شام کے دارالحکومت کی طرف آتے زیادہ تر میزائل مار گرائے ہیں۔مقامی اطلاعات کے مطابق شہر میں بلند آواز میں دھماکے سنے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا فوٹیج میں بہت جگہ آگ لگی دکھائی دی۔

منگل کی صبح اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ انھوں نے شام کی طرف سے اسرائیل میں آنے والے چار راکٹ مار گرائے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ راکٹ ان کی زمین پر نہیں گرے۔یہ سمجھا جاتا ہے کہ سنہ 2011 کے بعد شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے اسرائیل نے شام پر سینکڑوں فضائی حملے کئے ہیں۔ اسرائیل کے مطابق انھوں نے ایسا اس لیے کیا تاکہ شام میں ایران کی مداخلت کو روکا جا سکے۔

اسرائیل نے کیا کہا؟
بدھ کو اسرائیلی دفاعی فورسز نے ٹویٹ میں کہا کہ فضائی حملوں سے ایران کی قدس فورس اور شامی فوج کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا ’ایرانی اور شامی شدت پسند اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے ہم نے شامی فضائی فورس کو واضح طور پر متنبہ کیا تھا کہ ایسے حملوں سے باز رہیں۔ اس کے باوجود انھوں نے ہم پر میزائل حملہ کیا۔ نتیجے میں متعدد شامی فضائی دفاع کی بیٹریاں تباہ کر دی گئیں۔‘اسرائیلی فوج کا کہنا تھا ’شامی حکومت اپنے علاقے میں ہونے والے واقعات کی ذمہ دار ہے۔ ہم انھیں اسرائیل پر مزید حملے کے خلاف متنبہ کرتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیں:   داعش سے یورپی ممالک خوفزدہ - قادر خان یوسف زئی

ایران کی قدس فورس پاسدران انقلاب کا ایک ایسا گروہ ہے جو بیرونی آپریشنز میں حصہ لیتا ہے۔قدس فورس اور ان کے رہنما میجر جنرل قاسم سلیمانی براہِ راست ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کو جوابدہ ہوتے ہیں اور ایک آزاد عسکری حیثیت سے کام کرتے ہیں۔اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے اس کارروائی میں جو کہ شام میں تعینات روسی فوجی دستوں کے قریب ہی ہوئی روسی ساختہ زمین سے فضا تک نشانہ بنانے والے ایس 300 میزائل کا استعمال نہیں کیا۔روس نے جو کہ شامی صدر بشارالاسد کا حامی ہے ان حملوں کی مذمت کی۔

شام نے کیا کہا؟
شام کے سرکاری خبر رساں ادارے ثنا نے کہا ہے کہ ملک کی ’فضائی فورس نے بڑے حملے کا مقابلہ کیا اور دشمن کے میزائیل کو ناکام بنایا۔‘انھوں نے دعویٰ کیا کہ شام نے اسرائیل کے ’اکثر‘ میزائل مار گرائے ہیں۔خبر رساں ادارے نے مزید کہا کہ فضائی حملے ’لبنانی اور فلسطینی علاقوں‘ سے کیے گئِے۔اسرائیل نے کئی بار شام کے اندار اپنے اہداف کو لبنانی فضائی حدود سے نشانہ بنایا ہے۔
شامی صحافی ڈینی مکی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے اور یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اسرائیلی میزائلوں نے جنوبی دمشق میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

برطانیہ میں موجود مانیٹرنگ گروپ سرئین آبزرویٹری گروپ کے مطابق 11 فائٹر جن میں سات غیر ملکی بھی شامل تھے اس حملے میں ہلاک ہوئے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی میزائلوں نے دمشق کے نواح میں قصویٰ، ساسہ، میزح کے ملٹری ائیرپورٹ، جیدات، قدسیہ اور سہنایہ میں حملے کیے ہیں۔

ایران کا کیا کہنا ہے؟
ایران کی جانب سے اب تک اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔