الحاد کا فتنہ اور علماء کی کوششیں - محمد احمد

کل محترم جناب احمد جاوید صاحب کی تحریر پڑھی اس میں درد دل اور ایک فکر تھا. تحریر سے جزوی اختلاف تو ممکن ہے لیکن بحیثیت مجموعی جو پیغام دیا ہے اس میں عقل والوں کے لیے عبرت کا سامان ہے. اگر ہم اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر نظر نہیں کریں گے تو یہیں سے زوال کی داستان شروع ہوتی ہے، جو کہ شروع ہوچکی ہے.

باتیں تو ساری اچھی تھی لیکن ایک بات جس کی نشاندہی کی گئی تھی کہ الحاد جو اس زمانے کا سب سے بڑا فتنہ ہے. ہماری نئی نسل تیزی سے اس کی بھینٹ چڑھ رہی ہے. عصری اداروں میں تعلیم کے نام پر الحاد کا کام زور شور سے جاری ہے. اس حوالے سے ہمارا کام اور کردار کیا ہے؟ متخصصین اور فاضل علماء کرام اس حوالے کہاں کھڑے ہیں؟ حضرت اکابرین کی اس حوالے سے کیا خدمات ہیں؟ مجھے ماہنامہ بیداری کے ایڈیٹر حافظ محمد موسی بھٹو صاحب کی ایک تحریر یاد آرہی ہے انہوں نے لکھا تھا کہ پروفیسر حسن عسکری مرحوم نے تقریباً سو کے قریب وہ اشکالات اور علتیں لکھ کر علماء کرام کے حوالے کی تھیں جن کی بنا پر الحاد بڑھ رہا کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں باقاعدہ اس کے مدلل جوابات تیار کریں لیکن اب تلک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی. دوسرا میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ بڑے بڑے جامعات میں دعوہ والارشاد کے کورسز کرائے جاتے ہیں اداروں کی اپنی کوشش ہوتی ہے یہ حضرات جا کر قرآن وحدیث کی تعلیمات اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق دعوت و تبلیغ کا کام کریں اور معاشرے بالخصوص نوجوانوں کو الحاد سے بجائیں لیکن نتائج نہیں مل رہے ہیں.

اس کی وجوہات کیا ہیں جب کہ نصاب بھی بہت اعلی اور دور حاضر کے سارے تقاضوں کے مطابق اور ہم آہنگ پھر بھی نتیجہ صفر ہے مجھے جو نظر آیا ہے کہ فاضل حضرات اور متخصصین میں اس کی صلاحیت نہیں وہ اس امانت کا بار اٹھانے کی صلاحیت سے محروم ہیں. الا ماشاء اللہ کچھ نوجوان علماء کرام کی صلاحیتوں اور خدمات کا انکار نہیں یہاں بات اکثریت کی ہورہی ہے. میرا رائے ہے ہوسکتا ہے کوئی اختلاف کرے آج کل کے فاضل علماء کا جس چیز نے سب سے زیادہ کام بگاڑا ہے وہ مرعوبیت ہے اور خود اعتمادی کا فقدان ہے. یہ کسی پر اثرانداز ہوجانے کے بجائے خود متاثر ہوجاتے ہیں. مجھے جتنے متخصصین نظر آتے ہیں مجھے کسی کے بارے میں زعم وخیال نہیں یہ جاکر معاشرے میں انقلاب برپا کرے گا اور پھر بگڑے لوگوں کو دین کی طرف لانے میں کامیاب ہوگئیں. مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم خود کو بچانے میں کامیاب ہوگئے تو یہ بڑی غنیمت ہے ورنہ تو ان قوتوں کا پہلا اور آسان ہدف یہ بیچارے مرعوب فاضل دوست ہیں. اس کے لیے جو عزم و استقامت جوش اور ولولہ چاہیے اس کی شدید کمی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   فتنہ -لطیف النساء

اب اس کا حل کیا ہے اب الحاد اور دین بیزاری کی روک تھام کے لئے کیا اسباب اور طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے. سب سے پہلے ان علماء کرام کی خدمت میں دست بدست التجا ہے جن کو اللہ تعالیٰ بے شمار خوبیوں سے نوازا ہے، علم میں رسوخ بھی ہے، زبان وبیان میں تاثیر بھی، دعوت و تبلیغ کے نبوی طریقہ سے بھی واقفیت ہے، شریعت وطریقت کے رموز وأسرار بھی معلوم ہیں آپ آگے بڑھیں اور اپنی خداداد صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے کی اصلاح فرمائیں اور نوجوانوں کو الحاد کے شکار ہونے سے بجائیں. دوسرا کام یہ کیا جائے جن اداروں میں دعوہ والارشاد کام چل رہا ہے براہ کرم ان کے ذمہ داران وقت گزارہ کرنے والے ساتھیوں سے معذرت کریں اور مضبوط استعداد والے ساتھیوں پر مشتمل ایسی جماعت تشکیل دیں جو اس الحاد ودینی کی سیلاب روکنے کی طاقت و صلاحیت رکھتے ہو. اور اس میں جدید تعلیم یافتہ طبقے اور پروفیسر صاحبان سے بھی مدد لی جائے جو دین کا درد رکھتے ہیں عصر حاضر کے اسلوب اور الحاد کے اسباب اور بیماری کی تشخیص میں ان حضرات کی خدمات بے حد ضروری ہیں.