نظریہ کی طاقت - محمد شاکر اللہ

ترک ڈرامہ دریلس ارطغرل کوئی چار سال قبل، سنہ 2014 کے آواخر میں منظرعام پر آیا۔ لوگ سوشل میڈیا پر اس کی بہت تعریف کرتے لیکن میرا دھیان کبھی اس کی طرف نہیں گیا اور نہ دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ پھر ابھی دو ماہ قبل کسی جگہ اس کی تعریف سنی تو سوچا کہ کیوں نہ تھوڑا دیکھ لیا جائے۔ لہٰذا ابتدائی حصہ دیکھا اور دیکھتے ہی اس کے سحر میں گرفتار ہوگیا۔

اب جب کہ یہ ڈرامہ مکمل دیکھ چکا ہوں، یہ خیال ستانے لگا کہ دنیا میں تو اور بھی بہت سے ڈرامے بنے ہیں تو اس میں کیا ایسی خاص بات ہے کہ یہ اتنے کم عرصے میں اتنا مقبول ہوگیا ہے؟ میں نے سوچا کہ شاید اس کے ہیرو (اینجن آلتن) اور ہیروئن (اسریٰ بیلجک) کا شمار ترکی کے مشہور اداکاروں میں ہوتا ہو تو گوگل نے بتایا کہ یہ دونوں تو وہاں کے اوپر کے دس بڑے اداکاروں میں بھی شمار نہیں ہوتے۔ پھر میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی بہت زیادہ خوبصورت اور حسین مشہور ہو۔ تو پتہ چلا کہ ان کی رعنائی بھی ٹاپ ٹین میں شامل نہیں کہ بقول حالیؔ --- ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں - اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں
معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ڈرامہ نہ صرف ترکی میں بے حد مقبول ہوا بلکہ دنیا بھر کے ایک سو سے زائد ملکوں میں کروڑوں لوگوں نے اسے دیکھا اور اب بھی دیکھ رہے ہیں۔ جہاں اس ڈرامے نے بہت زرمبادلہ کمایا وہیں، سیریل میں کام کرنے والے ہیرو اور ہیروئن سمیت اہم کردار ادا کرنے والے باقی اداکاروں کو بھی شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ حالانکہ یہ وہی اداکار ہیں جو ایک عرصے سے ترکی کی فلموں اور ڈراموں میں کام کرتے چلے آ رہے تھے مگر اس ڈرامے سے پہلے انہیں ترکی سے باہر کوئی جانتا تک نہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈرامہ سیریل ”ارطغرل“ اور پاکستانی ڈرامہ - راحیلہ چوہدری

لیکن اب اینجن آلتن (ارطغرل) کے ٹوئیٹر پر تقریباََ پونے چھ لاکھ فالوورز ہیں اور اسریٰ بیلجک (حلیمہ سلطان) کے بھی ہزاروں فالوورز ہیں۔ لوگوں نے نورگل ، بابر، سلیمان شاہ، حائمہ خاتون وغیرہ کی ڈی پیز لگا لی ہیں۔ نہ صرف ترک صدر طیب اردگان بلکہ اس وقت کے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے بھی ادکاروں سے شوٹنگ والے مقام پر جا کر ملاقاتیں کیں۔ وینزویلا کے صدر نکولاس مدروس کو تو یہ ڈرامہ دیکھ کر ایسا جوش چڑھا کہ وہ تختِ حکمرانی سے نیچے اتر کر اپنی بیگم سمیت شوٹنگ سیٹ پر آ بیٹھا اور سر پر قائی قبیلے والی ٹوپی سجا کر،ہاتھ میں تلوار تھام کر تصویر کھچوائی۔ چیچنیا کے عوام میں یہ ڈرامہ اتنا مقبول ہوا کہ سیریل میں کام کرنے والے ادکاروں اور کہانی لکھنے والے محمد بوزداغ کو دو روزہ دؤرے پر چیچنیا بلوایا گیا جہاں عوام نے سڑکوں کے دونوں جانب کھڑے ہو کر ان کا ایسا والہانہ استقبال کیا جیسا کسی ملک کے حکمران کے شایانِ شان ہو۔ اسی طرح ڈرامے کے ہیرو، اینجن آلتن کو خصوصی دعوت پر کویت بلوایا گیا اور خوب پذیرائی کی گئی۔ اب تک اینجن آلتن کو کئی انعامات اور ایوارڈز مل چکے ہیں۔

تو میرا سوال ایک بار پھر وہی ۔۔۔ کہ دنیا میں تاریخ کے موضوع پر بہت سے ڈرامے بنے، پھر آخر اس ڈرامے میں ایسی کیا خوبی ہے کہ اس قدر مشہور ہوگیا۔ تو کچھ غور کرنے سے میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ’’مقصدیت‘‘ اور ’’نظریہ‘‘ ۔۔ یہ دو چیزیں ہیں جس نے اس ڈرامے کو دنیا بھر میں مقبول بنا دیا ہے۔ یہ نظریہ کی طاقت ہے جو مخفی رہ کر بھی اتنی عیاں اور ظاہر ہے کہ ہر چہار سو چمکتی دمکتی نظر آ رہی ہے۔ دیکھنے والا جب یہ ڈرامہ دیکھتا ہے تو اس کے وجدان کا رواں رواں پکار اٹھتا ہے کہ انسان بے مقصد پیدا نہیں ہوا بلکہ عدل و انصاف کے نظام کی خاطر جدوجہد کرنے اور اس کی خاطر تن من دھن کی بازی لگادینے کے لیے پیدا ہوا ہے۔ یہی وہ نظریے کی سچائی ہے جس نے اس ڈرامے کو مقبولِ عام بنا دیا ہے۔