منفی رویے اور ان کا سدباب - شہلا خضر

شام کی چاۓ ہواور بسکٹ چپس اور باقر خانی نہ ہو، یہ تو قطعئ ممکن نہیں ۔ان سب لوازمات کی عادت ہو جاۓ توعدم دستیابی سے اظطراب اور بے کلی چھا جاتی ہے، ان کے بغیر چاۓ کی پیالی تو جیسے ویران چمن دکھائی دیتی ہے ، اور سہانی شام بھی دل مضطرب کو قرار نہیں دے پاتی ۔ ایسا ہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا جب بچوں کے ششماہی امتحانات کی گہما گہمی میں پتہ ہی نہ چلا کہ کب با ور چی خانے میں پڑی برنیوں میں چاۓ ناشتے کا سامان ختم ہوا۔

لہذا چاۓ کی کیتلی کو دم پر رکھا اور بیٹی کو دھیان رکھنے کا کہہ کر قریب کی بیکری سے یہ لوازمات لینے نکلے چند گز کے فاصلے پر ہی ایک معیاری بیکری موجود ہے۔ ، صبح شام یہاں رش لگارہتا ہے۔ ہم سے پہلے بہت سی خواتین اور مرد موجود تھے جو بیکری کے سامان والے کائونٹر پر کھڑے تھے اور اپنی باری آنے پر مطلوبہ اشیاء لے رہے تھے ۔ ہم بھی انتظار کرنے لگے کہ پہلے آنے والے افراد ختم ہوں تو ہماری باری بھی آۓ ۔تقریبا” دس سے پندرہ منٹ کے بعد ہماری باری آنے کو ہی تھی کہ مین گیٹ سے ایک شخص تیزی سے اندر داخل ہوا اور سیدھا بیکری کے سامان والے کائونٹر پر جا پہنچا ، اور بغیر کسی تامّل کے قدرے بلند لہجے میں اپنی مطلوبہ اشیاء مانگنے لگا ۔ اس کی اس حرکت پر سب اس کی طرف متوجہ ہو گۓ ، کیونکہ اس کے آنے سے پہلے سب تہذیب اور طریقے سے اپنی باری پر سامان لے رہے تھے ۔ خیر تو جناب اس شخص نے انتہائ بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوۓ بیکری ملازمین کو جلدی سے سامان دینے کو کہا اور ساتھ ساتھ انہیں ہدایات بھی دیتا جا رہا تھا “او بھائی بسکٹ تازہ اور خستہ دیجیو ، پچھلی بار جو بسکٹ تم نے دیۓ تھے وہ تازہ نہیں تھی ، ہم تو اس علاقے کے پرانے رہائشی ہیں، ہم رہ گۓ تھے چونا لگانے کو ۔

” اور بھی نہ جانے کون کونُ سےتبصرے بیکری پر کیۓ جا رہا تھا ۔ بیکری کا مالک اس اچانک افتاد سے قدرےگھبرا گیا اور اپنے ملازم کواس کا آڈر جلدی دینے کو کہا ۔ المختصر اس شخص نے ہوشیاری سے اپنی چرب زبانی کی بدولت بغیر انتظار کی زحمت اٹھاۓ ، خریداری کی اور یہ جا وہ جا ہوگیا ۔ اس کے جانےکے بعد سب ناراضگی کا اظہار کرنےلگے کیونکہ سب وہیں کے وہیں کھڑے رہ گۓ اور ان کے بعد آنے والا سامان لے کر چلا بھی گیا ۔ میں نے بیکری کے مالک سے کہا “ کہ بھائ یہ کیا طریقہ ہےآپ کی بیکری میں ، ہم سب انتظار کر رہے تھے اور آپ نے اس شخص کے شور مچانے اوررعب دکھانے پر متاثر ہو کر اپنے ملازم کو اسےفورا” سامان دینے کو کہ دیا ۔ یہاں پر بہت سے گاہک کھڑے ہیں جن میں خواتین بھی ہیں جو بچوں کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں” ۔ میری اس بات پراس نے کہا “ باجی ہر کوئ آپ جیسا نہی ہوتا ، اس ٹائپ کے منہ پھٹ لوگ بھی آتے ہیں جو دوسروں کو بہت بے زار کر دیتے ہیں ،اسی لیۓ میں نے اسے جلدی نمٹانے کو کہا کیونکہ سب کو اپنی عزت پیاری ہوتی ہے ،اگر وہ زیادہ دیر بیکری میں رہتا تو کچھ نہ کچھ سناتا ہی رہتا “

میں نے کہا “ بھائ عزت دینا یا زلت دینا سواۓ اللہ کی پاک زات کےکسی کے دائرۂ اختیار میں نہی ہے - آپ اس بیکری کے مالک ہیں ،اوریہاں آپ کے ملازمین آپ کی ہی بات سنتے ہیں آپ انہیں واضع طور سے سمجھا دیں کے کسی کی دھونس جمانے یا خواہ مخواہ ہنگامہ کرنے سے آڈر نہی لیں بلکہ صرف باری آنے پر آڈر لیں اسطرح آپ کی بیکری کی ساکھ اور بھی اچھی ہو جاۓ گی، اسکے علاوہ جو کوئ بھی اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ پاک اسے کبھی مایوس نہی کرتا”۔ بیکری مالک کے چہرے پر شرمندگی کے آثار صاف دکھائ دینے لگے ۔ خیر میں نے کچھ بسکٹ اور باقر خانی وغیرہ خریدی اور گھر آگئ ۔چند روز بعد جب دوبارہ اس بیکری میں جانے کا اتفاق ہوا تو مجھے یہ دیکھ کربے حد خوشی ہوئی کہ عین بیکری کے دروازے کے پاس بڑا سا بورڈ لگا تھا جس پر یہ تحریر کندہ تھی . “بغیر باری کے آڈر ہر گز نہ ملے گا “ عزیز ساتھیوں روزمرہ زندگی میں اکثر ہمیں ایسے ہی کچھ حالات و واقعات کا سامنا رہتا ہے ،جن میں اکثر دو طرح کے ردّعمل دیکھنے میں آتے ہیں ۔

یا تو یہ کہ خاموشی سے ناگوار اور غیر مہذب رویّے کو برداشت کر لیا جاتا ہے اور یاغصّہ میں بے قابو ہو کر لڑائی جھگڑا شروع ہو جا تا ہے ۔یہ دونوں ہی غلط رویّےہیں ۔ ایسے موقعہ پر ہمیں نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ منفی کردار کے عوامل کو حکمت سے سمجھانا ہے اور متبادل راستہ بھی دکھانا ہے ۔ جھگڑنے سے کبھی بھی مسائل حل نہی ہوتے بلکہ مزید الجھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ہمیں ہمارے پیارے نبیﷺ بھی یہی سکھاتے ہیں کہ برائی کو دیکھ کر خاموشی سے دل میں برا جان کر اسے روکنے کی کوشش نہ کرنا دراصل ایمان کی کمزور تریں حالت کی نشانی ہے ۔ ہم سب یقینا” اپنے آپ کو ایسے لوگوں میں شامل نہی دیکنا چاہتے - اسی لیۓ آج ہی سے پکّا عہد کر لیں کہ ہمیشہ سچائی اور ایمانداری کا ساتھ دیں گے اور انُ کے خلاف چلنے والوں کی اصلاح کی ہر ممکن کوشش کریں گے -