رحمت للعالمین ﷺ - حسان بن ساجد

اللہ‎ رب العزت کا بے پایاں لطف و کرم و خاص عنایت ہے کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر ماہ مقدسہ ربیع الاول کے مبارک دن و رات دیکھا۔بے شک امت مسلمہ کے لیے یہ سے بہتر ماہ خوشیاں منانے کا کوئی نہیں ھوسکتا۔ امت جس قدر رب کعبہ کا شکر ادا کرے کم ہے۔ حضور ﷺ کی زندگی کے بہت سے پہلو ہیں مگر آج حضور ﷺ کی زندگی کے ایک ہی گوشے پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کرونگا۔

قرآن مجید میں اللہ‎ رب العزت فرماتے ہیں کہ : وَمَآ أَرْسَلْنٰکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ‘‘ (سورۃ الانبیاء: ۱۰۷) ’’اور (اے پیغمبر!) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔‘‘ اب اگر اس آیت کریمہ پر توجہ کی جاۓ تو اللہ‎ جلہ شان ھو یہ نہیں فرماتا کہ ہم نے آپ ﷺ کو عرب کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔آپ صرف امت مسلمہ کے لیے نہیں تمام انسانوں، چرند پرند کے لیے حیوانات و نباتات کے لیے بھی رحمت و سراپا رحم بن کر آے۔ حضور ﷺ بچوں پر بھی سراپا شفقت و رحمت تھے۔آپ دشمن پر بھی رحمت تھے۔ہندہ نے جب حضور ﷺ کے چچا کے حضرت حمزہ رضہ کا کلیجہ چبایا اور لاش کی بے حرمتی کی تو حضور ﷺ نے صحابہ کرم رضہ کو کفار کی لاشوں کی بے حرمتی سے روک دیا۔کسی نے آپ ﷺ پر کوڑا کرکٹ پھینکا تو حضور ﷺ اسکی تیمار داری کو اسکے گھر چلے گئے۔ حضور اکرم کا اسوۂ حسنہ بنی نوع انسان کے لیے چونکہ آپ کو عالمی رسالت سے نوازا گیا ہے، اس لیے آپ کی زندگی قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے نمونہ بنائی گئی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے: ’’ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوْا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا۔‘‘ (سورۃ الاحزاب ۲۱)

یہ بھی پڑھیں:   مطالعہ سیرت سے حاصل ہونے والے عوامل - راحیلہ چوہدری

’’حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ سے اور یوم آخرت سے امید رکھتا ہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو۔‘‘ اب قیامت تک اگر امت کو کسی کا کردار و اخلاق باحیثیت نمونہ لینی ھوتو اسے حضور ﷺ کی ذات مقدسہ کو نمونہ کے طور پر لینا ہوگا۔وہ گھریلو زندگی ہے یا معاشرتی زندگی۔ اولاد سے برتاؤ ہے یا والدین کا ادب۔ غریبوں کے حقوق و تعلقات ہیں یا ہمساے سے تعلقات و حقوق۔اقلیتوں کے حقوق ہیں یا پھر حکمران کا کردار۔وہ سپاہ سالار ہے یا استاد۔وہ امام ہے یا رہبر و رہنما ہر شخص کو سیرت رسول ﷺ سے مستفید ہونا ہے اور رہنمائی لینی ہے۔ حضور ﷺ بچوں سے خود ملتے انہیں پیار کرتے۔ آپ ﷺ غریب سے بہترین لگاو فرماتے۔الغرض طائف میں جب حضور ﷺ کو پتھر سے لہو لہان کیا گیا تو تب بھی آپ ﷺ نے عذاب و بددعا کی بجاے طائف کے لوگوں کی خیر کی دعا فرمائی۔حضور ﷺ بچپن سے ہی صادق و امین کہلاے جاتے۔ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اپنے نبی کے اخلاق کے متعلق فرماتا ہے: ’’وَإِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ‘‘۔۔۔۔۔۔ ’’اور یقینا تم اخلاق کے اعلیٰ درجہ پر ہو۔‘‘ (سورۃ القلم:۴) گویا آپ سے بڑھ کر کسی کا اخلاق نہیں۔

آپ فتح مکہ کے موقع پر تمام دشمنوں و کفار کو عام معافی کا اعلان فرماتے ہیں۔ حضور ﷺ سراپا رحمت تھے . مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم آپ کی تعلیمات پر عمل بھی کرتے ہیں یا پھر دنیاوی رسم کے طور پر عید میلاد النبی ﷺ منا کر پھر سے دنیا میں مصروف ھوجاتے ہیں۔ حضرت عائشہ سے جب آپ کے اخلاق کے متعلق سوال کیا گیا تو آپؓ نے فرمایا: ’’کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنَ‘‘یعنی ’’آپ کا اخلاق قرآنی تعلیمات کے عین مطابق تھا۔‘‘ (صحیح بخاری وصحیح مسلم) اسی طرح حضور اکرم نے ارشاد فرمایا: ’’إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْأَخْلَاقِ۔‘‘۔۔۔۔ ’’مجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔‘‘ (مسند احمد)
ایک مرتبہ حضور ﷺ سے کسی یہودی سے سختی سے اپنے مال کا مطالبہ کیا اور حضور ﷺ کی گردن مبارک پر کپڑا باندھ کر اپنے مال کا مطالبہ کیا مگر ابھی اسکی امانت کی واپسی کا وقت نہیں آیا تھا۔حضرت عمر رضہ نے آگے بڑھ کر اس یہودی کا سر قلم چاہا تو حضور ﷺ نے فرمایا اسے ایسا کرنے کا حق ہے کہ اسکا مال ہے اسے مت مارو۔یہ سن کر یہودی مسلمان ھوجاتا ہے۔آج 12 ربیع الاول کا مبارک دن ہے سوچیں ہم کس اخلاق کے دائرہ میں ہیں؟ کتنا عفودرگزر کرتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   سیرت محمد ﷺ - مریم صدیقی

ہمارے دل کتنے نرم ہیں؟ ہم کتنا حضور ﷺ کی تعلیمات و سیرت پر عمل کرتے ہیں؟ نماز، روزہ و حج تو بعد کی بات ہیں ہمیں پہلے اپنے اندر انقلاب لانا ہوگا اور حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانا ہوگا تب جاکر معاشرہ ترقی یافتہ اور پرامن ہوگا۔ آج کی تحریر کا مقصد تھا کہ سب اپنے دلوں سے نفرت، سختی و ناراضگی ختم کریں اور درگزر کریں۔غریبوں کی مدد کریں ان سے بیٹھیں۔یتیموں و مسکینوں کے سروں پر دست شفقت رکھیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں ہم پاکستان بننے سے کے کر اپنی اولادوں کے آنے پر خوشیاں مناتے ہیں ویسے ہی حضور ﷺ کی آمد کو بھی جوش و خروش سے منائیں اور اپنی نسلوں میں محبت رسول ﷺ منتقل کریں۔جس طرح بازاروں، گھروں کو سجائیں ویسے اپنے من کو حضور ﷺ کی تعلیمات و اخلاق کے عکس مقدسہ میں سجائیں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نبی اکرم کے اخلاق حمیدہ کو پڑھیں اور ان کو اپنی زندگی میں لانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔