محو حیرت ہوں کہ - حریم شفیق

آجکل جو بھی ٹی وی چینل لگایا جائے ایک جیسے عنوانات جیسے طلاق ، ریپ، بے وفائی ہی دکھائی دیتے ہیں۔۔ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے آجکل کے رائٹرز کو معاشرے کے اور مسائل دکھائی نہیں دیتے یا پھر ان سے زہن میں ان " بوا " ٹائپ خواتین کا تاثر ابھرتا ہے جو اس قسم کے حادثات کو خوب مرچ مسالے لگا کر ادھر سے ادھر پھیلایا کرتی ہیں۔

تو سوچنا یہ ہے کہ کیا یہ سب درست ہے؟؟ بعض اخلاقی برائیوں کی جتنی تشہیر کی جائے اتنا ہی اس برائی کے بڑھنے کا امکان ہوتا ہے بالکل اسی طرح ان مسائل کو جتنا ڈسکس کیا جاتا ہے اتنے ہی یہ بڑھتے ہیں اور معشرہ مزید اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔اگر ماضی میں پیش کئے جانے والے ڈراموں کا جائزہ لیں تو ایک سلجھے ہوئے باوقار گھرانے کا تصور ابھرتا ہے جہاں ہر رشتہ قابل عزت ہوتا ہے۔۔یہ ہلکی پھلکی کہانیاں زندگی میں خوبصورتی کی رمق پیدا کرتی تھیں تو کیا اس وقت کے رائٹرز کو معاشرے میں یہ برائیاں دکھائی نہیں دیتی تھیں یا پھر وہ اتنے سمجھدار اور تعلیم یافتہ تھے کہ جانتے تھے کہ ان موضوعات کو چھیڑنا بجائے اس برائی کے خاتمے کا باعث بننے کے اس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔۔آجکل کہ رائٹرز یا تو تعلیم یافتہ اور مہزب نہیں یا پھر با شعور نہیں اب فیصلہ انھیں خود کرنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کس خانے میں رکھتے ہیں۔۔۔ اب ایک نظر بیہودہ اخلاق باختہ اشتہارات پر بھی ڈال لیتے ہیں.

جن میں فحاشی اور عریانی اپنے عروج پر ہے نہانے کے صابن اور شیمپوز سے لے کر شیونگ کریمز تک میں خواتین قوم کو ٹرینڈ کرنے میں لگی ہیں کہ کیسے نہایا جاتا ہے ؟؟؟افسوس کہ عورت کی "زاتی "استعمال کی اشیاء بھی سرعام دھڑلے بلکہ بےباکی سے دکھائی جا رہی ہیں یوں لگتا ہے کہ فحاشی کا ایک سونامی ہے جس کی رو میں بوڑھے اور جوان سب کو ڈبونے کا بندوبست کیا جا رھا ہے۔۔ تو رائٹرز اور پروڈیسرز کو اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اللّہ کا عذاب اس قوم پہ نازل ہو کر ریتا ہے جو بےحیائ میں مبتلا ہو۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ ہم عوام کو بھی اس کے خلاف اواز اٹھانی ھو گی ورنہ یہ طوفان ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ کر دے گا۔۔