باباجی کی چالاکی - احسان کوہاٹی

’’ارے ،ارے ،ارے یار بات تو سنو ۔۔۔ بس ،میں ‘‘سیلانی کی بات منہ میں ہی رہ گئی بیگم لیپ ٹاپ چھین کر بند کر چکی تھیں ،وہ کسی چیل کی طرح لیپ ٹاپ پر جھپٹی تھیں سیلانی کو بچاؤ کا موقع ہی نہیں ملااسے اس وقت خبر ہوئی جب اس کے زانو پر رکھا لیپ ٹاپ بیگم کے ہاتھوں میں پہنچ چکا تھا اور پھر قبل اس کے کہ سیلانی ان سے کھوجا گیا ڈیٹا محفوظ کرنے کی استدعا کرتا انہوں نے دھپ سے اسے بند کر دیا ۔

’’بھئی !یہ کیا طریقہ ہے ‘‘سیلانی کا منہ بن گیا’’ مجھے کالم لکھنا تھا ایک گھنٹے سے میں بھارتی فورسز کی بدمعاشیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر جمع کر رہا تھا اور آپ نے دھپ سے لیپ ٹاپ بندکر دیا‘‘ ’’اور میں ٹماٹر پیاز ڈھونڈ رہی ہوں مجھے بھی کھانا پکانا ہے‘‘ بیگم نے ترکی بہ ترکی جواب دیا ۔ سیلانی اس وقت بھارتی سیکیورٹی فورسز کے بدنما چہرے سے نقاب کھینچنے والی بارڈر سیکیورٹی فورس کی ڈپٹی کمانڈنٹ ڈاکٹر کرن جیت کور کا انٹریو سن رہا تھا،ڈاکٹر کرن جیت کور نے آجکل پورے بھارت کو لرزا رکھا ہے وہ نیوز چینلز کی ہیڈلائینز سے لے کر اخبارات کے صفحہ ء اول پر میڈیا کی ہر صنف میں دکھائی دے رہی ہے وہ دہائی دیتی پھر رہی ہے کہ بھارتی فورسز میں خواتین کو تفریح کے لئے بھرتی کیا جاتا ہے ،ان کی عزتوں سے کھلواڑ کیا جاتا ہے ۔ ایسا نہیں ہے تو مجھے بتائیں کہ بارڈر پر تعیناتی کے دوران رات کو ایک سپاہی کس طرح اپنی ہوس پوری کرنے کے لئے میرے کمرے میں گھسا ،میرے شور مچانے پر اسے پکڑ تو لیا گیا لیکن قانونی کارروائی کیوں نہیں کی گئی ،کمانڈر نے مجھے چپ رہنے کے لئے کیوں کہا،وہ سرعام کہہ رہی ہے کہ مجھے بتائیں کہ ان افسران کی بہن بیٹیوں کے ساتھ ایسا کچھ ہو توکیا یہ اسی طرح سکون سے بیٹھے رہیں گے ؟

کرن جیت کور سوال اٹھا رہی ہے کہ کیاہم بہن بیٹیوں کو اس کام کے لئے فوج میں بھرتی کیا جاتا ہے ؟ سیلانی اسی اسٹوری پرکام کر رہا تھااوراپنے ’’جام جمشید‘‘سے بھارتی فوج کے کرتوت کھنگال رہا تھا ابھی وہ اپنی ماتحت پر مجرمانہ حملہ کرنے والے میجر جنرل آر ایس جسوال کے کورٹ مارشل تک پہنچا تھا کہ بیگم پہنچ گئیں اور سیلانی کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا ۔ ’’بھئی یہ کیا ہے ‘‘سیلانی نے بیگم کاموڈ دیکھتے ہوئے اپنی غراہٹ منمناہمٹ میں بدلی’’ مجھے ہانڈی پکانی ہے ،زرا گھڑی دیکھیں گیارہ بج رہے ہیں ،آپ کب سبزی لائیں گے کب کٹے گی اور کب پکے گی ۔۔۔نہیں لانی تو مجھے بتادیں میں پھر دال ابال لیتی ہوں مجھے کیا‘‘یہ سن کر سیلانی ایک دم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ،کل ناشتے سے لے کر رات کے کھانے تک وہ تین بار دال خوری کر چکا تھا اب مزید ہمت نہ تھی ۔’’لانا کیا کیا ہے‘‘ اس نے جوتے پہنتے ہوئے پوچھا’’پیاز ،ٹماٹر بالکل بھی نہیں ہیں ،مٹر اور گوبھی لیتے آیئے گا،پچھلی بار ادرک خراب تھی چیز لیتے ہوئے زرا چیک بھی کر لیا کریں ،پیسے دیتے ہیں مفت میں تو نہیں لاتے‘‘بیگم نے موٹرسائیکل کی چابی اور سبزی کا تھیلا بڑھاتے ہوئے ہدایات دیں،آج بیگم کا موڈکچھ زیادہ ہی آف تھادراصل کام کرنے والی ماسی دو دن سے نہیں آرہی تھی ۔

سیلانی نے موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور سبزی منڈی کی طرف چل پڑا،اسکے گھر سے سبزی منڈی بمشکل ڈیڑھ دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے،یہاں تازہ سبزیاں اور پھل بازار کی نسبت مناسب نرخ پر مل جاتے ہیں اب یہ الگ بات ہے کہ آجکل یہ مناسب نرخ بھی انتہائی نامناسب لگتے ہیں، یہاں کا ایک مسئلہ اورہے کہ یہاں زیادہ تردھڑی کا حساب چلتا ہے ،دھڑی کا مطلب ہے پانچ کلو،آلو ،پیاز ،ٹماٹر تو ہفتہ بھر کے لئے دھڑی دھڑی چل جاتے ہیں لیکن پانچ پانچ کلو بینگن اور کدو، توری کا بندہ کیا کرے ؟ منڈی میں پھیری والوں سے کلو ،دو کلو سبزی مل بھی جاتی ہے لیکن اسکی قیمت دھڑی والی نہیں ہوتی کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے پھر بھی منڈی سے باہر کی قیمت میں کافی فرق ہوتا ہے ۔ یہاں آلو چالیس روپے کلو ہیں تو سامنے مارکیٹ میں ستر سے کم کے نہ ہوں گے،پچھلی بار یہاں مٹر ساٹھ روپے کلو تھے اور باہر سو روپے کلو، سبزی منڈی آنے جانے سے اسے اندازہ ہوا کہ اصلی اور نسلی قصاب تو یہ سبزی فروش ہیں جو بنا چھری کے گاہک کی کھال اتار کر سامنے بچھا دیتے ہیں ۔سیلانی نے مندی پہنچ کر ایک طرف موٹر سائیکل کھڑی کی اور ٹوکری لے کر سستے ٹماٹروں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا،

ا س نے ایک جگہ نرخ پوچھے جواب ملا چھ سو رپے دھڑی،سیلانی نے ایک نظرٹیبل ٹینس کے سائز کے ٹماٹروں پر ڈالی اوردوسری ایک سو بیس روپے کلو قیمت مانگنے والے کے چہرے کی طرف اور عاجزی سے کہا’’یار ! یہ بہت چھوٹے نہیں ؟‘‘ ’’اچھا جی ‘‘ اس نے تمسخرانہ اندا زمیں سیلانی کو دیکھا اور بولا’’ہچھے ٹماٹور بھی ہیں ،ہزار روپے دھڑی ،نکالوں ؟‘‘ دکاندار نے مری کی عباسی برادری کے لہجے میں طنزکا دستی بم پھینکا ..’’نہیں جی نہیں اسے بنک کے لاکر ہی میں رہنے دو ‘‘ سیلانی اسے بڑبڑاتا چھور کر آگے بڑھ گیا ،منڈی میں پیاز ٹماٹر کی قیمتوں کو آگ لگی ہوئی تھی پیاز کی دھڑی چار سو روپے سے کم نہ تھی اور ٹماٹروں کے تو مزاج ہی نہ ملتے تھے سیلانی نے بہت ڈھونڈ ڈھانڈ کر ایک جگہ سودا بنایا اور چن کر ٹماٹر ڈالنے لگا ہی تھا کہ دکاندار نے جھپٹ کر اسکے ہاتھ سے تھیلی چھین لی،سیلانی نے اسکے سرخ ٹماٹر چہرے کی جانب دیکھا تووہ پیشانی پر بل ڈال کر کہنے لگا’’چنتا کیوں ہے ،بس ادھر سے ڈالو ’’او بھائی !جب پیسے میں تمہاری مرضی کے دے رہا ہوں تو مال اپنی پسند کا نہ لوں‘‘ ’’واہ تو یہ جو تم ریجیکٹ کرے گا یہ کس کو دے گا‘‘ ’’یہ خراب مال نکال کر ایک طرف رکھو ،کیوں کسی کو دو گے ‘‘

’’جاؤ یار ! ہم تم کو سودا نہیں بیچتا ،دماغ خراب نہیں کرو‘‘بدمزاج دکاندار سے الجھنے کا کوئی فائدہ نہ تھا اسے یاد آیا کہ وہ اسلام آباد کی منڈی میں ہے کراچی میں نہیں ،یہاں گاہک کو سودا چننے کی اجازت نہیں ہوتی ،مال دکاندار کی مرضی سے لینا ہوتا ہے سیلانی نے ٹھنڈی سانس لی اور ٹماٹر فروش سمیت اسکے ٹماٹر وں پر تین حرف بھیج کر آلو پیاز لینے چلا آیا،یہاں اسے ایک سفید ریش صحت مند جسم کے باباجی اسٹال پر پیاز چھانٹتے ہوئے ملے ،سیلانی نے سلام کیا اور پیاز کے نرخ پوچھے تو اس نے دیگر دکانداروں سے پچاس روپے کم بتائے ،سیلانی نے جھٹ سے ایک دھڑی پیاز تولنے کے لئے کہا اور پھر مشکوک لہجے میں سوال کیا’’یہ گیلے پیاز تو نہیں ؟‘‘ ’’اواللہ کا بندہ ،یہ گیلا کدھر سے آگیا،گیلا تو وہ سامنے پڑا ہوا ہے اس کا ریٹ اور کم ہے بولو تو وہ تول کرے ؟‘‘دکاندار نے پشتون لب و لہجے میں بتایا’’نہیں ،نہیں گیلاپیاز نہیں چاہئے،اچھا یہ بڑا بڑا پیا ز نکا ل دو‘‘سابقہ تجربے کے پیش نظر سیلانی نے لہجے کوقدرے درخواستی کرلیاتھا،اس نے حیرت انگیز طور پرسیلانی کی فرمائش کے مطابق بڑے بڑے پیاز نکال کر ڈھیر پر واپس اچھالے اورکہنے لگا’’میں تول کرتا ہوں پھر تم کو جو نکالنا ہو نکا ل کرو، مشکل نہیں ہے ‘‘'''

اب سیلانی کو حیرت کا دوسرا جھٹکا لگا اس دکاندار کے نرخ ہی کم نہ تھے اخلاق بھی اونچے تھے۔سیلانی اس کے پاس بیٹھ گیا وہ بندہ مسلسل زیر لب کچھ پڑھے بھی جارہا تھا اسے اندازہ ہوا کہ وہ تسبیح پڑھ رہا ہے ،مذہبی مزاج کا کھرادیندار بندہ لگ رہا تھا سیلانی نے اس سے پوچھا آپ الگ طریقے سے دکان چلا رہے ہو ۔
’’وہ کیسے ؟‘‘ ’’آپکے ریٹ بھی ٹھیک ہیں ،سودا بھی گاہک کی مرضی کا دیتے ہو ، سڑی ہوئی چیز بھی نہیں ڈالتے ‘‘سیلانی کی بات سن کر وہ ہنس کرکہنے لگے ’’ہہم ان سب سے چالاک ہے یہ صرف بندوں سے کاروبارکرتا ہے ہم مخلوق سے بھی کاروبار کرتا ہے اور خالق سے بھی، ہم زیادہ مزے میں رہتا ہے ،وہ صرف نوٹ کماتا ہے اور ہم جنت بھی کماتا ہے۔۔۔دیکھو یہ تجارت بڑا کام ہے ،ہم مال چھانٹی کرتا ہے جو بالکل خراب ہوتا ہے اسے پھینک دیتا ہے جو کم عیب دار ہوتا ہے اسکو الگ کر دیتا ہوں اور گاہک کو بتا دیتا ہوں کہ یہ والا سستا اور عیب والا ہے ہم سے اللہ بھی راضی ہوتا ہے اور گاہک بھی ،ہم تو ایک کام سے تین تین فائدہ لے رہا ہے سب سے بڑا بات یہ کہ ہمارا گھر میں دکھ بیماری بہت کم ہے اب تم بتاؤ زیادہ فائدے میں کون ہے اوز زیادہ چالاک کون ہے ۔

بابا کی بات سن کر سیلانی کے منہ سے بے اختیار نکلا ’’زندہ باد‘‘اسکا ہاتھ بابا سے مصافحے کے لئے بڑھ گیا بابا نے مسکراتے ہوئے گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور دوسرے ہاتھ سے پیازوں کا تھیلا سیلانی کی طرف بڑھا دیا جسے لے کر وہ بابا سے دعاؤں کی درخواست کرتا ہواموٹر سائیکل کی جانب چل پڑا،آس پاس سبزی فروش طرح طرح کی آوازیں لگاکرسبزیاں بیچ رہے تھے اور نفع کما رہے تھے لیکن وہ بابا اسی لاگت میں نفع بھی کما رہا تھا اور جنت بھی اورمیلہ تو وہ ہی لوٹ رہا تھا،سیلانی نے یہ سوچتے ہوئے یکبارگی پیچھے مڑ کر دیکھا اور پیاز کی بوری چھانٹتے ہوئے کھرے تاجر کودیکھتا رہا دیکھتا رہاا ور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.