بچے اور مسجد - سعدیہ طاہر

"اسماء بھئ عاطف کو پکڑو میں نماز پڑھنے جارہا ہوں " نعمان کی تیسری صداپہ اسماء چھوٹے بچے کو کھانا کھلارہی تھی بھاگ کے باہر آئ روتے ہوئے 6 سالہ بچے عاطف کو پکڑنے کی کوشش کی جو بلک کے رو رہا تھا کہ میں بھی مسجد جاونگا۔۔ "کیا ہوگیا نعمان بچہ اتنی ضد کر رہا ہے تو لے جائیں مسجد" اسماء اس کی ضد دیکھتے ہوئے بولی .."

نہیں بھئ مسجد میں یہ جاتے ہی خوشی سے شور مچانے لگتا ہے پہلے تو سب ہی ڈانٹتے لگتے ہیں پھر جیسے نماز شروع ہوتی ہے یہ جھک جھک سب کو دیکھتا ہے ۔۔ میں نے بہت سمجھایا لیکن نہیں سنتا اب میں تو اپنے بچے کی اس معصومانہ حرکت کو برداشت کرلیتا ہوں لیکن دوسرے نمازی ناراض ہوتے ہیں ۔۔۔کل ہی شریف صاحب نے باقاعدہ مسجد میں اعلان کیا ہے کہ بچوں کو مسجد میں نہ لایا جائے اس سے دوسرے نمازیوں کی نماز خراب ہوتی ہے۔۔" بھئ میں یا تو خود نماز نہ پڑھوں یا اس کو ساتھ لے کر نہ جاوں۔۔نعمان غصہ سے کہتے ہوئے نکل گئے ۔۔ اسماء روتے ہوئے عاطف کو چپ کروانے لگی۔۔یہ بچہ بھی عجیب ہے چھوٹی سی عمر میں ہی اس کو نماز پڑھنے جانے کا شوق ہے جب بڑا ہوجائے تب چلا جائے ۔۔عاطف وہ بچہ ہے جو کھیل بھی اس طرح کے کھیلتا ہے کہ اپنی کھلونا گاڑی میں بیٹھ کے۔۔ کہ نماز کا ٹائم ہورہا ہے سب کو گاڑی میں جمع کرکے مسجد لے کر جانا ہے ۔۔۔ روتے ہوئے عاطف کو سمجھانے میں ناکام ہونے پر اسماء موبائل کھول کے بیٹھی ہی تھی کہ ایک ویڈیو پہ نظر پڑی

جس میں ترکی کے بچوں کے لئے مسجد میں الگ جگہ بنائی گئ ہے اور انکو نہ صرف مختلف تفریحات فراہم کی گئ ہیں بلکہ انکی تربیت کے لئے والیئنٹری استاد بھی رکھے گئے ہیں ۔۔ جس کا مقصد نہ صرف یہ ہے کہ ماں اور باپ دونوں اطمینان سے نماز پڑھ سکیں بلکہ بچوں کو بھی نماز ور مسجد سے انسیت اور رغبت پیدا ہو ۔۔کہ یہ بچے جب تک بڑے ہونگے تو انکو ڈانٹ ڈانٹ مسجد سے دور کردیا جاتا ہے ۔ والدین اور تمام بالغ مرد و زن کو چاہیے کہ وہ وقتاًفوقتاً اُسُوئہ حسنہ کا مطالعہ کریں پڑھیں اور جانیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بچوں کے ساتھ کس قسم کا سلوک روا رکھا۔ یوں ہدایت پاکر وہ بھی بچوں کے ساتھ درست رویہ اپنائیں گے۔ یہاں تو یہ بھی ہے کہ عورتوں کے لئے بھی مسجد میں کوئی جگہ میسر نہیں جب گھر سے باہر اذان ہوجائے تو مرد حضرات نماز کے لئے مسجد چلے جاتے ہیں اور خواتین باہر بچوں کو لئے بیٹھی ہوتی ہیں یا ھر مرد بھی سیکیورٹی کے خوف سے خود بھی نماز پڑھنے سے رہ جاتے ہیں۔۔ سعودی عرب کے علاوہ بھی بہت سے ممالک میں مساجد میں عورتوں کی الگ جگہ بنائ جاتی ہے ۔۔

یہ بھی پڑھیں:   بچے قوم کا قیمتی سرمایہ - رانا اعجاز حسین چوہان

تاکہ وہ بچے جو نماز میں خلل ڈالیں انکے لئے الگ جگہ فراہم کی جائے اور جو بچے ابھی چھوٹے ہوں انکو نبی ص کے طریقے کے مطابق پچھلی صفوں میں جگہ دی جائے۔۔ جیسا کہ حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے (ایک مرتبہ لوگوں سے) فرمایا کہ کیا میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (کا طریقہ) بیان نہ کروں ؟ (سنو! میں تمہارے سامنے آپ کی نماز کا طریقہ بیان کرتاہوں) پھر بیان کیاکہ آپ نے نماز قائم فرمائی، تو پہلے آپ نے مردوں کی صفیں بنائیں ، ان کے پیچھے بچوں کی صفیں بنائیں، پھر آپ نے ان کو نماز پڑھائی ۔ ابومالک رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز کا طریقہ ذکر کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی نماز کا یہی طریقہ ہے۔“ ہمارے منتظمین اس بات کی طرف توجہ دیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مساجد میں خواتین کے لئے الگ باپردہ جگہوں کا انتظام کیا جائے تاکہ اس اہم فرض سے کوئی محروم نہ رہے۔