ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی انکوائری: سابق سفیر کی گواہی کے دوران امریکی صدر کی ٹویٹ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی میں گواہی دینے والی یوکرین میں سابق امریکی سفیر میری یووانوچ کو اس وقت ٹوئٹر پر نشانہ بنایا جب وہ اپنا بیان ریکارڈ کروا رہی تھیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی ’جہاں بھی میری کو بھیجا گیا وہاں کام خراب ہوا۔ انھوں نے صومالیہ سے شروعات کی وہاں کیا ہوا؟ اس کے بعد وہ یوکرین میں سفیر بنیں۔ یوکرین کے نئے منتخب صدر کے ساتھ میری دوسری ٹیلی فون بات چیت میں انھوں نے یووانوچ کے خلاف بات کی۔ امریکی صدر کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی کو بھی سفیر نامزد کرے۔‘سابق سفیر میری یووانوچ نے امریکی صدر کی اس ٹویٹ کو بہت ’دھمکانے‘ والی بات قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے کچھ وقت بعد اس کے جواب میں کہا کہ ان کی ٹویٹ بالکل بھی دھمکانے والی نہیں تھیں۔امریکی صدر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے مواخذے کی کچھ کارروائی دیکھی تھی اور وہ اسے شرمناک سمجھتے ہیں۔


کارروائی کے دوران کیا ہوا؟
کارروائی کے سربراہ ایڈم شف نے سابق سفیر میری یووانوچ کو کارروائی کے دوران صدر کی طرف سے تنقید کے بارے میں خبردار کیا تھا۔امریکی صدر کے ٹویٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے میری یووانوچ نے کہا ’میں واقعتاً ایسا سوچتی ہوں کہ کئی سالوں میں، میں نے جہاں بھی کام کیا، تو میں نے اور دوسروں نے بھی امریکہ اور جہاں جہاں میں نے خدمات سر انجام دیں ہیں، چیزوں کو بہتر کرنے کی کوشش کی۔‘ٹیلی ویژن سماعت کے دوران ان کا یہ جواب براہ راست نشر کیا گیا۔امریکی صدر کے خلاف مواخذے کی انکوائری کرنے والی انٹیلی جنس کمیٹی کے ڈیموکریٹک چیئرمین ایڈم شیف نے تجویز کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹس کو گواہ کو دھمکانے میں کیٹیگری میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

سفیر میری یووانوچ نے کارروائی کے دوران کیا بتایا؟
میری یووانوچ نے امریکی صدر کے خلاف گواہی دیتے ہوئے بتایا کہ صدر ٹرمپ کے ذاتی وکیل روڈی جیولیانی ان کے خلاف سازشیں کرتے رہیں ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ روڈی جیولیانی ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور یوکرین پر جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے زور ڈالتے رہے ہیں۔جمعے کے روز سابق سفیر نے مائیک پومپیو کی سربراہی میں امریکی محکمہ خارجہ پر ’غیر ملکی اور بدعنوان مفادات‘ کے خلاف مزاحمت میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔انھوں نے کہا کہ یوکرین کے بارے میں امریکہ کی پالیسی کو ’ہائی جیک‘ کیا گیا ہے۔میری یوانوچ یوکرین میں امریکہ کی سفیر تھیں اور ان کے یہ عہدہ چھوڑنے کے بعد ان کی جگہ یوکرین میں موجودہ قائم مقام سفیر بل ٹیلر نے لی ہے۔


امریکی صدر پر الزام کیا ہے؟
امریکی صدر پر الزام ہے کہ انھوں نے یوکرین کو دی جانے والی فوجی امداد روک لی تھی تاکہ وہ یوکرین کے نو منتخب صدر کو اس بات پر مجبور کر سکیں کہ جو بائیڈن کے بیٹے کے خلاف مبینہ کرپشن کے الزامات میں تحقیقات شروع کروائیں۔صدر ٹرمپ امریکہ کے ایوان نمائندگان میں صدر کے مواخذے کے لیے کی جانے والی تحقیقات کو ایک ’انتقامی کارروائی‘ قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   طلبہ اور سیاست ، قائدِ اعظم کی نظر میں - محمد ریاض علیمی

کارروائی میں اس سے پہلے کیا ہوا ہے؟
ایک اعلیٰ سفارت کار نے اس کارروائی کے دوران انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اپنے صدارتی مدمقابل کے خلاف یوکرین میں تحقیقات کے بارے میں صاف طور پر بات کی تھی۔یوکرین میں امریکہ کے قائم مقام سفیر بل ٹیلر نے مواخذے کی تحقیقاتی کمیٹی کو بتایا کہ ان کے عملے میں شامل ایک اہلکار کو کہا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ بڑی شدت سے چاہتے ہیں کہ جو بائڈن کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں یاد نہیں کہ کبھی انھوں نے ایسی بات کی ہو۔ وہ کسی بھی قسم کی بے قاعدگی سے انکار کرتے ہیں۔ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ بدھ کے روز ہونے والی سماعت میں صدر ٹرمپ کے خلاف رشوت کے ثبوت فراہم کیے گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام نے امریکی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔


ٹرمپ نے کیا کہا تھا؟
بل ٹیلر نے اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ ان کے عملے میں شامل ایک اہلکار نے صدر ٹرمپ سے فون پر ہونے والی ایک گفتگو سنی تھی جس میں جوبائڈن کے بیٹے کے خلاف تحقیقات کے بارے میں صدر ٹرمپ نے پوچھا تھا۔فون پر ہونے والی یہ گفتگو یورپی یونین میں امریکی سفیر گورڈن سونڈلینڈ سے ہو رہی تھی جنھوں نے ایک ریسٹورانٹ سے فون پر صدر سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوکرین کی حکومت یہ کرنے کو تیار ہے۔ٹیلر کا کہنا تھا کہ صدر سے فون پر ہونے والی اس گفتگو کے بارے میں امریکی سفیر سونڈلینڈ کے عملے نے جب ان سے دریافت کیا کہ صدر یوکرین کے بارے میں کیا سوچتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو جو بائیڈن کے بارے میں تحقیقات کی زیادہ فکر ہے۔

درین اثناء مبصرین اور سابق سکیورٹی حکام نے اس طرف توجہ مبذول کرائی ہے کہ ریسٹورنٹ سے فون کرنا بڑی حد تک خطرناک ہو سکتا ہے۔اس مہینے کے شروع میں سونڈلینڈ کے بارے میں جب صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی ایسے شخص کو شاید ہی جانتے ہوں۔ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا میں اس پہلی مرتبہ یہ بات سن رہا ہوں۔‘صدر نے کہا کہ ٹیلر نے جس فون کال کی بات کی ہے اس کے بارے میں انھیں کچھ یاد نہیں اور یہ ہر صورت میں بلواسط اطلاعات ہیں۔صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحقیقات ایک ماہ سے چل رہی ہیں لیکن اس سے پہلے ہونے والی تمام تحقیقات بند کمرے میں ہوئی تھیں اور تمام رپورٹیں باہر آنے والی معلومات یا ذرائع کے اخبار نویسوں سے بات کرنے پر مبنی تھیں۔

بدھ کو ہونے والی سماعت پہلی مرتبہ کھلے عام کی گئیں جس میں امریکی عوام نے براہ راست گواہان کو سنا۔ ڈیموکریٹ اور رپبلکن جماعت کے ارکان کے پاس بھی اپنے ووٹروں کو خوش کرنے کا یہ پہلا موقع تھا۔صدر ٹرمپ اور سونڈلینڈ کے درمیان براہ راست فون لائن ہونے کے بارے میں اطلاعات تھیں لیکن کوئی ایسا ثبوت موجود نہیں تھا جو صدر ٹرمپ کو اس مبینہ سودے بازی دو سے جوڑے۔ٹیلر نے کہا کہا اس فون کال نے سب بدل دیا ہے۔بدھ کو ہونے والی سماعت کے دوران ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی نے اعلان کیا کہ ایک نیا گواہ جمعہ کو بند کمرے کے اجلاس میں اپنا بیان قلمبند کرائے گا اور اس کا نام ڈیوڈ ہومز ہے جو اطلاعات کے مطابق ٹیلر کا ایک معتمد خاص ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آمریت سے بغاوت کرنے والوں کو سلام - ایم سرورصدیقی


اگلے ہفتے سونڈلینڈ کو بھی ایک کھلی سماعت میں پیش ہو کر بیان دینا ہے۔اگر یہ دونوں گواہان بل ٹیلر کے بیان کی تصدیق کرتے ہیں تو صدر ٹرمپ کے حامیوں کا موقف کمزور پڑ جائے گا جیسے بل ٹیلر نے بیان کیا یوکرین پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ بائیڈن کے خلاف تحقیقات کریں۔ڈیموکریٹ کے لیے یہ ایک اطمینان بخش پیشرفت ہے جبکہ صدر کی ٹیم کے لیے نیا درد سر بن گئے ہیں۔

بدھ کے روز سماعت میں کیا ہوا؟
بدھ کو ہونے والی سماعت یورپی امور کے امریکی اعلیٰ سفارت کار جارج کینٹ کے بیان سے شروع ہوئی۔انھوں نے کمیٹی کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کے نجی وکیل رُڈی گیولانی نے یورکرین میں تعینات امریکی سفیر میری یووینووچ کو بدنام کرنے کی مہم چلائی۔اس کے بعد بل ٹیلر نے اپنے بیان میں وہ باتیں دہرائیں جو اس سے پہلے وہ بند کمرے کی سماعتوں میں کہہ چکے ہیں لیکن کھلے عام ہونے والی اس سماعت میں انھیں کچھ نئی باتیں بھی بتائیں۔بل ٹیلر پیشہ ور سفارت کار ہیں جو رپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے صدور کے ادوار میں سفارت کار رہ چکے ہیں۔ انھوں نے یہ بات دہرائی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یوکرین کی فوجی امداد روکنے کی دھمکی دی تھی اگر وہ بائیڈن کے خلاف تحقیقات کرنے کا اعلان نہیں کرتے۔انھوں نے کہا کہ انھوں نے سونڈلینڈ اور کرٹ والکر کو، جو یوکرین میں امریکہ کے خصوصی نمائندوں کی حیثیت میں خدمات انجام دے چکے ہیں، بتایا کہ اندورنی سیاست کے لیے فوجی امداد کو روکنا پاگل پن ہے۔

ایڈم شیف جو ہاؤس کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ہیں وہ اس سماعت کی سربراہی کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے صدر ٹرمپ کے خلاف تحقیقات کا مقصد یہ جاننا ہے کہ کیا صدر نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے امریکہ کے اندرونی سیاسی معاملات میں دوسرے ملکوں کو دخل اندازی کی دعوت دی ہے۔انھوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ مواخذے کی بنیاد نہیں بنتا تو پھر یہ کیا ہے؟انٹیلی جنس کمیٹی میں شامل اعلیٰ ریپبلکن رکن اور صدر ٹرمپ کے شدید حمایتی ڈیون نیونس نے اس سماعت کو ایک ڈرامہ قرار دیا۔رپبلکن جماعت کے ارکان کا مطالبہ ہے اس نامعلوم اہلکار کو بند کمرے کی سماعت کے لیے پیش کیا جائے جس نے یہ سارا معاملہ آشکار کیا تھا جس کی بنا پر مواخذے کی یہ سماعت شروع ہوئی ہے۔تاہم ایڈم شیف نے کہا ہے کہ وہ اس شخص کی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے جو کچھ ضروری ہے کریں گے۔