حقیقی کامیابی - فرح اخلاق

کیریئر, گولز, سکسس(success) آجکل ہر کسی کی زبان پر بس یہی ایک رٹ ہے. زندگی کا محور و مقصد اچھی ڈگری , اچھی جاب , اچھا رشتہ اور ایک پر آسائش زندگی بن کر رہ گئی ہم لوگوں میں سے کامیاب وہ قرار پاتا ہے جو ترقی کی راہوں پر گامزن ہو , جس کے خواب پورے ہورہے ہوں , جس کے کیریئر کی راہ میں رکاوٹیں حائل نہ ہوں .

ہم کسی ایک پوائنٹ پر ٹھرنا نہیں چاہتے . اگر اچھی ڈگری مل جائے تو اچھی جاب کے لئے جدوجہد اچھی جاب مل جائے تو فارن نیشنیلٹی کے خواب یعنی مسلسل ترقی مسلسل جدوجہد.... لیکن کیا کبھی سوچا ہے کہ یہ زندگی جو اتنی بڑی نعمت ہے صرف کیریئر بنانے, خواب دیکھنے اور انہیں پورا کرنے کیلئے دی گئی ہے؟؟ کیا ہمیں بہت پہلے نہیں بتا دیا گیا تھا کہ حقیقی کامیابی کیا ہے ؟ ہمارا مقصد حیات کیا ہے؟ فرد کی سطح پر ہوں, معاشرے کی سطح پر یا حکومتی سطح پر کون سا فرد کامیاب قرار پائے گا ؟ کونسا معاشرہ فوز و فلاح پائے گا ؟ سورہ العصر میں اللہ تعالی زمانے کی قسم کھا کر حقیقی کامیابی کا پیمانہ بیان فرما رہے ہیں " قسم ہے زمانے کی انسان سراسر خسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے, جنہوں نے عمل صالح کیا , حق کی نصیحت کی اور صبر کی تلقین کی " ان تین آیات میں اللہ تعالیٰ نے زندگی کا مفہوم, کامیابی اور ناکامی کا پیمانہ , مقصد زندگی سب کچھ واضح کردیا . امام رازی نے کسی بزرگ کا قول نقل فرمایا ہے . کہ میں نے سورہ العصر کا مطلب ایک برف فروش سے سمجھا جو بازار میں برف فروخت کرنے کے لیے آواز لگارہا تھا ' رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ گھلا جارہا ہے, رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ گھلا جارہا ہے '

برف فروش کی اس بات سے یہ مطلب اخذ کیا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں جتنا مدت قیام دیا ہے وہ برف کی طرح تیزی سے پگھلا جارہا ہے لیکن ہم انسان اتنے غافل ہیں کہ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہورہا کہ ہمارا سرمایہ حیات کتنی تیزی سے گھل رہا ہے. اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور فرمایا یہ زمین پر میرا نائب ہے یعنی ہم اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے نائب ہیں اور نائب کی حیثیت سے ہمارا کام اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کے نفاذ کی جدوجہد ہے. اگر ہم اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں تو مکمل طور پر دنیاوی امور میں ڈوبی ہوئی نظر آئیں گی جبکہ زندگی عطا کرنے والے کے نزدیک اس دنیا کی زندگی کی حیثیت ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے . سورہ آل عمران میں فرمایا گیا: " کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے رہی یہ دنیا تو یہ محض ظاہری فریب چیز ہے". خواب دیکھنا انہیں پورا کرنا, کیریئر بنانے کیلئے جدوجہد کرنا یہ سب زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے لیکن یہ کل نہیں ہے اپنے مقصد حیات کو سامنے رکھ کر ان سب چیزوں کے لئے جدوجہد کرنے میں کوئی حرج نہیں.

یہ بھی پڑھیں:   کامیابی مگر کیسے - محمد احمد

لیکن اسی کو مقصد زندگی بنالینا, کامیابی اور ناکامی کے معیارات اچھی ڈگری , اچھی جاب کو دیکھ کر طے کرنا یہ ٹھیک نہیں ہے. ہمیں یہ نہیں کہا گیا کہ غاروں میں چلے جاؤ ویرانوں میں بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرو بلکہ اسی پر آسائش زندگی میں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزارنے کا حکم دیا گیا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اصل مقصد زندگی کو پہچانیں, اس کیلئے ہر ممکن کوشش اور جدوجہد کریں انفرادی اور اجتماعی زندگی میں حق کا اور حق پر چلنے والوں کا ساتھ دیں تاکہ ہماری دنیا اور آخرت دونوں کامیاب اور پرسکون ہوں اور ہم اعلی جنتوں میں داخلے کے حقدار ٹھیریں.
" تو خوش نصیب نہیں ہو کہ زندگی رکھتے ہو - خوش نصیب ہو کہ مقصد زندگی رکھتے ہو
پس پناہ مانگو اس زندگی سے' جس کا کوئی مقصد نہ ہو - اس سفر' سے جس کی کوئی منزل نہ ہو
اس عمل سے' جو وجود بخشنے والے کی خشنودی کیلئے نہ ہو - اس قدم سے' جو اس کی راہ میں نہ اٹھیں
اور اس سانس سے جس میں اس کی آنچ نہ ہو "
مظفر بیگ از حاصل

ٹیگز