کدھر جائیں؟ محمد وقار بھٹی

کراچی: ماہرین صحت کہتے ہیں کہ اگر آوارہ کتا کاٹ لے تو زخم صابن اور پانی سے دھو ڈالیں، مریض کو جلد سے جلد جلد کسی بڑے اسپتال لے جائیں اور کتے کے کاٹنے کی ویکسین یعنی اینٹی ریبیز ویکسین لگوائیں۔

مگر سوال تو یہ ہے کہ اگر کتے پورا چہرہ ہی نوچ کھائیں، کسی 6 سالہ بچے کےگال بھنبھوڑ ڈالیں، ناک اور کان چبا ڈالیں اور اور سر کی کھال کھینچ لیں تو ایسے زخموں کو کیسے دھوئیں اور کہاں صابن لگائیں؟ اور پھر جب آپ اپنے لخت جگر کو شہر کے سب سے بڑے اسپتال لے کر جائیں اس امید پر کہ وہاں تو علاج ہوگا مگر آپ کو ساڑھے چار سو کلومیٹر دور صوبے کے سب سے بڑے خیراتی اسپتال جانے کا کہہ دیا جائے تو پھر آپ کیا کریں ؟ اور پھر جب آپ اپنے گھر سے ساڑھے چار سو کلومیٹر دور معروف خیراتی ہسپتال تک اس امید کے ساتھ پہنچیں کہ شاید وہاں آپ کے جگر گوشے کو کوئی طبی امداد ملے گی مگر وہاں سے بھی آپ کو صوبائی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال بھیج دیا جائے تو پھر آپ کیا کریں۔ بات یہیں ختم ہو جائے تو کیا بات ہو لیکن جب صوبائی دارلحکومت کا سب سے بڑا ہسپتال آدھے چہرے سے محروم، خون رستے زخموں سے نڈھال جاں بہ لب مریض کو بچوں کے سب سے بڑے اسپتال کی طرف روانہ کر دے تو ایسی صورت میں آپ کیا کریں
کدھر جائیں، کس سے داد رسی چاہیں۔

سندھ کے پیرس لاڑکانہ کے رہائشی غلام حسین کو بڑا مان تھا اپنی صوبائی سرکار پر، اس کے بنائے صحت کے نظام پر جہاں بقول شخصے علاج کے لیے نہ صرف صرف دوسرے صوبوں بلکہ بیرون ملک سے لوگ جوق در جوق علاج کروانے آرہے ہیں مگر یہ مان اور بھرم صرف اس وقت تک قائم رہا جب تک اس نے زخموں سے چور اپنے جگر گوشے کے ساتھ لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل سینٹر کی دہلیز پار نہیں کی تھی۔ پھر اس کے بعد ایک لمبی داستان ہے . ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال، دوسرے اسپتال، سے تیسرے اسپتال اور پھر چوتھے اسپتال کیونکہ اس ملک میں حکمرانوں، ان کی اولادوں، اور مغرب ذدہ آنٹیوں کو آوارہ کتے اور ان کے حقوق زیادہ عزیز ہیں بنسبت گلیوں میں پھرنے والے والے حقیر غلاموں اور ابن غلاموں کے، جو کے صرف اس لئے لیے پیدا کیے گئے کہ وہ وہ ان کے حق میں، زندہ ہے زندہ ہے . جئے اور سدا جئے
کے فلک شگاف نعرے لگاتے رہیں ، اور اسی حال میں مست رہیں ، چھوڑیں حسنین اور اس کی داستان کو آپ اور میں بھی مل کر یہی نعرہ لگاتے ہیں ،
زندہ ہے ****زندہ ہے ، جئے **** سدا جئے

ٹیگز