بلوچستان یونیورسٹی اور یونیفارم - گہرام اسلم بلوچ

بلوچستان یونیورسٹی میں مارچ 2020 کو تمام اسٹوڈنٹس کے لیے یونیفارم پہنا لازمی قرار دینا کا نوٹیفکیشن کو ایک ایسے وقت میں جاری کیا جب بلوچستان یونیورسٹی کے طلبا و طالبات جامعہ بلوچستان میں جنسی ہراسگی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ کرنے میں انتہائی منظم انداز میں اپنی سخت موقف کیساتھ کھڑے ہیں۔ اس واقعے مے خلاف طلبا تنظیموں کی جانب سے تمام نظریاتی و تنظیمی اختلافات کے باوجود اس مسلے پہ ایک پیج پر متحد ہیں اور منظم انداز میں کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان بھر میں احتجاج کے تمام حربے استعمال کئے ہیں۔

اس وقعےکے بعد ملک بھر کے میڈیا کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کیا اور سوشل میڈیا پر شدید مذمت کرنے اور طلبا کی حمایت میں تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے طلبا تنظیموں کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے شرکت کی۔ اس مسلے کے خلاف جب طلبا تحریک زور پھکڑ رہی تھی کہ اچانک یونیورسٹی انتظامیہ نے اس مسلے کو دبانے کے لیے ہمیشہ کی طرح دوسرا یونیفارم والا نوٹیفیکشن جاری کی تاکہ طلبا اور سول سوسائٹی کی توجہ اصل موضوع سے ہٹ جائے۔ اسوقت بلوچستان یونیورسٹی میں یونیفارم رائج کرانے کی نوبت کیوں پیش آئی آیا اسوقت بلوچستان یونیورسٹی کے تمام اکیڈمک اور انتظامی مسائل حل ہیں کہ وہ طلبا کو یونیفارم پہنا کر سکول کی یاد دلائی جائے ؟ کیا ملک کے دیگر جامعات کے مقابلہ کرنے میں بس ایک ہی چیز کی کمی تھی ؟ کیا پاکستان کے دیگر تمام جامعات میں یونیفارم ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی جدید دور کے تقاضوں کے مقابلے میں پیچے رہ گئی ہے ؟

یونیورسٹی اپنے بیانیے کی پرچار کے لیے تمام کمزور صحافتی اداروں اور لفافہ جرنلزم کا سہارا لیتے ہوئے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ جب اسٹوڈنٹس یونیفارم میں آتے ہیں تو غریب اور امیر کا فرق ختم ہوگا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس کمزور موقف کو ہوا دینے کے لیے ملک کی بڑی اردو ادارے کی آج ایک چھوٹی سے ویڈیو رپورٹ بھی اسکی کمزور موقف کی جانب جکاؤ کی تاثر دی رہی ہے اور یہی تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی میں طلبا و طالبات یونیفارم میں ہوں گے تو امیر و غریب ، کمزور و طاقتور کی تفریع ختم ہوگی تو ہم سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا حکومت خطر ے میں ہے؟ منصور آفاق

اس وقت اس اقدام اُٹھانے کے پیچے صرف انتظامیہ کے یہی عزائم ہوں گے طلبا تنظمیوں کے سربراہوں اور سیاسی سرگرمیوں کی نگرانی کرنا۔ امید ہے اس نوٹیفیکشن کو واپس لینے پر طلبا تنظمیں یونیورسٹی انتظامیہ کو واپس لینے پر مجبور کر دریں گے کیونکہ اگر اس منظم یونیٹی کے باوجود اس نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دینے میں ناکام رہے تو اس سے یونیورسٹی انتظامیہ کی مزید حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ بہت کچھ اقدامات آٹھائے گی جن کے نقصانات برائے راست طلبا تنظیمیں خود بُھگتیں گے۔

اگر یہ یونیفارم والے فیصلے پر عملدرآمد ہو گیا اور یونیفارم پہنے میں مجبور ہے تو ایک تو یہ ہوسکتا ہے کہ یونیفارم کے پیچے بہت بڑا کرپشن بھی لریں اور اگر جس دن کسی بھی طلبا نے اگر یونیفارم نہیں پہنا ہو تو ضرور اس کے بھی کوئی سزا یا فنلٹی پڑ جائے گی اور جُرمانے میں کسی بھی سزا ہوسکتی ہے۔ لہٰزا فلحال بلوچستان یونیورسٹی مزید اس طرح کے مسائل کا متعمل بہیں ہوسکتا۔ بہتر یہی ہوگا لباس سے زیادہ کردار سازی پہ توجہ دیں۔ دنیا کردار دیکھتی ہے لباس نہیں۔