شعبۂ تعلیم اور نظام تعلیم ۔۔۔توجہ اور خاطر خواہ اقدامات کے منتظر - محمد ریاض

ملک کی ترقی کا دارومدار تعلیم پر بھی منحصر ہوتا ہے۔تعلیم انسان کو اچھائی اور برائی کی تمیز سکھاتی ہے۔ صحیح اور غلط کی پہچان کراتی ہے۔ تعلیم انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنی زندگی بہتر انداز سے گزارسکے۔پوری دنیا میں تعلیمی نظام پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جو معیشت سے زیادہ تعلیم پر توجہ دیتے ہیں۔

تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں شعبۂ تعلیم بالکل لاوارث ہے۔ شعبۂ تعلیم میں اعلیٰ عہدیداروں کی عدم دلچسپی ملک کو مزید پستی کی جانب گامزن کرنے کے مترادف ہے۔ ملک میں ناخواندگی کی شرح ویسے ہی بڑھ رہی ہے۔ اور جو خواندہ ہیں وہ بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ معیار تعلیم پست ہوکر رہ گیا ہے۔ آئین کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو یکساں اور معیار ی تعلیم فراہم کرے۔ لیکن ہمارے ہاں سرکاری اسکولوں کا حال کسی سے مخفی نہیں ہے۔ سرکاری پرائمری اسکولوں میں کیا تعلیم دی جارہی ہے، اساتذہ آرہے ہیں یا وہ ڈیوٹی ٹائم میں کوئی ذاتی کاروبار کررہے ہیں؟ کوئی پرسانِ حال نہیں۔ سیکنڈری اسکولوں کی حالت بھی ایسی ہی ہے۔ بچے کس طرح آرہے ہیں، کب آرہے ہیں ، کیا پڑھ رہے ہیں؟ کسی کو نہیںمعلوم ۔ نہ پڑھنے والے سنجیدہ ہیں نہ پڑھانے والے سنجیدہ ہیں۔ اگر سرکاری کالجز کی بات کی جائے تو سوائے چند ایک کے ان کی حالت بھی مختلف نہیں ہے۔ کالجوں میں سیاست کی گندگی داخل ہوگئی ہے جو پڑھنے والے طلبہ کو بھی اپنے رنگ میں رنگ دیتی ہے۔

اسی طرح یونیورسٹیاں بھی سیاست کی بھینٹ چڑھی ہوئی ہیں۔ تعلیمی ادارے منشیات اور بدکاریوں کے اڈے بنے ہوئے ہیں۔ آئے روز کبھی کسی یونیورسٹی سے جنسی ہراسگی کے واقعات سامنے آتے ہیں، کبھی کسی کالج سے سیاسی جھگڑوں کے واقعات سامنے آجا تے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ حکومتی عہدیداروں کی شعبۂ تعلیم میں عدم دلچسپی ہے۔ تعلیمی مراکز چاہے وہ اسکول ہوں، کالج ہوں یا یونیورسٹیاں ہوں، ان سب کو سیاست کی گندگی سے پاک کرنا ہوگا۔ جب تک حکومتی سطح پر تعلیم پر توجہ نہیں دی جائے گی، اس وقت تک تعلیمی معیار بہتر نہیں ہوسکے گا۔ جہاں تک نجی تعلیمی اداروں کی بات ہے تو ان میں بھی کئی طبقات بنے ہوئے ہیں۔ تعلیم کو ضرورت سے زیادہ مہنگا کردیا گیا ہے۔ ہزاروں روپے فیس اداکرنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہے۔ تعلیم کو منافع بخش تجارت بنادیا گیا ہے۔سرمایہ دارانہ نظام نے تعلیم کے شعبے کو بھی یرغمال بنالیا ہے۔اچھے اور مہنگے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو آگے بڑھنے کے مواقع مل جاتے ہیں۔ جبکہ چھوٹے اور معمولی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے پیچھے رہ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعلی صاحب! پروفیسروں کی بھی سن لیں - امیرجان حقانی

تعلیمی میدان میں جب تک یہ طبقات ختم نہیں کیے جائیں گے، اس وقت تک کچھ نہیں ہوسکے گا۔ یکساں ، سستی اور معیاری تعلیم کا نظام لاگو کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ تعلیم کے بغیر معاشی اور معاشرتی ترقی ناممکن ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام میں سب سے بڑی خرابی نقل کا بڑھتاہوا رجحان ہے۔ ہمارے ہاں میٹرک کے امتحان کس طرح ہوتے ہیں، سب کو معلوم ہے۔ امتحانی مراکز میں کھلے عام نقل کے رجحان نے طلبہ کی عقل کو ماؤف کردیا ہے۔ یعنی نقل کی وجہ سے طلبہ کی عقل نے کام کرنا چھوڑدیا ہے۔ ان کا ذہن بن چکا ہے کہ پورسے سال پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں، بورڈ کے امتحان میں نقل کرکے آرام سے پاس ہوجائیں گے۔ مشاہدہ ہے کہ طلباء نویں جماعت میں بہت محنت کرتے ہیں، اس خوف سے کہ پیپر اب اسکول میں نہیںہوں گے بلکہ بورڈ کے پیپر ہوں گے، لیکن جب وہ نویں جماعت کے پیپر دینے جاتے ہیں اور امتحانی مرکز میں نقل کا کھلا ماحول دیکھتے ہیں تو دسویں جماعت میں بالکل بھی محنت نہیںکرتے۔ بورڈ کے امتحان کا سارا خوف ختم ہوجاتا ہے ۔ ان کا جواب یہی ہوتا ہے کہ اب محنت کرکے کیا کریں گے؟ سب نقل کررہے ہوتے ہیں، ہم بھی نقل کرکے پاس ہوجائیں گے ۔

یہ رجحان لے کر وہ میٹرک میں پاس بھی ہوجاتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے پاس میٹرک کی سند تو ہوتی ہے لیکن تعلیم کچھ نہیں ہوتی۔ یہی وہ جہ ہے کہ ملک کی اکثریت اپنے پاس تعلیمی اسناد رکھنے کے باوجود تعلیم یافتہ کہلانے کی اہل نہیں ہوتی۔ ناخواندگی کی شرح میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔ مزید یہ کہ ناخواندگی کی شرح میں اضافے کی ذمہ دار سب سے پہلے تو حکومت ہے ،پھر بعد میں وہ لوگ ہیں جو تعلیم کوانڈسٹری بنائے ہوئے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ موجودہ دور میں چائلڈ لیبر کا رجحان بہت بڑھ رہا ہے۔ کم سنی میں کام کرنے والے بچے کون ہوتے ہیں؟ باہر سے آتے ہیں؟ ہر گزنہیں۔ بلکہ یہ اسی معاشرے کے بچے ہوتے ہیں جو غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہتے ہیں اور اپنے گھر والوں کا سہارا بننے کے لیے ہوٹلوں، پتھاروں اور دکانوں پر ملازمت کرنے لگ جاتے ہیں۔ جب حکومت بھی مفت اور معیاری تعلیم نہیں دے گی اور والدین کی جیب بھی مہنگی تعلیم کی اجازت نہیں دے گی تو پھریہی ہوگا کہ چھوٹے چھوٹے بچے جن کی عمر پینسل اور کاپی تھامنے کی ہے وہ اوزار اور آلات تھام کر اپنی زندگی گزار رہے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   تعلیمی جرگہ دیامر، ایک مثبت قدم - امیرجان حقانی

پاکستان کو بنے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں، ہر چند سالوں بعد تعلیمی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں، لیکن وہ سب کاغذوں کی حد تک محدود رہتی ہیں، پھر چند سال گزر جاتے ہیں، پھر کسی کے دل میں تعلیم کا خیال آتا ہے کہ تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جائے، کمیٹی بنائی جاتی ہے، ماہرین اکٹھے کیے جاتے ہیں، کثیر سرمایہ خرچ ہوتا ہے، آخر میں پھر وہی فائل بند ہوجاتی ہے۔ پاکستان کے پاس سرمایہ بھی بہت ہے، ماہرین تعلیم بھی ایک سے ایک ہیں، اگرنہیں ہے تو صرف حکومت کی دلچسپی نہیں ہے۔ حکومت نے تعلیم کو کھیل سمجھا ہوا ہے۔ اس شعبے پر سرمایہ کاری کو ضیاع سمجھا ہوا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کا کثیر سرمایہ فلم انڈسٹری اور انٹرٹینمنٹ کے شعبے پرخرچ ہورہا ہے۔ ان شعبوں میں کروڑوں بلکہ اربوں روپے کی انویسٹمنٹ ہورہی ہے، لیکن تعلیم کے شعبے میں وسائل کی کمی کا رونا رویاجاتا ہے۔ لارڈمیکالے کا نظام تعلیم ختم کرکے پاکستان کو اپنا نظام تعلیم بنانے کی ضرورت ہے جو اسلامی تصورات و نظریات کے مطابق ہو مشرقی ثقافت کا آئینہ دار ہو۔

صرف تقریروں اور تحریروں کی حد تک نہیں بلکہ عملی طور پر وسیع پیمانے پر دورِ حاضر کے جدید تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے نظام تعلیم میں اصلاح کی ضرور ت ہے۔ لارڈ میکالے نے جس مقصد کے لیے مسلمانوں کو نظام تعلیم دیا تھا، اس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ۔ اس نے برطانیہ کی پارلیمنٹ سے 2فروری1835کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ’’میں نے ہندوستان کے طول و عرض میں سفر کیا ہے۔ مجھے کوئی بھی شخص بھکاری یا چور نظر نہیں آیا۔ اس ملک میں میں نے بہت دولت دیکھی ہے، لوگوں کی اخلاقی اقدار بلند ہیں اور سمجھ بوجھ اتنی اچھی ہے کہ میرے خیال میں ہم اس وقت تک اس ملک کو فتح نہیں کر سکتے جب تک کہ ہم ان کی دینی اور ثقافتی اقدار کو توڑ نہ دیں جو ان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ ہم ان کا قدیم نظام تعلیم اور تہذیب تبدیل کریں۔ کیونکہ اگر ہندوستانی لوگ یہ سمجھیں کہ ہر انگریزی اور غیر ملکی شے ان کی اپنی اشیاء سے بہتر ہے تو وہ اپنا قومی وقار اور تہذیب کھو دیں گے اور حقیقتاً ویسی ہی مغلوب قوم بن جائیں گے جیسا کہ ہم انہیں بنانا چاہتے ہیں‘‘۔ اس تقریر کے بعد لارڈ میکالے کو ہندوستان کے لیے نظام تعلیم مرتب کرنے کا کام سونپا گیا اور اس نظام کے اثرات آج تک دیکھے جا سکتے ہیں۔