خون میں شکر کی مقدار میں اضافے کی علامات

دنیا میں بہت سے لوگ ایسےہیں جن کے خون میں شکرکی مقدار زیادہ ہوجاتی ہے اور وہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں، کیونکہ ہمیں یہ بات معلوم ہی نہیں ہے کہ خون میں شکر کی مقدار کے اضافے کی کیا علامات ہوتی ہیں۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ڈائبیٹیز ، ڈائجسٹو اینڈ کڈنی ڈیزیز کے مطابق تقریباً 25 فیصد افراد ایسے ہیں جو کہ ذیابیطس کی بیماری میں مبتلا ہیں اور انہیں اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا۔

خون میں شکر کی مقدار میں اضافے کا سبب؟

ہم یہ سوچتے ہوں گے خون میں شکر کی مقدار میں اضافہ زیادہ میٹھا کھانے کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن زیادہ شکر کے ساتھ ساتھ زائد کاربوہائیڈریٹس کا استعمال بھی خون میں موجود شکر کی مقدار کو بڑھاتا ہے جبکہ تناؤ کی کیفیت بھی خون میں شکر کی مقدار کے اضافے کا سبب بنتی ہے۔

خون میں شکر کی مقدار بڑھ جانے کی علامات

جس شخص کو ذیابیطس یعنی شوگر کی تشخیص ہو چکی ہے وہ لوگ ان علامات سے بخوبی واقف ہوں گے مگر اکثریت ان سے لاعلم ہے۔

آئیے ہم آپ کو خون میں شکر یعنی شوگر کی مقدار بڑھ جانے کی چند علامات بتائیں۔

تھکاوٹ

خون میں شکر کی مقدار میں اضافے کی ایک علامت تھکاوٹ بھی ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے اکثر خون میں شکر کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے بھی تھکاوٹ ہوتی ہے۔لیکن اگر کسی شخص کو روزانہ کھانا کھانے کے فوراً بعد تھکاوٹ محسوس ہو تو یہ علامت خون میں شکر کی مقدار زیادہ ہونے کی ہے۔نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ڈائبیٹیز اینڈ ڈاجیسٹو کڈنی کی ماہر ذیابیطس ڈاکٹر ہیٹیپوگلو کا کہنا ہے کہ ہم نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے سنا ہوگا کہ کھانے کے بعد ان کو فوراً سونے کا دل کرتا ہے، بہت سے لوگ میٹھا یا آلو سے بنی کوئی چیز کھانے کے بعد کہتے ہیں کہ ہمیں نیند آرہی ہے۔یہ علامت خون میں شکر کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے ہوسکتی ہیں اور ایسی صورت میں آپ کو فوراً اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے ٹیسٹ کروانے چاہییں۔

آنکھوں میں دُھندلاہٹ

ماہرین ذیابیطس کا کہنا ہے کہ خون میں شکر کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ جسم کے کسی بھی حصے کو متاثر کر سکتی ہے۔خون میں شکر کی زائد مقدار آنکھوں کے درمیانی حصے کو جزوی طور پر متاثر کرتی ہے جس کی وجہ سے انسان کو دھندلا نظر آنے لگتا ہے۔ تاہم، یہ جزوی طور پر دھندلاہٹ آنکھوں کو ہمیشہ کے لیے نقصان نہیں پہنچاتی۔

زخم دیر سے ٹھیک ہونا

ماہرِ ذیابیطس ڈاکٹر ہیٹیپوگلو کا کہنا تھا کہ خون میں شکر کی زائد مقدار جسم کے دورانِ خون کے نظام کو بھی متاثر کرتی ہے جس کی وجہ سے جسم پر لگنے والی چوٹ یا زخم دیر سے ٹھیک ہوتا ہے۔

دانتوں کی بیماریاں

ہمارے منہ میں موجود لعاب اور خون میں گلوکوس موجود ہوتا ہے لیکن اس گلوکوس کی مقدار اگر زیادہ ہوجائے تو اس وجہ سے منہ میں خطرناک بیکٹیریا جنم لیتے ہیں جس کی وجہ سے دانت گرنا، یا دانتوں سے جُڑی بیماریاں ہونے لگتی ہیں۔اگر آپ کو ان علامات کا سامنا ہے توپریشانی ہوئے بغیر فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ کسی بھی بیمار ی کی بروقت تشخیص جان بچا سکتی ہے۔