بنگلہ دیش کی پاکستان کے ساتھ پیاز ڈپلومیسی

بنگلہ دیشی حکومت نے ملک میں جاری پیاز کی قلت سے نمٹنے کے لیے تقریباً 15 سال بعد پاکستان سے 300 ٹن پیاز درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔عرب نیوز نے ہفتے کو مقامی میڈیا میں چلنے والی خبروں کے حوالے سے بتایا کہ بنگلہ دیشی حکومت نے جمعے کو ایک اجلاس میں پاکستان سے پیاز درآمد کرنے کا فیصلہ کیا، جو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدہ سفارتی تعلقات کے پیش نظر کافی حیران کن تھا۔

گذشتہ ستمبر کو بھارت نے پیاز برآمد کرنے پر پابندی عائد کی تھی، جس کے بعد بنگلہ دیش میں اس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو گیا۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 1971 کی جنگ کے بعد کبھی سفارتی تعلقات خوشگوار نہیں رہے ،بالخصوص ماضیِ قریب میں جب بنگلہ دیش نے پانچ دہائیوں بعد جنگی قیدیوں پر مقدمات چلائے تو سفارتی تعلقات میں مزید کشیدگی دیکھنے میں آئی۔بنگلہ دیش میں مبصرین کا خیا ل ہے کہ اب دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی تجارت بالخصوص ’پیاز ڈپلومیسی‘ سے ڈھاکہ اور اسلام آباد کے تعلقات پر مثبت اثر پڑے گا۔ڈھاکہ یونیورسٹی کے ڈاکٹر دلاور حسین نے عرب نیوز کو بتایا پیاز ڈپلومیسی کے بعددونوں ملکوں کے درمیان تجارت بڑھنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔’یقیناً اس کے سفارتی تعلقات پر اچھے اثرات پڑیں گے، لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس سے راتوں رات تعلقات کا نیا دور شروع ہو گا۔‘

گذشتہ سال ڈھاکہ نے پاکستان کے نئے ہائی کمشنر کی تعیناتی کی منظوری نہیں دی تھی اور پاکستان پچھلے تقریباً ایک سال سے منظوری کا منتظر ہے۔ڈھاکہ میں پاکستانی سفارتی ذرائع پر امید ہیں کہ جلد ہی یہ معاملہ بھی حل ہو جائے گا۔امریکہ میں بنگلہ دیش کے سابق سفیر ہمایوں کبیر نے عرب نیوز کو بتایا کہ اگر دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت چاہے تو پیازوں کی تجارت سے سفارتی تعلقات میں بہتری کی کھڑکی کھل سکتی ہے، تاہم اسے سفارتی کامیابی قرار دینا قبل از وقت ہو گا۔’بنگلہ دیش کو پیازوں کی ضرورت ہے لہذا ہم پاکستان سے برآمد کر رہے ہیں، لیکن فی الوقت اس قدم کو سفارت کاری سے جوڑنے کا زیادہ موقع نہیں۔‘

یہ بھی پڑھیں:   شاہ محمود قریشی: پاکستان نے سی پیک پر امریکی موقف مسترد کردیا ہے

دوسری جانب، حکومتی پارٹی عوامی لیگ کے سیکریٹری برائے عالمی امور ڈاکٹر شامی احمد کہتے ہیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں سفارتی تعلقات ہیں، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ’مسائل‘ بھی ہیں۔’پاکستان سے پیاز برآمد کرنا حکومتی سطح کا فیصلہ ہے اور ہماری خارجہ پالیسی تمام ملکوں سے دوستی پر مبنی تعلقات پر یقین رکھتی ہے۔‘