آپکی محبت کے منتظر - امم فرحان

پیار کی زبان بہت اثر رکھتی ہے ۔اس دنیا میں ہر کوئی چاہے چھوٹا ہو یا بڑا محبت کا طلبگار ہے۔ زندگی کی بنیادی ضرورت محبت ہے۔بچہ جب دنیا میں پہلی بار آنکھ کھولتا ہے تو بس ایک چیز جانتا ہے، محبت کی نظر- اور ایک ہی چیز سمجھتا ہے ، محبت کی زبان ۔

والدین کی محبت اولاد کی شخصیت بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے ۔جس طرح کمرے میں موجود چھوٹے چھوٹے سوراخ سورج کے ہونے کی گواہی دیتے ہیں اسی طرح انسان کی چھوٹی چھوٹی باتیں اس کی تربیت اور اخلاق کی پہچان کروادیتی ہیں۔اگر اولاد کی پرورش میں محبت کا عنصر زرا بھی کمزور پڑ جائے تو وہ اس کمی کی باعث بہت سی محرومیوں اور احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ والدین کی محبت اولاد سے بےاختیار ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی جب زندگی کی تلخیاں، پریشانیاں اور دشواریاں والدین کو آگھیرتی ہیں تو اس کی کچھ جھلک غصے یا شاید نادانی میں نظر آہی جاتی ہے ۔اور انسان اسی پر اپنا غصہ ظاہر کرتاہےجو اسکے اختیار میں ہوتا ہے جسکی باعث بچے انکی زد میں آجاتے ہیں ۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے مزاج کی گرمی سے ان ننھی کلیوں کو مرجھانے نہ دیں۔بچے بہت ہی معصوم جان ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے بچے وہ ہی سیکھتے اور کرتے ہیں جو انکے سامنے کیا جاتا ہے لیکن کچھ بچے اسکے برعکس بھی ہوتےہیں وہ غصے سے غصہ نہیں سیکھتے بلکہ ڈر جاتے ہیں سہم جاتے ہیں خاموش ہوجاتے ہیں .

اور یہ سب چیزیں انہیں اندر سے کمزور بنادیتی ہیں انکے اعصاب پر حاوی ھونا شروع ہو جاتی ہیں ۔اکثر بچے یہ بات کسی پر عیاں نہیں ہونے دیتے بظاہر مضبوط دیکھائی دینے کی کوشش کرتے ہیں مگر اندر سے وہ کھوکھلے وجود کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔ایسے بچوں کے لیے زندگی بہت گراں اور مشکل بن جاتی ہے لیکن کچھ بچے کوشش کرتے ہیں لڑتے ہیں اپنے آپ سے،اپنی شخصیت میں پائی جانے والی اس سب سے بڑی محرومی سے جسے محبت کہا جاتا ہے ۔ یہ محرومی ان بچوں کی بہت ساری خصوصیات کو ماند کردیتی ہے۔ان میں موجود سرآپا ہنر اور قابلیت کہیں کھو جاتی ہے ۔وہ زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر نہیں کر پاتے آگے بڑھنا چاہتے ہیں مگر نہیں بڑھ پاتے ۔اور یہ ان کی سب سے بڑی تباہی ہے۔ ظلم ہے خدارا ! اس ظلم سےہمیں اپنی اولاد کو محفوظ رکھنا ہے۔غصہ عقل کو کھا جاتا ہے اور اسکا خمیازہ ہمارے بچوں کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ غصے سے حتی الامکان بچنے میں ہی کامیابی ہے۔چاہے زندگی کتنی ہی کٹھن ہو جائے مگر اسکا اثر اپنی اولاد پر ظاہر نہ کرنے میں ہی ہماری جیت ہے۔بچے بہت ہی حساس ہوتے ہیں آپکا رویہ ان پر منفی اور مثبت دونوں اثرات مرتب کرتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   میں نے اپنے بچے کو پیار سے پالا۔جویریہ سعید

اور ہر بچہ ایک دوسرےسے مختلف ہے۔انہیں ایک ہی طریقے سے نہیں پالا جاسکتا۔ والدین کو سوچنا چاہیے کہ وہ کہاں غلطی کرہے ہیں ۔اولاد آپکا اثاثہ ہے اسے حالات کی نظر نہ کرنے میں بھلائی ہے۔اگر آپ اپنی تربیت میں محبت بھر دیں تو اسکا رنگ آپکے بچے میں نظر آئےگا۔چونکہ محبت تو روح کی غذا ہے۔یہ ایک ایسا احساس ہے جو انسان کی نگاہ سے بھی جھلک جاتا ہے ۔اولاد کتنی ہی بڑی ہوجائے اسے محبت ہی کی طلب رہتی ہےہمیں اسے اپنی محبت سے جوڑےرکھنا چاہیے ۔بچوں سے محبت کرنا اور ان پر رحم کھانا اللہ کا محبوب ترین عمل ہے۔زندگی بھلے کوئ بھی رخ اختیار کرلے مگر اپنی اولاد کو اپنی محبت کی چھاؤں میں پروان چڑھانا بہترین ہے۔ہمیں ان سےاپنے انداز گفتگو پر غور کرنا چاہیے ۔دو میٹھے بول شامل کریں یہ بہت ضروری ہے ۔جس بچے کی ہر وقت حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اس میں اعتماد پیدا ہوتا ہےاور وہ ایک باصلاحیت اور پراعتماد شخصیت کا مالک بنتاہے۔ پرورش کا ذمہ خدا نے والدین کو عطا کیا ہے اسمیں بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے چونکہ روز آخرت آپسے آپکی تربیت کا سوال ہوگا ۔