حادثہ در حادثہ - عالیہ عثمان

ٹرین کا سفر اپنی مقبولیت اور معقولیت کے اعتبار سے دنیا میں سرفہرست ہے اس لئے کہ یہ آرام دے اور محفوظ ہوتا ہےافسوس کہ اس معاملے میں بھی ہمارے حالات سستی کا شکار دکھائی دیتے ہیں آئے دن کسی نہ کسی ٹرین حادثے کی خبر سامنے آ جاتی ہےاس میں جانی و مالی نقصان ہوتا ہے ہمارے ریلوے نظام پر لگا سوالیہ نشان مزید گہرا ہو جاتا ہے.

گزشتہ ایک برس میں ٹرینوں کے 80 سے زائد چھوٹے بڑے حادثہ ہو چکے ہیں آج ہی کے واقعے کو دیکھا جائے تو کس قدر افسوسناک حادثہ ہوا ہے جس میں اسی ہلاک ہو چکے ھیں ایک سو سے زا ئد افراد زخمی ہیں جن میں سے کافی شدید زخمی حالت میں ھیں دیکھنے میں تو سراسر یہ مسافروں کی غلطی کی وجہ بتایا جارہا ہے لیکن انتظامیہ چیک کیوں نہیں کر تی مسافر کیا سامان لے کر جارہے ہیں چیک اینڈ بیلنس بھی کوئی چیز ہے یا نہیں اس کا بھی فقدان ھے عموما ہر حادثے کے بعد انکوائری کمیٹی بنتی ہے اور چھوٹے درجے کے ملازمین پر اس کا ملبہ ڈال کر معاملہ دبا دیا جاتا ہے ریلوے کا اصل مسئلہ جدید خطوط پر استوار کرنا ہے انگریز دور کا بنایا ہوا ریلوے نظام اپنی مدت مکمل کر چکا ہے اس کے نئے سے نئے سرے سے کام ضروری ہے ریلوے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ریلوے افسران سیاستدانوں کی طرح نے اپنے من پسند افراد کو اہم عہدوں پر فائز کر کے کام چلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ سراسر افراد کا کام ہے ریلوے میں ماہر کانٹا بدلنے والے لائن پر کام کرنے والے اور ایسے ہی دیگر ہنر مندوں کی کمی ہے یہ کمی پوری کی جاسکتی ہے . وزیر ریلوے شیخ رشید احمد سے ستدعا ہے کہ وہ ریلوے کا نظام کو جدید اور آرام دہ سفر کی سہولتیں بہم پہنچائیں تاکہ آئے دن ایسے دل خراش حادثوں سے محفوظ رہا جا سکے اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین