وہ ممالک جنہوں نے ترکی کو ہتھیاروں کی فراہمی روکی

جب ترکی نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد جنگجوؤں کے خلاف فوج کارروائی کا آغاز کیا تو بہت سے یورپی ممالک نے ترکی کو ہتھیار کی فراہمی روک دی۔

جن ممالک نے ترکی کو ہتھیاروں کی فراہم روکی ہے اس میں فن لینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈ، اسپین، سویڈن، کینیڈا اور برطانیہ کے تمام ممالک شامل ہیں۔
برطانیہ کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ وہ ترکی کو ہتھیار تو فروخت کریں گے لیکن نئے ہتھیاروں کے لائسنس نہیں دیں گے کیونکہ ہمیں خدشہ ہے کہ ترکی نئے ہتھیار کرد جنگجوؤں کے خلاف استعمال کرسکتا ہے۔ 1991 سے 2017 تک ترکی دنیا کا پانچواں بڑا ملک رہا ہے جو دیگر ممالک سے ہتھیار درآمد کرتا تھا۔ ترکی کو سب سے زیادہ امریکا اور یورپ ہتھیار فراہم کرتے ہیں، لیکن حال ہی میں ترکی نے روس سے نئے مزائیل دفاعی نظام کا معاہدہ طے کیا ہے جس پر امریکا کو تشویش ہے۔ 2014 سے 2018 تک امریکا ترکی کو تقریباً 60 فیصد ہتھیار فراہم کرتا رہا ہے۔
ترک وزارت دفاع کے مطابق ترکی اب 70 فیصد ہتھیار خود تیار کرتا ہے اور دنیا بھر میں برآمد بھی کرتا ہے۔ 2014 سے 2018 کے دوران ترک ہتھیاروں کی برآمدات میں 170 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ترک دنیا کا 14واں بڑا ملک ہے جو ہتھیار برآمد بھی کرتا ہے۔