پانچ روز نیپال میں- خالد مسعود خان

بعض اوقات چیزوں کا موازنہ ان کے ساتھ جڑے ہوئے دیگر عوامل کے بغیر بالکل ہی بے معنی سا ہو کر رہ جاتا ہے۔ مثلاً دبئی کا ہوائی اڈہ اسلام آباد کے نئے ایئر پورٹ کے مقابلے میں حالانکہ ناقابل یقین حد تک بڑا ہے‘لیکن اگر مسافروں کی تعداد کو اس وسعت کے ساتھ جوڑیں تو دبئی کا ہوائی اڈہ قطعاً بڑا نہیں لگتا۔ بلکہ اسلام آباد کا ہوائی اڈہ اس کے مقابلے میں خاصا کھلا کھلا اور وسیع نظر آتا ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر مسافروں کی تعداد دبئی کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے اور پروازوں کی آمد و رفت میں بھی وہی نسبت ہے جو مسافروں کے درمیان ہے۔ دن بھر میں جہازوں کی آمد و رفت اور مسافروں کی تعداد کو سامنے رکھیں تو اسلام آباد کا نیا ہوائی اڈہ ناقص منصوبہ بندی کا شاہکار محسوس ہوتا ہے۔ ملتان، لاہور اور اسلام آباد کے ہوائی اڈے چھوٹے چھوٹے ہوتے تھے‘ لیکن پروازوں کی تعداد کم از کم اندرون ملک پروازوں کی حد تک مقابلتاً بہت زیادہ تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ملتان سے لاہور دن میں (روزانہ) دو پروازیں ہوا کرتی تھیں اور اسلام آباد کے لئے بھی صبح شام دو پروازیں ہوتی تھیں۔اب اسلام آباد کے لئے ہفتے میں صرف سات پروازیں ہیں اور ملتان تا لاہور تو ترقیٔ معکوس کا یہ عالم ہے کہ جس روٹ پر ہفتے میں کبھی چودہ پروازیں چلا کرتی تھیں‘ اب اس سیکٹر پر ایک پرواز بھی نہیں رہ گئی۔ دنیا آگے جا رہی ہے اور ہم کھسکتے کھسکتے تحت الثریٰ کی جانب رواں دواں ہیں۔

مجھے یہ ساری باتیں اس لئے یاد آ رہی ہیں کہ کٹھمنڈو ایئر پورٹ پر تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ تین کروڑ سے کم آبادی والے نیپال کے دارالحکومت کا ایئر پورٹ گو کہ اسلام آباد کے نئے ایئر پورٹ کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے ‘لیکن مسافروں کی کثرت نے اس نسبتاً چھوٹے ایئر پورٹ کو کسی فٹ بال میچ کا کھچا کھچ بھرا ہوا گراؤنڈ بنا رکھا تھا۔ باقی تو چھوڑیں صرف دوحہ سے قطر ایئر ویز کی کٹھمنڈو کے لئے آج تین پروازیں تھیں۔ ظاہر ہے مسافر ہیں تو پروازیں چل رہی ہیں۔ پروازوں کے شیڈول والے الیکٹرانک بورڈ پر صرف آج کے لئے چھبیس پروازیں تھیں۔ یہ انٹرنیشنل پروازیں تھیں۔ اندرون ملک پروازیں اس کے علاوہ تھیں۔ امیگریشن کاؤنٹروں پر لمبی لمبی قطاریں تھیں۔ سکیورٹی چیک والی قطار بلامبالغہ سینکڑوں مسافروں پر مشتمل تھی اور سامان والی متحرک بیلٹ پر کھڑے ہونے کی جگہ نہیں تھی۔ بظاہر غور کریں تو نیپال کے پاس صرف ماؤنٹ ایورسٹ کے علاوہ اور کیا ہے؟ ویسے تو آٹھ ہزار میٹر سے بلند کل چودہ میں سے چار چوٹیاں نیپال میں، دو نیپال اور چین کے درمیان اور ایک انڈیا اور نیپال کے درمیان واقع ہیں۔ یعنی تین چوٹیاں ایسی ہیں جن کو نیپال کی جانب سے بھی اور بھارت یا چین کی جانب سے بھی سر کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں بھی چار چوٹیاں ایسی ہیں جو آٹھ ہزار میٹر سے بلند ہیں۔

پانچویں چوٹی پاکستان اور چین کے درمیان ہے۔ یعنی پاکستان کی جانب سے چار چوٹیوں کے ٹو، نانگا پربت، گیشربرومI- اور گیشر برومII- کو سر کیا جا سکتا ہے اور براڈ پیک کو پاکستان اور چین دونوں کی جانب سے۔ اس حوالے سے پاکستان کی جانب سے پانچ چوٹیوں تک رسائی کی جا سکتی ہے اور نیپال سے آٹھ چوٹیوں پر۔ لیکن پہاڑوں کی ان چوٹیوں کے علاوہ جو کچھ پاکستان میں ہے نیپال میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں‘ اس کے باوجود سالانہ بیس لاکھ کے لگ بھگ سیاح نیپال کا رخ کرتے ہیں۔ اس کی ویسے تو تین وجوہات ہیں‘ لیکن ان میں سے کم سے کم دو ایسی ہیں جن کا اہتمام کریں تو پاکستان میں سیاحت فروغ پا سکتی ہے۔ پہلی امن و امان اور دوسری پاکستان میں موجود بے شمار سیاحتی مقامات کے بارے میں عالمی سطح پر لوگوں کو معلومات کی مناسب فراہمی۔ لیکن ہماری بیورو کریسی اور سرکاری ادارے اس سلسلے میں مکمل ناکام ہیں۔

حالانکہ حکومت نے ایک کام ایسا کیا ہے جو کسی طور بھی مناسب نہیں تھا اور وہ یہ کہ اب دنیا کے ستر اسی ممالک کا پاسپورٹ رکھنے والے بھارتی باشندے بھی آن لائن ویزہ لے کر پاکستان آ سکتے ہیں اور انہیں کسی قسم کی سکیورٹی کلیئرنس اور نگرانی سے بھی استثنیٰ ہوگا۔ دوسری طرف بھارت کسی بھی پاکستانی کو جو بے شک کسی بھی اور ملک کا پاسپورٹ رکھتا ہو‘ اس وقت تک ویزہ جاری نہیں کرتا جب تک وہ پاکستان کی ''ڈوئل نیشنلٹی‘‘ سے دستبرداری کا سرٹیفکیٹ اپنی ویزہ درخواست کے ساتھ لف نہ کرے۔ یعنی بھارت کسی بھی پاکستانی شخص کو ویزہ جاری نہیں کرتاجس کے پاس کسی غیر ملکی شہریت کے ساتھ ساتھ پاکستانی شہریت موجود ہو۔ تاہم پاکستان کی جانب سے یکطرفہ نرمی کے باوجود پاکستان کی سیاحت میں رتی برابر بہتری نہیں آئی۔ پاکستان میں اول تو سیاحتی مقامات کا ویسے ہی سرے سے برا حال ہے۔ بے شمار بدھ مت کے آثار موجود ہیں‘ لیکن انہیں دیکھنے کے لئے کوئی بھی نہیں آتا۔ اول تو کسی کو ان کے بارے میں معلوم ہی نہیں اور جنہیں معلوم ہے وہ سکیورٹی کے معاملات کی وجہ سے یہاں نہیں آتے۔

نیپال میں جس سے کسی خوبصورت جگہ کا نام دریافت کیا سب نے ایک ہی نام لیا۔ یہ ''پوکھرا‘‘ تھا۔ نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو سے دو اڑھائی سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع اس شہر میں ایک جھیل ہے‘ جس میں صرف چپو والی کشتیاں چلتی ہیں جن پر چار سے زیادہ مسافر بٹھانے پر پابندی ہے یا پھر ڈبل کشتی والی پیڈل بوٹ ہے‘ جس میں آٹھ مسافروں تک کی گنجائش ہے۔ نہ سپیڈ بوٹ اور نہ ہی کوئی موٹر بوٹ۔ لیکن بلامبالغہ درجنوں کشتیاں ہمہ وقت رواں دواںہیں۔سامنے پہاڑی سے پیراگلائیڈنگ کا اہتمام ہے۔ جھیل کے کنارے درجنوں ہوٹل اور ریستوران ہیں اور لاتعداد دکانیں جن میں سووینئرز دھڑا دھڑ بک رہے ہیں۔ ادھر یہ عالم ہے کہ پورا پاکستان گھوم لیں کوئی ایک کام کا سووینئر نہیں۔ حتیٰ کہ سووینئرز کے قحط کا یہ عالم ہے کہ پاکستان کے خوبصورت مقامات کے مقناطیسی سٹکرز تک نہیں‘ جو لوگ اپنے ریفریجریٹرز وغیرہ پر چپکا لیتے ہیں۔ ملتان میں پوسٹنگ کے دوران میری اس موضوع پر اس وقت کے کمشنر بلال بٹ سے بڑی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس کے ذہن میں اس سلسلے میں بڑے شاندار آئیڈیاز تھے اور پاکستانی کلچر کے فروغ کے لئے بہت سی قابلِ عمل تجاویز بھی۔ اگر بلال بٹ جیسے کسی زرخیز دماغ والے افسر کو یہ پراجیکٹ سونپا جائے تو اس کے بڑے شاندار نتائج نکل سکتے ہیں۔ ایک اچھا، خوبصورت اور اعلیٰ معیار کا بنا ہوا سووینئر کسی کے ڈرائنگ روم میں پڑا ہو یا لاؤنج کی میز پر ایستادہ ہو تو وہ برسوں تک اس ''مانو منٹ‘‘ کی مارکیٹنگ کے فرائض سرانجام دیتا ہے‘ لیکن اس جانب کسی کی توجہ ہی نہیں۔

دور نہ جائیں۔ اگر ملتان میں قلعہ کہنہ پر واقع رکن الدین عالمؒ کا مقبرہ پیتل یا کسی اور اچھی سی دھات میں نہایت اعلیٰ معیار اور تعمیراتی تناسب کے حساب سے بنے ہوئے خوبصورت انداز سے ڈھالا جائے تو اس سووینئر کا کوئی مقابلہ نہیں ہو گا‘ کہ ایسی شاندار، پرشکوہ اور لاجواب عمارت دنیا میں اور کہاں ہوگی؟ اگر ہمارے نیشنل جانور مار خور کا ایک خوبصورت دھاتی مجسمہ بن جائے تو کیا کہنے۔ نور محل، بادشاہی مسجد، عالمگیری دروازہ، دہلی دروازہ، مسجد وزیر خان، مہوٹہ پیلس، روہتاس قلعے کا سہیل دروازہ، سکھر کا معصوم شاہ کا منارہ، مائی مکلی کا مقبرہ، حضوری باغ کی بارہ دری، اور سب سے بڑھ کر ہماری دستکاریاں۔ نیپال میں صرف کشمیری اون کی شالوں کی فروخت کئی ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔ کئی لاکھ ڈالر سالانہ تو نیپال والے صرف گورکھوں کے مشہور چُھرے‘ جسے ''کھکری‘‘ کہتے ہیں‘ کی بدولت کما لیتے ہیں۔

ایمانداری کی بات ہے کٹھمنڈو خاصا بیکار اور فالتو سا شہر ہے۔ بہت زیادہ پھیلا ہوا۔ تنگ سڑکوں اور صفائی سے تقریباً عاری‘ لیکن نیپالی ٹریفک کا نظام اور اس پر عملدرآمد کا خاصا بہتر معیار ٹریفک کو رواں رکھے ہوئے ہے‘ وگرنہ وہاں برا حال ہو جائے۔ نیپال اور پاکستان کا موازنہ ایک احمقانہ سا موازنہ ہوگا۔ اگر میرٹ پر کریں تو پاکستان کو نیپال کے مقابلے میں کم از کم بھی چار کے مقابلے میں دس پوائنٹ مل سکتے ہیں ‘مگر ہم اپنے بیچ سے لے کر قدرتی حسن تک اور دستکاریوں سے لے کر تاریخی مقامات تک، کچھ بھی دنیا میں نہیں بیچ پا رہے۔ گزشتہ دنوں میکسیکو گیا تھا ‘وہاں سے بھی اسی ملال کے ساتھ واپس آیا اور ساؤتھ افریقہ سے بھی۔ حالانکہ مجھے علم ہے کہ یہ کالم لکھنا کارِ بے کار ہے لیکن بقول اعجاز کنور راجا کے
اپنی خواہش میں جو بس گئے ہیں وہ دیوار و در چھوڑ دیں
دھوپ آنکھوں میں چبھنے لگی ہے تو کیا ہم سفر چھوڑ دیں
کسی روز ساری غزل آپ کی نذر کرو ں گا۔