باقی آپ سمجھدار ہیں- روف کلاسرا

ایک وزیر کا خلافِ توقع فون تھا ۔ میڈیا کے زوال پر تقریر کی ۔میں چپ چاپ سنتا رہا‘ آگے سے کچھ نہ کہا کہ چلیں دل کا غبار ہلکا کر لیں ‘ ورنہ جواب تو دیا جاسکتا تھا کہ سر جی آپ کی باتوں پر بھی تو اب کوئی اعتبار نہیں کرتا ۔ جو باتیں آپ کے لیڈر نے بائیس برس تک قسمیں کھا کھا کر کیں وہ بھی تو ان سب سے مکر گئے ہیں ۔ انہیں کسی نے کچھ نہیں کہا تو میڈیا کو کس نے کچھ کہنا ہے۔
مجھے اندازہ تھا وہ میڈیا سے کیوں ناراض ہیں‘ لہٰذا ایسے بندے سے بحث کا فائدہ نہیں ہوتا ۔ وہ اکیلے میڈیا سے ناراض نہیں‘بلکہ ایک دو اچھے وزیروں کو چھوڑ کر پوری کابینہ ہی میڈیا سے ناراض ہے۔ زیادہ تر وہ ہیں جن کی کرپشن کی کہانیاں سامنے آئی ہیں ۔ دراصل میڈیا کا کام اس وقت مشکل ہوجاتا ہے‘ جب اسے وزیراعظم یا ان کے وزیروں کے خلاف خبریں یا سکینڈل فائل کرنے پڑیں۔ جب وزیراعظم میڈیا کے ہاتھوں تنقید کا شکار ہورہا ہو تو پھر وزیروں اور مشیروں کے لیے آسان ہوجاتا ہے کہ وہ بڑے باس کے کانوں میں ایسی سرگوشیاں کر یں جو وزیراعظم سننا چاہتے ہوں۔ پھر کابینہ کے اجلاس میں جب میڈیا کے لیے دہشت گردوں کی طرز پر ٹریبونلز بنانے کا قانون لانے کا منصوبہ ڈسکس ہوگا تو وزیراعظم بغیر کچھ سوچے سمجھے نہ صرف قائل ہوجائیں گے بلکہ دو قدم آگے بڑھ جائیں گے۔ اب ہرکوئی برطانوی وزیراعظم چرچل جیسا تو نہیں ہوتا کہ جرمنی سے جنگ ختم ہونے کے بعد دل میں بغض نہ رکھتا ہو‘ کہ جنگ لڑنی تھی لڑلی‘ اب کون عمر بھر اس جنگ کا بوجھ اٹھائے پھرے۔

وہ وزیر مجھے رانا ثنا اللہ کے خلاف ثبوتوں کا بنڈل دکھانا چاہتے تھے کہ میں رانا کے خلاف پورا پروگرام کروں ۔ میں نے کہا: بہتر ہوگا آپ اس پر پریس کانفرنس کر لیں ۔ بولے کہ پریس کانفرنس کر چکا ہوں ۔ تو میں نے کہا: پھر مجھے وہ ثبوت دکھانے کا فائدہ ؟ عدالت میں وہ ثبوت دکھائیں‘ اگر آپ کے پاس ہیں۔ کہنے لگے کہ لوگ آپ کی بات کا اعتبار کرتے ہیں‘ اس لیے آپ دیکھ لیں اور اس پر پروگرام کریں۔ میں ہنس پڑا اور بولا: آپ کی مہربانی آپ ایسا سمجھتے ہیں‘ لیکن آپ کی حکومت تو ایسا نہیں سمجھتی‘ بلکہ میری اور عامر متین کی خبروں اور تنقید سے تنگ ہے۔ میں نے کہا :سر جی کبھی آپ لوگوں نے سوچا ہے کہ وہی میڈیا جس کے زور پر آپ لوگ پاکستانی معاشرے اور سیاست میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے‘ آج آپ اس سے ہزاروں میل دور ہیں ۔
وزیراعظم کو پہلے دن سے ہی ان کے وزیراطلاعات نے میڈیا کے خلاف کر دیا تھا ۔ وزیراعظم نے بھی بائیس برس کا غصہ ایک سال میں نکالنے کا پروگرام بنا لیا اور جو اِن کے ہاتھ لگا اسے رگڑتے چلے گئے۔ اب حالت یہ ہورہی ہے کہ ایک سال بعد ٹی وی چینلز پر مولانا فضل الرحمن کے لوگ چھائے ہوئے ہیں‘ جن کی اسمبلی میں شاید آٹھ دس سیٹیں بھی نہیں ہیں ۔

میڈیا کو محسوس ہوا ہے کہ حکومت اسے اپنے گھر کی باندی بنانا چاہتی ہے اور وہی کچھ سننا چاہتی ہے جو اسے اچھا لگتا ہے۔ یہی کچھ جنرل مشرف نے کیا ‘جب انہوں نے بہتر دن کے لیے ٹی وی چینلز بند کر دیے تھے۔ زرداری نے بھی دو تین چینلز کے خلاف کارروائی کی تھی اور ہمارے اینکر دوست کاشف عباسی کا شو بند کرادیا تھا ۔ تو پھر کیا ہوا؟ آج وہی کاشف عباسی اپنا شو کررہا ہے جبکہ زرداری جیل میں بیٹھے علاج کی دہائیاں دے رہے ہیں۔ زرداری رعشہ کی بیماری کے باعث ہاتھ میں چائے کا کپ بھی نہیں تھام سکتے۔ نواز شریف دور میں ہمارے دوست ارشد شریف کے خلاف آئی بی کو کہہ کر مقدمہ درج کرادیا گیا تھا ۔ آج کل نواز شریف جیل میں ہیں اور ارشد شریف پروگرام کررہا ہے۔ ایسی درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں‘ جب ہر حکمران یہ سمجھ لیتا ہے کہ اگر وہ میڈیا کو کنٹرول کر لے تو سب مسائل ختم ہوجائیں گے اور لوگوں کو ملک میں بہتی دودھ کی نہریں نظر آنا شروع ہوجائیں گی۔

مجھے یاد آیا آصف زرداری نئے نئے صدر بنے تھے تو ان کے ایک بہت قریبی فرنٹ مین کا فون آیا۔ میں اس وقت انگریزی اخبار میں تھا ۔ کہنے لگے: ہمارے خلاف اتنا کچھ چھپ رہا ہے اسے کیسے روکا جائے؟ میں ہنس پڑا اور بولا: بھائی‘ آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں‘ میرے ہاتھ کیسے کاٹے جائیں؟ وہ خبریں میں فائل کرتا ہوں اور آپ مجھ سے ہی پوچھ رہے ہیں کہ خبریں کیسے رک سکتی ہیں؟ میں نے کہا: آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ حکومت اپنی گورننس کیسے بہتر کرسکتی ہے‘ آپ الٹا پوچھ رہے ہیں کہ جو ماردھاڑ ہم کررہے ہیں وہ رپورٹ نہ ہو۔ ابھی تک ایسا حکمران نہیں آیا جو سکینڈلز کی خبروں پر اپنے ہی وزیروں کو کابینہ اجلاس میں لتاڑ ڈالے کہ آپ نے فلاں کام کیوں کیا ہے‘ جس سے میڈیا کو موقع مل گیا ہے کہ وہ میری حکومت کو رگڑ دے ۔ جب وزیراعظم خود ہی وزیروں سے پوچھ گچھ کرنے کی بجائے اس لیے ان کا ساتھ دے گا کہ اگر انکوائری کی یا سوال و جواب کر لیے تو حکومت خطرے میں آجائے گی تو پھر سمجھ لیں گورننس اور امیج کبھی بہتر نہیں ہو گا۔

جب وفاقی وزیر علی زیدی کے دوست عاطف رئیس کے حوالے سے سکینڈل کی خبریں باہر نکلیں تو انہوں نے وزیراعظم کو اکیلے میں بریف کیا کہ چند صحافی اس کے خلاف خبریں چھاپ رہے ہیں۔ فوراً میڈیا کے خلاف ٹریبونلز بنانے کا پلان بنا کر کابینہ میں پیش کر دیا گیا ۔ عمران خان چاہتے تو وہ کابینہ میں ہی علی زیدی سے پوچھ سکتے تھے کہ یہ بتائیں آپ اپنے اس دوست کے گھر کیوں رہتے ہیں‘ جو ہماری حکومت سے اربوں روپے کے کنٹریکٹ لے رہا ہے؟ میڈیا رپورٹ کررہا ہے کہ تمہارے اس دوست پر ایف آئی اے نے ایک کنٹریکٹ میں فراڈ پر مقدمہ درج کررکھا ہے‘ وہ ضمانت پر ہے اور تم وزیر ہو کر اس کے گھر رہتے ہو۔ تم وزیر ہوکر اپنے اس ایف آئی اے زدہ دوست کو میرے ساتھ چائنا بھی لے جاتے ہو‘ اور واپسی پر اسے میٹرو کا ٹھیکہ مل گیا تو لوگ سوال تو اٹھائیں گے۔ پھر تم اسی دوست کو لے کر امریکہ جاتے ہو‘ صرف اس لیے کہ اس نے تمہیں رہنے کو گھر دیا ہوا ہے؟ جب تمہیں وزیر ہونے کے ناتے عوام کے پیسوں سے ہی منسٹر انکلیو میں سرکاری رہائش دی گئی تھی تو تم نے انکار کر کے دوست کے گھر رہنا کیوں پسند کیا؟ سرکاری رہائش استعمال نہ کرنے کے بدلے تم ہر ماہ حکومت سے ڈیرھ لاکھ روپے لے کر دوست کے گھر رہتے ہو اور جن لوگوں کو تم پورٹ قاسم اتھارٹی کے بورڈ میں ممبر لگا رہے ہو ان کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں؟۔

اب آپ بتائیں ایک وزیر کی اگر کابینہ میں وزیراعظم تھوڑی سی باز پرس کرلیتے تو کتنا فرق پڑنا تھا۔ الٹا وزیراعظم نے حکم صادر کر دیا کہ ایسے میڈیا کے خلاف ٹریبونلز بنائے جائیں اور فوری سزائیں دی جائیں جو یہ رپورٹ کرتے ہیں کہ علی زیدی جس دوست کے گھر رہتا ہے اسے اب پشاور میٹرو میں چودہ ارب روپے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔
جب کوئی بھی وزیراعظم اپنے وزیروں کی کرپشن اور دوستوں کو نوازنے کی خبروں پر بچانے کی کوشش کرے گا تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ دراصل اپنا دشمن خود ہے۔ یہی کام زرداری اور نواز شریف نے کیا اور آج دونوں کے بچے دہائیاں دیتے پھرتے ہیں کہ خدارا ہمارے ابو کو جیل سے نکال کر علاج کرا دیں ۔

اس لیے حکومت اگر انصاف سے کرنی ہے تو پھر آپ کو اپنے گھر سے انصاف شروع کرنا ہوگا ۔ انصاف کا وہی معیار قائم کرنا ہوگا جو آپ دوسروں کے لیے مقرر کرتے رہے ہیں ۔ لیکن عمران خان اپنے وزیروں کے لیے انصاف کا وہی معیار قائم نہیں کرسکے جو وہ بائیس برس تک زرداری اور شریفوں کے لیے خود مانگتے اور تجویز کرتے رہے ہیں ۔
جناب عمران خان اگر سبق سیکھنا چاہیں تو وہ آصف علی زرداری اور نواز شریف سے سیکھ سکتے ہیں ۔ اپنے دور کے یہ طاقتور حکمران بھی میڈیا سے ناراض رہتے تھے۔ انہوں نے بھی ٹی وی چینل بند کرائے‘ بھاری جرمانے عائد کرائے‘ چند اینکرز کے پروگرام بند کرائے‘ ایک دو صحافیوں پر مقدمے قائم کرائے‘ تاکہ وہ اپنی حکومتوں کی کرپشن اور نااہلی کو عوام سے چھپا سکیں ۔ ان سب کی کوششوں کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ باقی آپ سمجھدار ہیں ۔