عمران خان کا ریاست مدینہ کی پیروی کا جذبہ، کابینہ کی حمایت میسر نہیں

اسلام آباد (انصار عباسی) وزیراعظم عمران خان کا پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر اسلامی فلاحی ریاست میں تبدیل کرنے کا عزم اندرون و بیرون ملک موضوع گفتگو بن گیا ہے۔ جمعہ کو علماء کرام سے ملاقات میں وزیراعظم نے اپنے اس عزم کا اعادہ اور حاضرین مجلس کو متاثر بھی کیا تاہم وزیراعظم کو اس غیرمعمولی مقصد کے حصول میں خود اپنی کابینہ کے رفقاء کی مطلوبہ حمایت حاصل نہیں ہے۔ اجلاس میں شریک ایک عالم دین کے مطابق عمران خان نے بڑے جذباتی انداز میں ریاست مدینہ کا ذکر کیا۔ اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان بھی اسی طرز پر اسلامی فلاحی ریاست بنے۔ مذکورہ عالم دین گو کہ اجلاس میں زیربحث آنے والے تمام معاملات سے متفق نہیں تھے تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ اس سے قبل پاکستان میں کسی بھی حکمراں نے اسلامی فلاحی ریاست کا خواب حقیقت میں بدلنے کے لئے اپنی خواہش پر اس قدر زور نہیں دیا تھا۔ حکمراں تحریک انصاف میں ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی کے برخلاف وزیراعظم اب پارٹی اجلاسوں تک میں زیادہ تواتر سے اسلام اور ریاست

مدینہ پر گفتگو کرتے ہیں تاہم وہ اس بات پر متفق ہیں کہ وزیراعظم کو کابینہ ارکان اور پارٹی کی سینئر قیادت سے مطلوبہ حمایت حاصل نہیں ہوئی۔ ایک حالیہ پارٹی اجلاس میں پنجاب سے تحریک انصاف کے ایک سینئر رہنما نے وزیراعظم کو بتایا کہ پارٹی رہنمائوں اور وزراء کو بھی کھل کر عوام میں یہ بات کرنی چاہئے لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔ بدقسمتی سے کابینہ میں چند ہی ارکان وزیراعظم کے وژن کی حمایت میں بات کرتے ہیں، اکثریت پاکستان کو لبرل یا سیکولر ریاست بنانے کے بارے میں اپنے موقف اور خیالات سے معروف ہے۔ مری سے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی صداقت علی عباسی جو حکومتی میڈیا ٹیم میں شامل ہیں جنہیں حکومتی پالیسیوں کے دفاع کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، رابطہ کرنے پر کہا کہ عمران خان اس معاملے میں انتہائی جذباتی ہیں۔ صداقت عباسی کے مطابق وزیراعظم نے اس معاملے میں بیانیہ سازی کے لئے کور میڈیا ٹیم سے بات کی۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے اصولوں کی پیروی کے بغیر وہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔ صداقت عباسی کے مطابق وزیراعظم نے میڈیا ٹیم کو وضاحت کی کہ نبی کریمﷺ نے ریاست مدینہ تخلیق کی جس کا مقصد محض عقائد پر ہی عمل کرنا نہیں بلکہ ایک نظام کی ترویج بھی ہے، جس بات پر ایمان لائے ہیں اسے اپنی عملی زندگیوں میں لاگو بھی کیا جائے۔ صداقت عباسی نے کہا کہ جب مسلمانوں نے رسول اللہﷺ کے نظام پر عمل کیا تو صدیوں تک دنیا پر حکمرانی بھی کی۔ عباسی کے مطابق وزیراعظم اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے پرعزم ہیں۔ اس حوالے سے بعض وزراء کی سردمہری اور پرجوش نہ ہونے کے بارے میں صداقت عباسی نے یقین دلایا کہ جلد ہی وزیراعظم کی پوری ٹیم ان کی ہم خیال ہو جائے گی۔