پرویز ہود بھائی نے کیا غلطی کی؟ محمد عامر خاکوانی

چند دن پہلے حلقہ ارباب ذوق پنڈی نے اکادمی ادبیات کی عمارت میں ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا اور ڈاکٹر پرویز ہود بھائی سے اقبال اور سائنس کے عنوان پر لیکچر کرایا۔ لیکچر میں خاصا ہنگامہ ہوا کیونکہ پرویز ہود بھائی نے علامہ اقبال پر سخت تنقید کی اور نہ صرف اقبال کو سائنس سے نابلد بتایا بلکہ یہ مقدمہ بھی پیش کرنے کی کوشش کی کہ اقبال تو سرے سے سائنس اور سائنس دانوں کے مخالفت تھے۔ اقبال نے آئن سٹائن پر تنقید کی، دیگر مغربی سائنس دانوں کے علاوہ مسلم فلاسفروں، سائنس دانوں ابن سینا ، فارابی، ابن سینا وغیرہ پر تنقید کی وغیرہ وغیرہ۔ وہیں اجلاس کے دوران ہی ڈاکٹر ہودبھائی پر اعتراضات ہوئے، محترم ادریس آزاد اور دیگر احباب نے کھڑے ہوکر نکتہ اعتراض بلند کیا بلکہ اچھی خاصی بحث ہوئی، محترم جلیل عالی اور بعض دیگر اہل قلم بھی اس پر سخت معترض ہوئے۔ فیس بک کی مختلف پوسٹوں میں یہ تذکرہ چلتا رہا۔

اب ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کے بعض مداحین نے اس تقریر کو ٹراسنسکرائب کر کے اس کا متن شائع کر دیا ہے۔ بعض فیس بک گروپوں، پوسٹوں میں اس متن کا حوالہ دیا جا رہا ہے، مکالمہ کے ذہن ایڈیٹر پیارے انعام رانا نے بھی وہ متن شائع کیا۔ میں اس بحث کوزیادہ کلوزلی فالو نہیں کر رہا تھا، بعض اکا دکا پوسٹیں پڑھیں۔ ویڈیو بھی نہیں سن پایا کہ دیگر صحافتی مصروفیات دامن گیر رہیں۔ اب اس کا متن البتہ پڑھا۔ شاید خاموش رہتا کہ اب سوشل میڈیا کے ہر روز کے قضیہ جات سے دور رہنے کا شعوری فیصلہ کر چکا ہوں۔ تاہم ان تمام پوسٹوں میں بار بار یہ بات کہی جا رہی ہے کہ اس متن میں ایسا کیا ہے جس پر اعتراضات کیے گئے، کسی کو شکوہ ہے کہ چونکہ دیوتا (یعنی اقبل ) پر ضرب لگی، اس لئے رائٹسٹ مضطرب ہوئے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کی تقریر کا متن پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں دو تین باتیں آئیں ۔ اس پر علمی گفتگو تو کسی اور کو کرنی چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ بھائی اداریس آزاد اگر اس پر تفصیل سے کلام کریں تو بہتر رہے گا۔ اقبالیات میرا مضمون نہیں اور آدمی کو اپنے جانے پہچانے کوچوں ہی میں سفر کرنا چاہیے، عافیت اسی میں رہتی ہے۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کی یہ تقریر پڑھ کر مجھے خاصی مایوسی ہوئی ہے۔ ویڈیو نہیں سنی، اس لیے اندازہ نہیں مگر متن سے تو یہ لگ رہا ہے کہ انہوں نے لکھی ہوئی تقریر نہیں کی اور یونہی زبانی گفتگو فرمائی ہے جو خاصی بے ربط اور بے ترتیب ہے۔ سکالرز کے لئے بہتر ہوتا ہے کہ اگر کسی خاص موضوع پر لیکچر دینے کے لئے بلایا گیا ہے تو اپنی تقریر منضبط کر کے لکھ لے اور پھر اسے اچھی طرح ایڈٹ کر کے نپی تلی گفتگو ہی کرے۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ لیکچر عالمانہ نہیں تھا۔

دوسری اور سب سے بڑی خامی یہ لگی کہ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے اپنے نتائج پہلے اخذ کر لئے اور پھر اس کے لئے دلائل بعد میں تلاش کئے۔ ان کے دلائل اسی وجہ سے کمزور، تناظر سے عاری ہیں۔ انہوں نے جہاں جہاں سے اپنے مقدمہ کے حق میں جو ملا، اسے بے دریغ استعمال کر ڈالا۔ شاعری سے انہوں اپنے مطلب کا شعر ملا تو وہ استعمال کیا اور اقبال کے بے شمار دیگر اشعار کو نظرانداز کر دیا جو بار بار غور، حکمت ، گہرائی سے سوچنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں بعض لوگ اقبال کے اشعار کو اپنے حق میں کوٹ کرتے ہیں اور ان کے لیکچرز بالکل نظرانداز کر دیتے ہیں، مذہبی حلقے اکثر ایسا کرتے ہین، بعض حلقے اس کے برعکس اقبال کے لیکچرز ہی پر فوکس کرتے ہیں اور شاعری نظرانداز کردیتے ہیں جیسے یہ کسی اور شخص کے شعر کہے ہیں۔ ظاہر ہے دونوں غلط ہیں۔ مگر بہرحال اس غلطی میں بھی ایک دلیل تو ہے، شاعری والے کہتے ہیں کہ لیکچر ایک خاص تناظر میں ہیں، اسی طرح لیکچرز کے حامی کہتے ہیں کہ اقبال کی شاعری جوشیلی ہے جبکہ لیکچر آخری برسوں میں دیے گئے اور ان مین پختگی کے ساتھ ایک علمی تسلسل ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسا تو بہرحال کسی نے نہیں کیا کہ اپنے حق میں جو شعر ملے ، اسے لے لو، باقیوں کو چھوڑ دو، اسی طرح لیکچرز میں سے کوئی جملہ یا اقتباس اپنے حق میں ملے وہ لو اور باقی لیکچرز کو چھوڑ دو۔ خیر سے ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے ایسا ہی کیا ہے۔ اقبال کی فکر سے معمولی واقفیت رکھنے والے بھی یہ بات سمجھ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی فکری جدجہد! - محمد عنصر عثمان

جس طرح پہلے کہا کہ اقبالیات میرا مضمون نہیں، طالب علمانہ ، اخبارنویسوں کے انداز میں ایک نکتہ عرض کر رہا ہوں۔ اقبال کی بہت سی باتیں روحانیت، صوفی تھاٹس کے حوالے سے ہیں، اگرچہ وہ اس زمانے کے رائج خانقاہی تصوف کے مخالف تھے۔ مسلم تھاٹ میں صوفیوں اور مولوی صاحبان کے مابین ایک پرانا علمی مناقشہ چلتا آیا ہے، اقبال کی بہت سی آرا اس پس منظر مین سمجھی جا سکتی ہیں۔ مولانا روم اور ان کے مرشد شیخ تبریز کے مابین پہلی ملاقات میں ہونے والا مکالمہ بہت مشہور ہوا ۔ اس میں حضرت شمش تبریز نے ایک خرق عادت تجربہ دکھایا ، مولانا روم جو اس عہد کے بہت بڑے عالم تھے، انہوں نے حیرت سے پوچھا یہ کیا ہے، جناب تبریز نے کہا یہ وہ ہے جو تم نہیں جانتے۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے پہلے جب تبریز جو ان پڑھ درویش معلوم ہو رہے تھے، نے جب مولانا روم کے قریب رکھی موٹی موٹی کتابوں کو دیکھا اور پوچھا یہ کیا ہے تو رومی نے کہا یہ وہ ہے جو تم نہیں جانتے۔ حضرت تبریز کا اسی پس منظر میں رومی کو یہ کہنا کہ میں نے جو دکھایا ہے یہ تم نہیں جانتے، دراصل اس طرف اشارہ تھا کہ تمہارے پاس چیزوں کی معرفت کا علم نہیں۔

صوفی اسی وجہ سے علما، ماہرین یا سائنس دانوں پر روح، معرفت سے ناواقفیت کا لطیف طنز کرتے رہتے ہیں۔ اقبال اسی لئے بہت سے معاملات میں عشق کو رہنما بنانے کے حامی ہیں اور اسے ترجیح دیتے ہین۔ ان کے الفاظ میں یہ عشق ہے جو بے خطر آگ میں کود پڑا جبکہ اگر عقل کے پیمانے پر دیکھا جاتا تو اس گڑھے کے کنارے کھڑے ہو کر صرف تماشا دیکھا جاتا۔ مغربی سائنس دانوں پر اگر کہیں طنز ہے تو اس خاص پیمانے اور تناظر میں ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اقبال سائنس کے خلاف تھے یا سائنس دانوں کے مخالف تھے، اسی طرح زبان میں بعض باتیں محاورتا کہہ دی جاتی ہیں نام لے کر کہ یہ معرفت کی باتیں اتنے بڑے سائنس دانوں کو بھی سمجھ نہیں آ سکتی۔ اسے بھی اس کے تناظر میں ہی سمجھنا چاہیے۔

معتزلہ پر اعتراضات اس عہد کے بڑے لوگوں نے کئے تھے، اشاعرہ نے خاص طور سے معتزلہ کے جواب میں ایک پورا علمی بیانیہ مرتب کیا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ عقل پر صرف معتزلہ ہی کی برتری تھی اور باقی سب عقل دشمن تھے۔ اشاعرہ نے بھی دلیل کی بنیاد پر جوابی علم الکلام کی بنیاد ڈالی تھی۔ معتزلہ سے صرف عقل استعمال کرنے پر لڑائی نہیں تھی، ان کے بعض نظریات شدت کا شکار تھے ا، جن پر غیر معمولی تشدد کی حد تک اصرار کیا گیا۔ جیسا خلق قرآن کا ایشو۔ یہ کون سی عقل یا جہالت کی جنگ تھی ؟ کئی عباسی خلیفہ معتزلہ سے متاثر رہے اور ہمارے اماموں نے بھی انہی کے ہاتھوں ضرر اٹھایا، خاص کر امام احمد بن حنبل پر معتزلہ نے جو تشدد کرایا وہ کیا علمی رویہ تھا ؟ اپنی اسی شدت پسندی کی وجہ سے معتزلہ بعد میں آنے والے عباسی خلفا کی سختی کا شکار ہوئے۔ اگر علما نے معتزلہ کی مخالفت کی تو اس کی واضح وجوہ موجود تھییں۔ امام احمد بن حنبل سمیت اس عہد کے تمام قابل ذکر علما کو وقید وبند بلکہ بعض کی موت کا باعث بننے والے معتزلہ سے علما کیسے ہمدردی رکھ سکتے تھے؟

یہ بھی پڑھیں:   علامہ اقبال ؒ اور آج کا پاکستان-میر افسر امان

حیرت ہے کہ یہ عام مشہور باتیں بھی ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کے علم میں نہیں۔ اگر وہ ان چیزوں کو جانتے ہوتے، اقبال کے کلام اور لیکچرز کو کھلے ذہن سے پڑھتے اور پھر کوئی رائے قائم کرتے تو وہ اتنی یک رخی، کمزور غیر علمی مفروضوں پر استوار نہ ہوتی ۔

ویسے میرے خیال سے تو ڈاکٹر ہود بھائی کو اس لیکچر کے لئے جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔ یہ خصوصی سیشن تھا ،جس میں صرف ان کی تقریر ہونی تھی ، یہ کوئی مباحثہ نہیں تھا جس میں وہ اپنا نقطہ نظر پیش کرتے اور جواب میں کوئ دوسری رائے آ جاتی ۔ انہیں جو موضوع دیا گیا، ہود بھائی اس سے اتفاق ہی نہیں کرتے تو یہ بات انہیں پہلے حلقے کی انتظامیہ کو بتا دینا چاہیے تھی کہ میں اقبال اور سائنس کے تعلق کو مانتا ہی نہیں۔ میرا نقطہ نظر مختلف ہے ۔ اس طرح کے لیکچرز میں سننے والا یہ توقع کر رہے ہوتے ہیں کہ مقرر اپنے اس یادگاری لیکچر میں اس شخصیت کے مختلف علمی گوشوں کو سامنے لے آئے گا، کچھ نئی باتیں ہوں گی۔ یہ تو کسی کو اندازہ ہی نہین ہوتا کہ موصوف اپنا غصہ اور کینہ نکالنے آئے ہیں۔ اب جیسے یہ خاکسار جس کا نام عامر خاکوانی ہے ، جاوید غامدی صاحب کا غیر مشروط مداح نہیں ، ان کا احترام ہے، بعض باتوں سے اتفاق ، کئی سے سخت اختلاف ہے۔ اب اگر کسی جگہ پر مجھے جاوید غامدی صاحب کے مکتب فکرکی خدمات یا ان کے نظریہ تصوف پر روشنی ڈالنے کے لئے بلایا جائے تو میں صاف انکار کر دوں گا۔ یا یہ واضح کر دوں گا کہ مجھے تو غامدی صاحب سے اختلاف ہے اور میں ان کے نظریہ تصوف کو باطل اور غلط نتائج فکر کی بنیاد پر استوار سمجھتا ہوں۔ اگر پھر بھی کسی کو دلچسپی ہو تو پھر گفتگو کی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر ہود بھائی نے یہ معاملہ اچھے طریقے سے ہینڈل نہیں کیا۔ انہیں سلیقے سے معذرت کر لینی چاہیے تھی۔ اپنی آرا بے شک بعد میں بیان کرتے ، کوئی کتاب لکھ کر یا کسی مختلف فورم پرمضمون پڑھ دیتے ۔ ہمیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں کہ اقبال پر کسی نے اعتراض کیا ہے۔ اقبال کی فکر پر بہت لوگوں نے پہلے بھی قلم اٹھایا ہے۔ اتفاق ، اختلاف میں بہت کچھ کہا جاتا رہا ہے۔ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے معذرت کے ساتھ یہ سب بھونڈے اور غیر علمی انداز میں کیا ہے ۔ اسی وجہ سے ردعمل تلخ آیا۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • میں نے ابھی ہود صاحب کا لیکچر سنا ہے پہلا احساس یہ ہوا کے جناب غصے میں تقریر شروع کر رہے ہیں اور خاصے نالاں ہیں ان لوگوں سے جو اقبال کو قد آور شخصیت سمجھتے ہیں۔ اور یہ جناب اقبال کے فکر کو کیا سمجھیں جو قطرے کے اندر دریا کا سطحی مطلب نکالیں اور کہیں کہ واقعی آج قطرے کے اندر ایٹم دریافت ہو گیا ہے۔ حد ہے