وہ میرے عہد کے قد آوروں میں سب سے بلند - وقاص جعفری

یہ چھٹی جماعت کی بات ہے جب میں گورنمنٹ مسلم ماڈل ہائی اسکول، لاہور کا طالب علم تھا۔ مجھے تعین کے ساتھ اخبار اور دن کا یاد نہیں پڑتا، مگر خبر غیر معمولی ضرور تھی۔ اخبار کے upper half پر سیاہ ماتمی رنگ غالب تھا اور reverse میں یہ سرخی نمایاں تھی: موت العالم موت العالم (عالم کی موت ایک جہان کی موت ہوتی ہے۔)

یہ سید ابوالاعلی مودودی سے ایک نو خیز ذہن کا پہلا تعارف تھا جسے تعارف، تعلق، نسبت اور عقیدت بننے میں ابھی نصف دہائی مزید درکار تھی۔ اردو کے کہنہ مشق مگر قدرے غیر معروف شاعر سید انوار ظہور ی نے نجانے کس کیف کے عالم میں حضور ختمی المرتبت اور ان کے جانثار ساتھیوں کا تذکرہ یوں کیا ہے؟


ہم نے کس دور میں کھولی ہیں ظہور ی آنکھیں

ان کو دیکھا، نہ انہیں دیکھنے والا دیکھا


بلاشبہ یہ حسرت تو اپنے عالم پائیدار میں جاکر ہی پوری ہوگی کہ انسانیت کے کامل نمونوں (بایھم اقتدیتم اھتدیتم) سے شرف ملاقات ہو مگر ہر عہد کے زندہ انسانوں کا تذکرہ کرنے والے ابھی زندہ ہیں، جو حضرت مسیح کے بقول کہتے تھے "اے مچھلیوں کے پکڑنے والو! آؤ! میں تمھیں انسانوں کا پکڑنے والا بنا دوں۔'' یا پھر قاہرہ کی پرپیچ گلیوں اور پر رونق قہوہ خانوں میں سرگرداں حسن البنا کا یہ کہنا کہ "مجھےکتابیں نہیں انسانوں کو تصنیف کرنے میں زیادہ دلچسپی ہے۔" محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کو دور سے دیکھنے والے بھی شاید ہی انگلیوں پر گنے جائیں مگر ابھی وہ زندہ وجود اور خوبصورت نفوس موجود ہیں جنھوں نے براہ راست سید ابوالاعلی مودودی سے فیض حاصل کیا۔ ان سے مل کر معلوم ہوتا ہے کہ بڑا آدمی اور بڑا پن کس چیز کا نام ہے۔


وہ تو وہ ہیں تمھیں ہو جائے گی الفت مجھ سے

اک نظر تم مرا محبوب نظر تو دیکھو


سید ابوالاعلی مودودی کو اس دنیا سے گذر ے اگرچہ 40 سال بیت چکے ہیں، مگر باتیں ان کی یاد رہیں گی، دیر تلک سر دھنیے گا، کے مصداق جب بھی مولانا کا تذکرہ چھڑے تو "لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم" ہی عنوان ٹھہرے۔

تقریب تھی اسلامی جمعیت طلبہ کے ترجمان رسالہ "ہم قدم" کے سید ابوالاعلی مودودی نمبر کی پذیرائی کی، شرکا میں دو تین خوش نصیبوں کے سوا غالب اکثریت ان نوجوانوں کی تھی جن کے والدین نے بھی شاید مولانا محترم کو براہ راست نہ دیکھا ہو۔ میں اپنے آپ کو اتنا 'خوش قلم' نہیں پاتا کہ مولانا کے افکار و اثرات پر کوئی بات کرسکوں، مگر میرے اردگرد مولانا کی وہ زندہ تصنیفات موجود ہیں جو بتاتی ہیں کہ بڑا آدمی، سچے الفاظ اور زندہ کردار کی اصطلاحات کن پر صادق آتی ہیں۔ مجیب الرحمان شامی ہوں کہ الطاف حسن قریشی، حفیظ اللہ نیازی ہوں کہ ہارون الرشید، محمد عبدالشکور ہوں کہ لیاقت بلوچ، تذکرہ ابوالاعلی ہو تو نہ جانے کہاں سے آنکھوں میں چمک اور لہجے میں کھنک اتر آتی ہے۔ میں نے مولانا کو ایک طالب علم کے طور پر پڑھا ہے، اور استاد و تلمیذ کا یہ سفر تاحال جاری ہے، میں سمجھ سکتا ہوں کہ مولانا مودودی کو براہ راست سننے اور دیکھنے والوں پر کیا گزرتی ہوگی۔ مولانا محترم کی چند کتب ہی ہم انٹرمیڈیٹ اور گریجوایشن کے دوران پڑھ پائے (سمجھنے کا سفر ہنوز جاری ہے)، بھلا ہو اسلامی جمعیت طلبہ کے اجتماعی مطالعہ جات اور اسٹڈی سرکلز کا جنھوں نے ان کتب کی سدھ بدھ ہمارے اندر پیدا کی۔ شہادت حق، بناؤ اور بگاڑ، زندگی بعد موت کا عقلی ثبوت، سلامتی کا راستہ، تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں، جیسی مختصر تحریروں سے شروع ہونےوالا سفر مجھے مقدمہ تفہیم القرآن، پردہ، اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی، معاشیات اسلام، خلافت وملوکیت، اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات جیسی مربوط، مستند اور مدلل کتب تک لے آیا۔

انھی دنوں یونیورسٹی کے ایک فاضل استاد کا کہا جانے والا یہ خوبصورت جملہ آج بھی میری سماعتوں میں محفوظ ہے کہ "عصر حاضر میں مولانا مودودی سے بہتر عقل کو کلمہ شاید ہی کسی نے پڑھایا ہو۔" مولانا کا اصل کارنامہ یہی ہے کہ انہوں نے مرعوبیت اور انفعالیت کے دور میں اسلام کے جامع تصور کو روح عصر سے مطابقت (relevance) کا عنوان بنایا بلکہ یہ بھی طے کردیا کہ آنےوالے ہر عہد اور مستقبل کے ہر زمانے کو اسلام کے چشمہ صافی سے سیرابی کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ ایک ایسے عہد میں جب سوشلزم یہ دعوی کرتا کہ آسمان سے خدا اور زمیں سے سرمایہ داری کو نکال کر ہی دنیا امن پا سکتی ہے، انھوں نے اپنے راسخ ایمان اور معجزنما علم الکلام سے سوشلزم اور قومیت دونوں زور آور قوتوں کو لگا میں ڈالیں۔ مجھے اس اعتراف میں کوئی باک نہیں کہ مولانا مودودی کی تحریروں کو میں نے اسلامی جمعیت طلبہ سے فراغت کے بعد اس وقت زیادہ پڑھا اور سمجھا جب مجھے خود ان موضوعات پر سرکلز کو کنڈکٹ کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ یہ بالکل فطری بھی ہے کہ درس و تدریس کے عمل میں انسان زیادہ سیکھتا ہے۔ بڑے لوگوں کی تحریر کا یہ حسن ہوتا ہے کہ ہر بار جب آپ مطالعہ کرتے ہیں تو فہم و ادراک کا کوئی نیا دریچہ وا ہونے لگتا ہے، ذہن کے افق پر نئی بجلی کوندتی ہے اور مسائل حیات کو حل کرنے کی کوئی نئی کلید میسر آتی ہے۔

‏سفر کی فراغت کے چند لمحات میسر آتے، مولانا سید ابوالاعلی مودودی سے اکتساب کرنے والوں کی خدمت میں کچھ جسارت کرنے کی ہمت موجود پاتا ہوں، بلاشبہ اس کے مخاطبین میں، میں خود بھی شامل ہوں۔

‏1 - احمد جاوید صاحب کا یہ کہنا بہت خوب اور برمحل ہے کہ "اگر آپ کسی پر احسان کرنا چاہتے ہیں تو اسے سید مودودی سے روشناس کرا دیں"۔ اللہ تعالی مغفرت فرمائے البدر پبلی کیشنز/اسلامک پبلی کیشنز والے عبدالحفیظ احمد کی، انہوں نے چند سال قبل "سید مودودی پڑھیے، سید مودودی پڑھائیے" مہم شروع کی۔ ہمارے کاموں میں بڑا کام مولانا کو پڑھنا اور دوسروں کو ان کی فکر، لٹریچر تک رسائی دینا ہونا چاہیے۔ یہ کام ضابطے کی کارروائی سے کہیں بڑھ کر دل کی آمادگی اور احسان شناسی کے جذبہ سے ہو، مگر یہ اسی وقت ہوگا جب ہم خود سیدی محترم کو جانتے ہوں گے، جو ان کے لٹریچر کے بالاستیعاب مطالعہ کے بغیر ممکن نہیں۔ ہماری نوجوان نسل، ملت کا سرمایہ اور امت کی نگہبان ہو سکتی ہے، اسی صورت میں کہ ان کے ذہن و دل مسلمان ہوں- فکری اور عملی کشمکش میں مولانا نے اپنے عہد کے نوجوان کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ آج اسی نسل کو سب سے زیادہ مخاطب کرنے کی ضرورت ہے۔

‏2 - مولانا نے اپنے وقت کی سب سے سہل زبان میں لکھا۔ معاصر مذہبی لٹریچر کا مطالعہ کرنے والا عالم ہی نہیں، عامی بھی گواہی دے گا کہ مولانا مودودی، دور جدید میں دینی لٹریچر کو ادبیت، چاشنی، سلاست اور روانی بخشنے والے علما میں سب سے آگے ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ نئی نسل (جنریشن z) کے لیے یہ اردو زبان بھی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ ان حالات کے مولانا چنداں ذمہ دار نہیں، یہ ہماری تعلیم اور معاشرت کا المیہ، حالات کا جبر اور میڈیا کی یلغار ہے کہ ہم یہاں تک آن پہنچے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قرآنی عربی کے علاوہ ہر زبان چند سو سال بعد اپنی ہیئت بہت حد تک تبدیل کرلیتی ہے۔ ایک طرف تو ضرورت اردو زبان کی حفاظت، فروغ اور ترقی کی ہے، جس سے دوری میرے نزدیک اقبال، مودودی اور نسیم حجازی سے محرومی ۔ دوسری طرف مولانا مودودی کے لٹریچر کی قدرے آسان اور مختصر زبان (abridged version) میں فراہمی ہے۔ مغرب نے توارسطو سے لے کر شیکسپیئر تک اپنے سینکڑوں اور ہزاروں سال پرانے کلاسیکل لٹریچر کو اسکول کے طلبہ کے لیے قابل فہم اور readable بنادیا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ کہ ہمارے دوست شاہد وارثی اور ان کی ٹیم مولانا مودودی کی علحیدہ علحیدہ کتب کے learning outcomes پر تحقیق کر رہی ہے جہاں ہر کتاب اور مولانا کے فہم دین کا ہر پہلو ایک مرکزی خیال ،اس کے گرد اگر د ذیلی نکات کا web بناتا ہے۔ اللہ کرے یہ کام جلد تشنہ تکمیل ہو۔

3 - ہم شکر گذار ہیں ان افراد اور تنظیمات کے جو مولانا مودودی کی فکر اور لٹریچر کو مختلف فارمیٹ پر منتقل کر رہے ہیں، تاہم یہ سارا کام ایک مستقل جذبہ کے ساتھ مربوط کاوش کا تقاضا کرتا ہے۔ مولانا کا لٹریچر دنیا کی کئی زبانوں میں دستیاب ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام اہم زبانوں (بالخصوص عربی، انگریزی) میں ابھی بھی بہت کام کیا جانا باقی ہے۔ آج کے دور میں برانڈنگ اور مارکیٹنگ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ سطحی، مادی اور سفلی اشیا کو اس انڈسٹری نے انسانوں کی ضرورت بنا دیا ہے۔ آج مذہبیات بالخصوص مولانا کے لٹریچر کو جدید، اچھوتے انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے، اس لیے کہ فی زمانہ فکر کی گہرائی وگیرائی، ظاہری حسن کی بھی متقاضی ہوتی ہے۔

‏4 - ‏آج کے دور میں علم نے اپنی تحصیل کے لیے بے شمار راستے تخلیق کرلیے ہیں، ان راستوں کی بھی نہ جانے کتنی شکلیں ہیں۔ سوشل میڈیا اور IT ٹیکنالوجی نوع بہ نوع شکلیں اختیار کر رہی ہے۔ پاکستان کی 50 فیصد نوجوان نسل، اول تو کسی عالم دین کو recognise ہی نہیں کرتی، دین سے تعلق رکھنےوالوں میں 3 فیصد سے بھی کم مولانا مودودی کو identify کرتے ہیں۔ نئی نسل کے نزدیک استاد، عالم، اسکالر وہ ہے جو ان کی ٹچ اسکرین پر نمودار ہو سکے، جو ان کی ایک کال پر اپنے علم کا پندار لیے سبسکرائبر کے ذاتی چینل پر حاضر ہو۔ ٹوئٹر، فیس بک نے مطالعہ کے محدود رجحان کو محدود تر کردیا ہے، انسٹاگرام نے تصویر کو ہزار الفاظ (a picture worth than thousand words) ‏ہی نہیں بلکہ تمام لغت ہائے حجازی پر غالب کردیا ہے۔ مجھے اچھا لگتا ہے جب زبیر منصوری سورہ الکہف کو seven sleepers کے نام سے story telling کی تکنیک سے نئی نسل کو پڑھاتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق گوندل نے خود اس ضرورت کو جان کر Maulana Maudoodi Studies (MMS) ‏کے نام سے طلبہ وطالبات اور جدید تعلیم یافتہ ذہن کو QUIZES اور Q&A کے ذریعہ خط وکتابت کورسز کی تشکیل کے لیے کمر بستہ کردیا۔ ان دائروں کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ موبائل ایپلی کیشنز،گوگل سرچ ایبل آپشنز، پاور پوائنٹ پریزینٹیشنز، ای بکس حتی کہ موبائل گیمز وغیرہ۔‏ کیا ہم نہیں جانتے کہ تعلیم کا جدید تصور، بہتر تدریس کی خاطر ابتدائی جماعتوں میں زبان (languages) سے لیکر ریاضی (Calculus) تک کے مضامین کو کمپیوٹر گیمز پر لے آیا ہے۔

5 - سید مودودی کی فکر جامد اور ساکت نہیں، متحرک اور نمو پانے والی (organic) ہے۔ ایک طالب علم کے طور پر میں اس بات کا قائل ہوں کہ مولانا کی فکر سے فکر کے مزید سرچشمے پھوٹنے چاہییں۔ مولانا نے اسلامی کاز کی آبیاری کے لیے اسلاف سمیت رائج الوقت مناہج کے علی الرغم ایک مختلف راستہ اختیار کیا جس میں صحت مند تنقید (توصیف بھی) اور رد و اختیار کے تمام درکار آپشن کو بروئے کار لایا گیا۔ مولانا نے اسلاف کے صدیوں سے رائج طریقہ کار ( تحریر و تقریر / وعظ و تصنیف) سے آگے بڑھتے ہوئے دینی جدوجہد کے کچھ نئے سانچے (models & paradigm) اختیار کیے۔ کچھ نقادوں کے نزدیک یہ کہیں نیشنلزم اور کہیں سوشلزم سے اخذ کیے گئے تھے، حقیقت یہ ہے کہ "خذ ماصفا ودع ماکدر" کے اصول پر انھوں نے جدوجہد کی فکری تشکیل، انتظامی ڈھانچے اور حکمت عملی کی تراش خراش کے لیے تخلیقی اور مؤثر پیمانے اپنائے، جس میں حاضر و موجود سے مرعوبیت کا عنصر نہ ہونے کے برابر تھا۔ سید مودودی نے بیسویں صدی کے وسط میں وقت کی جدید ترین (most modern) اسلامی تنظیم کی داغ بیل ڈالی۔ اس تنظیم کی فکری بنیادیں اس قدر مضبوط تھیں کہ زمانہ کے نشیب و فراز کے باوجود پون صدی سے یہ تنظیم انھی بنیادوں پر کھڑی ہے، یہ توایک مثبت پہلو ہے۔ غورطلب امر یہ ہے کہ مولانا نے جس فتنہ اور سحر کو اس کے شایان شان جواب سے بکھیر کر رکھ دیا، وہ تہذیب اپنی ادارتی ساختیات، سماجیات، حرکیات اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے کہیں آگے جاچکی ہے۔ یقینا مغرب کے روحانی اضمحلال اور روزافزوں معاشی زوال کے لیے دور سے دلیل لانے کی ضرورت نہیں، مگر کیا آنے والا کل ہمارا ہے، مسلمان ممالک سے ابھی اس خوشخبری کا امکان نہیں۔ اس تناظر میں وہ لوگ خو مولانا کی فکر سے متاثر ہیں، انھیں صرف سیاست نہیں بلکہ سماج، تعلیم، ابلاغ، ثقافت سمیت ہر دائرے میں روایتی ڈگر سے ہٹ کر اور پامال راستوں سے اوپر آٹھ کر سوچنا ہوگا۔

‏6 - مولانا سید ابوالاعلی مودودی کی فکر اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسے جماعت اسلامی جیسی منظم، متحرک اور مخلص تنظیم کا جامہ ملا۔ فکر سید کےتسلسل، اشاعت اور فروغ میں جماعت کا کلیدی کردار ہے۔ مگر یہ بھی سوچنے کا ایک دائرہ ہے کہ کہیں اس اونرشپ اور ملکیتی سوچ (possessiveness) نے عام معاشرے کو سید مودودی سے دور تو نہیں کر دیا۔ ہم ایک پولرائزڈ معاشرے کے باسی ہیں جہاں لوگ لیبل اور برانڈ کو دیکھے، چکھے، برتے بغیر اپنی مخصوص رائے پر اصرار کرتے ہیں۔ جس معاشرے میں لوگ نماز کی ادائیگی اور بیکری مصنوعات کی خریداری تک، کسی ٹیگ کی بنیاد پر کریں، وہاں اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ عقیدے، عمل اور سماج کی اصلاح کے کچھ کام نیوٹرل انداز میں کیے جاتے رہیں۔ اس رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر اس پر سوچا تو جائے کہ مولانا مودودی کو کم از کم اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے معماروں میں سب کے لیے محبوب کیسے بنایا جائے۔ اسلامی سیاست مولانا کی فکر کا امتیاز اور شہ سرخی ضرور ہے مگر عقیدہ، تعلیم، خاندان، معیشت اور اصلاح معاشرہ کے ذیل میں مولانا کا کنٹری بیوشن بھی کم اہم نہیں۔ کچھ ادارے اور افراد اگر یکسو ہو کر اس کام پر بھی جت جائیں ، تو بھی یہ قوم، تحریک اور سید مودودی کی سراسر خدمت ہی ہوگی۔ ہمیں بہرحال اس کی گنجائش نکالنی چاہیے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • عزیزی سید وقاص انجم جعفری کے لیے ، ڈھیروں دعائیں!
    عمر و صحت، عِلم و حِلم ، فضل و شَرَف، ایمان و اِخلاص، اور اہل و آل مال میں بڑھو تری اور برکتوں کی دعائیں!