'ہمیشہ دیر کرنا کامیاب زندگی کی علامت'

مرحوم شاعر منیر نیازی کہتے تھے ' ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں، ضروری بات کہنی ہو، کوئی وعدہ نبھانا ہو، اسے آواز دینی ہو، ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں'، ویسے ہمیشہ تاخیر کرنے والے افراد کو بدتہذیب اور خود پسند سمجھا جاتا ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ بظاہر یہ بری عادت مثبت بلکہ کسی شخصیت کے قابل رشک پہلوﺅں کی نشاندہی بھی کرسکتی ہے؟

جی ہاں مختلف تحقیقی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ تاخیر کرنا صحت کے لیے اچھا بھی ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق جو لوگ ہر کام یا کسی جگہ پہنچنے میں تاخیر کے عادی ہوتے ہیں وہ ہوسکتا ہے کہ لمبی زندگی گزاریں۔

محققین کے خیال میں جو لوگ ہمیشہ دیر کرتے ہیں وہ زندگی میں ذہنی طور پر بروقت کام کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ پرسکون ہوتے ہیں اور وہ طے شدہ وقت یا دیگر کو اپنے مزاج پر اثرانداز نہیں ہونے دیتے، جس کے نتیجے میں ذہنی تناﺅ بھی کم محسوس کرتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں ان میں ذہنی تناﺅ سے جڑے طبی مسائل، ہائی بلڈ پریشر اور خون کی شریانوں کے امراض جیسے ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

تحقیق میں تاخیر پسندی کو پرامیدی اور زیادہ جوش سے جوڑا گیا کیونکہ ایسے افراد کو لگتا ہے کہ وہ ہر قسم کی ٹو ڈو لسٹ کو زندگی سے نکال کر بھی اپنے کام وقت پر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

حالانکہ اکثر ان کا اندازہ غلط ثابت ہوتا ہے مگر زندگی کے حوالے سے مثبت سوچ طویل المعیاد بنیادوں پر فائدہ مند ثابت ہوتی ہے کیونکہ ایسے افراد زندگی سے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔

طبی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ مثبت سوچ صحت کو بھی بہتر بناتی ہے جس سے بھی زندگی کو لمبا کرنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ پرامیدی دل کو تحفظ فراہم کرتی ہے جبکہ خون کی گردش میں معاونت بھی کرتی ہے۔

اس سے قبل ایک اور تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کاموں میں تاخیر کرنا درحقیقت ذہین افراد کی نشانی ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق ایسے افراد پرامید ہوتے ہیں اور حقیقت پسند نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے وہ اکثر تاخیر کرتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ایسے افراد اچھی امید کے ساتھ بہترین نتائج کی توقع رکھتے ہیں۔

امریکا کی سان ڈیاگو یونیورسٹی کی ایک اور تحقیق کے مطابق ملٹی ٹاسکنگ ایسی چیز ہے جس کے لیے آپ کو وقت کے احساس کو فراموش کرنا ہوتا ہے۔

محققین کے بقول اپنی ملازمتوں پر تاخیر پر پہنچنے والے افراد ہی ملٹی ٹاسکنگ کو ترجیح دیتے ہیں، عام طور پر بیک وقت کئی چیزوں کو ای کساتھ کرنا کچھ اچھا نہیں سمجھا جاتا تاہم جو اس میں مہارت حاصل کرلیتے ہیں وہ زندگی میں بھی کامیاب ہوجاتے ہیں۔

اسی طرح تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ وقت کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے وہ منظم اور مسابقتی شخصیت کے حامل تو نہیں ہوتے مگر تخلیقی، مطمئن اور تنوع جیسے خوبیاں رکھتے ہیں۔

محققین کے خیال میں ایسے افراد کو لگتا ہے کہ وقت بہت آہستگی سے گزر رہا ہے یعنی تجربے کے دوران معلوم ہوا کہ ایسے افراد ایک منٹ کا تعین 77 سیکنڈ کے بعد کرتے ہیں۔