شکوہ (اقبال سے معذرت کے ساتھ) یاسر پیر زادہ

اے میرے اللہ! بے شک تو بڑی دانائی اور حکمت والا ہے، انسان کو بھی تو نے حکمت عطا کی ہے جس کی مدد سے اُس نے یہ دنیا تسخیر کی اور اشرف المخلوقات کہلایا، کچھ انسان مگر کم فہم اور نادان ہوتے ہیں، وہ تیری حکمتوں سے واقف نہیں ہو سکتے، انہیں تیرے سر بستہ رازوں کی کبھی خبر نہیں ہو پاتی کیونکہ وہ کم علم ہوتے ہیں، میں بھی ایسا ہی تیرا ایک بندہ ناچیز ہوں، اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہوں، کچھ سجھائی نہیں دے رہا سو آج تجھ سے مدد مانگ رہا ہوں، تو ہی میرا شکوہ سُن اور کچھ اِس کا مداوا کر دے۔ یا اللہ! ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں یہ ملک ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا، دس لاکھ لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں، کئی ملین بے گھر ہوئے، لاکھوں عورتیں اپنے خاندانوں سے بچھڑ گئیں، معصوم بچے مارے گئے، پھر کہیں جاکر زمین کا یہ چھوٹا سا ٹکڑا ہمیں ملا جہاں ہم اپنی مرضی کے مطابق قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی بسر کر سکیں۔ کچھ لوگوں کو اِس بارے میں شک تھا کہ اسلام کے نام پر ملک حاصل کرنے کی بات خدا نخواستہ سیاسی نعرہ تھی سو اِس غلط فہمی کا ازالہ ہم نے قراردادِ مقاصد کی شکل میں کر دیا، گو کہ اقلیتی ممبران اسمبلی نے قرارداد کی اِس بنا پر مخالفت کی تھی کہ یہ قائداعظم کے سیکولر ریاست کے خواب سے میل نہیں کھاتی مگر ہم نے اُن کے اعتراضات مسترد کر دیے کیونکہ ہم ایک ایسا ملک بنانا چاہتے تھے جو اسلام کی تجربہ گاہ ہو، جہاں ہم اسلام کے آفاقی اصولوں کی روشنی میں ایسا سوشل کنٹرکٹ بنائیں جس سے ہماری زندگیاں منور ہو جائیں اور پھر جس کے نتیجے میں وہ سائنس دان، فلسفی، عالم دین، ماہر تعلیم اور اعلیٰ کردار کے شہری پیدا ہوں کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا ظہور ہو جائے۔

یا اللہ! اس نظریے میں کیا برائی تھی، کیا ہم نے خلوصِ نیت اور صدقِ دل سے اِس نیک کام کی بنیاد نہیں رکھی تھی؟ اور ہم صرف گفتار کے غازی نہیں تھے، ہم نے وہ تمام عملی اقدامات بھی کیے جو ایک اسلامی معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری تھے۔ اپنے آئین کی پیشانی پر لکھا کہ حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ کو سزاوار ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا، وہ ایک مقدس امانت ہے۔ ہم نے آئین میں لکھا کہ مملکت کا مذہب اسلام ہوگا اور کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جائے گا جو قرآن و سنت کے منافی ہو۔ الحمدللہ، یہ بات صرف لکھنے کی حد تک نہیں رہی، آج مملکتِ پاکستان میں کوئی قانون ایسا نہیں جو اسلام کے کسی بنیادی اصول یا احکام سے متصادم ہو۔ ہم نے ایک اسلامی نظریاتی کونسل قائم کر رکھی ہے جس کا کام مجلس شوریٰ کو بتانا ہے کہ کون سا قانون اسلامی ہے اور کون سا غیر اسلامی، اس کونسل میں ملک کے جید علمائے کرام اور عالم شامل ہوتے ہیں جو دینی معاملات پر قوم کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہم نے ایک وفاقی شرعی عدالت بھی قائم کر رکھی ہے جس کا کام ہے کہ وہ اِس بات کا جائزہ لے کہ پاکستان میں کوئی قانون اسلامی احکام کے بر خلاف تو نہیں۔

اے میرے اللہ! یہ ملک اسلام کا قَلعہ تھا (ہے) اور اِس قلعے کو مضبوط بنانے کی غرض سے ہم نے ایٹم بم بنایا اور اس باب میں امریکہ سمیت کسی طاغوتی قوت کی پروا نہیں، یہ ہمارا جذبہ ایمانی ہی تھا کہ ہم نے سویت یونین جیسی سپر پاور کے ٹکڑے کر دیے، مقصد صرف ایک تھا، اپنے دین کی سر بلندی۔ ہم نے عملی طور پر بھی پاکستان میں تیرے دین کو لاگو کیا اور کسی لادین قوت کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے، آج یہاں حج کے بعد دنیا کا سب سے بڑا تبلیغی اجتماع ہوتا ہے، علمائے دین کے احترام کا یہ عالم ہے کہ لوگ ان کی جوتیاں اٹھاتے ہیں، ان کی ایک جھلک دیکھنے کو ترستے ہیں، گھنٹوں ان سے دین کی باتیں سنتے اور سمجھتے ہیں اور عمل کرنے کا عالم یہ ہے کہ لاکھوں لوگ ہر سال حج، عمرہ کرتے ہیں، صدقہ و خیرات کرتے ہیں، جمعہ کی نماز کے وقت بازار بند کر دیتے ہیں۔ یا اللہ! ہم نے تیری اِس مملکت میں سود سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تدبیر بھی کر لی ہے، اب کوئی ایسا بینک نہیں جو سود سے پاک سرمایہ کاری کی طرف راغب نہ کرتا ہو، اسٹیٹ بینک کا علیحدہ ایک ونگ اس کام کی نگرانی کرتا ہے اور اِس ضمن میں دن رات کوشاں ہے کہ کیسے اِس لعنت سے مکمل نجات حاصل کی جاوے، اس کے علاوہ شراب اور جوے پر پابندی ہے، لڑکیوں میں روز بروز حجاب کا رجحان بڑھ رہا ہے، ہماری دنیاوی یونیورسٹیا ں بھی اسے بڑھاوا دے رہی ہیں، فحاشی کی شکایت ہوتی ہے مگر ملک میں قانون ہے کہ کوئی سرعام بوس و کنار نہیں کر سکتا اور کسی کی جرأت بھی نہیں۔

اے کائنات کے رب! تیرے محبوب سرکارِ دوعالمﷺ سے ہماری محبت کا ثبوت تو ہماری زندگیوں کا اثاثہ ہے، ہم جتنے بھی گناہگار ہوں اپنے آقاﷺ کے نام پر کٹ مرنے کو تیار رہتے ہیں، رسول اللہﷺ کی شفاعت حاصل کرنا ہمارا مقصدِ حیات ہے، دنیا کا کوئی دوسرا ملک رسو ل اللہﷺ کی غلامی میں ہماری برابری نہیں کر سکتا۔ قران مجید اور حدیث کی کتب کی طباعت کا جیسا اہتمام اِس مملکت میں ہے ویسا شاید ہی کہیں اور ہو، چپے چپے پر مسجدیں آباد ہیں، بزرگانِ دین کے ہم عرس مناتے ہیں، محافل شبینہ منعقد ہوتی ہیں، قرأت اور نعت خوانی کے مقابلے ہوتے ہیں، رویتِ ہلال کمیٹی، اسلامی یونیورسٹی، قرآن بورڈ، ادارۂ تحقیقِ اسلامی، ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ اور سینکڑوں ایسے سرکاری اور نجی ادارے قائم ہیں جہاں دن رات تیرے دین کی سربلندی کے لیے کام ہو رہا ہے، ہزاروں مدرسوں میں لاکھوں طلبہ اور قران پاک کے حفاظ اور دینی علوم کے ماہر فارغ التحصیل ہو کر نکلتے ہیں فقط تیری رضا اور خوشنودی کے لئے۔

اے رب کونین! ہم سے کہاں خطا ہوئی تو ہی بتا، تو ہی رہنمائی فرما دے، ہم نے تو پوری کوشش کی اِس ملک کو اسلامی دنیا کا رول ماڈل بنائیں مگر کیوں تیری نعمتوں اور نوازشوں سے ہم اب تک محروم ہیں؟ تیرے اِس عاجز گناہ گار بندے کا بس یہ شکوہ ہے!