آفرین!آفرین! محمد اظہارالحق

بالآخر آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ کے پیشرو آپ سے بہتر تھے! انہوں نے عوام کے لئے گڑھے کھودے۔ یہ گڑھے صاف نظر آ رہے تھے جوگرے‘ جان بوجھ کر ان میں گرے! جو بچے‘ اس لئے بچے کہ گڑھے دکھائی دے رہے تھے! مگر جناب وزیر اعظم! آپ نے تو گڑھے کھود کر ان درختوں کی ٹہنیاں یوں رکھیں جیسے شہتیر رکھتے ہیں۔ پھر ان پر سبز پتے رکھے۔ پھراوپر مٹی ڈالی۔ یہاں تک کہ گڑھے چھپ گئے۔ زمین ہموار ہو گئی۔ عوام خوش کہ گڑھے نہیں رہے! مگر پھر عوام ان گڑھوں میں گرنا شروع ہو گئے۔ آہستہ آہستہ ‘ روز بروز‘ ایک صدمے کے بعد دوسرا صدمہ! اب واضح ہو چلا ہے کہ یہ عوام کا شکار تھا! گڑھوں میں گرا کر انہیں شکار کیا جا رہا ہے! جناب وزیر اعظم! ٹاپ سطح کی بیورو کریسی کے آگے آپ کی کیا مجبوری تھی! اس کے سامنے آپ کیوں بے بس ہو گئے! آپ نے بھی اپنے پیشروئوں کی طرح پٹواریوں، تھانیداروں اور چھوٹے پرزوں پر زور آزمائی کی اور ٹاپ لیول بیورو کریسی کے سامنے کچھ نہ کر سکے۔ استاد ذوق یادؔ آ گئے ؎ کسی بے کس کو اے بیداد گر! مارا تو کیا مارا جو خود ہی مر رہا ہو اس کو گر مارا تو کیا مارا نہیں وہ قول کا سچا!ہمیشہ قول دے دے کر جو اس نے ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا تو کیا مارا جگر‘ دل‘ دونوں پہلو میں ہیں زخمی اس نے کیا جانے اِدھر مارا تو کیا مارا اُدھر مارا تو کیا مارا! یہ کالم نگار وفاقی دارالحکومت کی جس رہائشی آبادی کا مکین ہے اس کے نوے فیصد باشندے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔

بدقسمتی سے یہ بستی اُس رسوائے زمانہ ایکسپریس وے کے دہانے پر واقع ہے جس کی تعمیر موجودہ حکومت نے آ کر ‘ آدھے میں روک دی۔ اوپرسے ٹرک مافیا! الامان والحفیظ! خلق خدا ‘ لاکھوں کی تعداد میں صبح و شام ایسے عذاب سے گزر رہے ہیں جس کی مثال کم ہی ملے گی! بستی کے چند شرفا اس کالم نگار کے پاس تشریف لائے۔ ان کا خیال تھا کہ کالم نگار سرکاری ملازمت میں بلند سطح پر کام کر چکا ہے‘ کار حکومت کے انداز کو سمجھتا ہے۔ میڈیا سے بھی تعلق ہے۔ چنانچہ کوئی نسخہ کیمیا لکھ کر دے گا! ان کی خدمت میں عرض کیا کہ میڈیا تو لکھ لکھ کر‘ چیخ چیخ کر ‘ ہار چکا! حکومت اور وزیر اعظم ذرا نہ موم ہوئے۔ بقول شکیب جلالی ؎ ذرا نہ موم ہوا پیار کی حرارت سے چٹخ کے ٹوٹ گیا‘ دل کا سخت ایسا تھا! مگر عرض کیا کہ چیف کمشنر اسلام آباد سے بطور وفد ملتے ہیں اور قائل کرتے ہیں کہ ٹرک مافیا کو کنٹرول کیا جائے جو چیف کمشنر کا فرض منصبی بھی ہے! اب چیف کمشنر سے ملنے کے لئے وقت لینا تھا وقت لینے کے لئے بات کرنا تھی۔ ملنے کا سبب بتانا تھا۔ ستمبر کی چار تاریخ تھی جب پہلی بار فون کیا چیف کمشنر کے پاس دو عہدے اور دو دفاتر ہیں ایک جگہ فون کیا۔ معلوم ہوا صاحب نہیں ہیں! مشتاق نامی معاون کونام فون نمبر نوٹ کرایا۔ سرکاری ملازمت کا حوالہ لکھایا۔ پھر دوسرے دفتر فون کیا۔ رفاقت نامی معاون کو وہاں بھی التماس نوٹ کرائی۔

التماس کیا تھی کہ فون پر دو منٹ بات کرنی ہے! یہ بدھ کا دن تھا! دوسرے دن پھر یہ سارا عمل دہرایا۔ تیسرے دن پھر یہ عمل دہرایا۔ پھرسنیچر ‘ ایتوار دو چھٹیاں آ گئیں۔9تاریخ‘ پیر کا دن طلوع ہوا۔ سہ پہر تک انتظار کرنے کے بعد پھر فون کیے۔ اب کے معاونین بھی تھکے تھے۔ مضمحل ‘ مضمحل ‘ بے بس بے بس نظر آئے۔ دو ہفتے انتظار میں گزرے کہ چیف کمشنر کی طرف سے ایک باعزت شہری کو ایک باعزت ٹیکس دہندہ کو جوابی فون آئے گا۔ کتنی بھی مصروفیت ہو‘دو ہفتوں میں تو باری آ ہی جانی چاہیے تھی اور پھر مصروفیت کیا! یہ بھی تو فرائض منصبی کا حصہ ہے! لازمی حصہ!! اچانک دماغ میں روشنی لہرائی کہ پاکستان سٹیزن پورٹل کا بڑا شہرہ ہے! وہاں فریاد کی جائے۔ چنانچہ 23ستمبر کو وزیر اعظم کے اس خاص مشہورومعروف سٹیزن پورٹل میں شکایت درج کرائی۔ شکایت کیا تھی۔ یہی کہ ان ان تاریخوں پر التماس کی بات کرنی ہے۔ کوئی شنوائی نہیں چیف کمشنر تک رسائی‘ اس سے بات کرنا ممکن نہیں! شہری حقوق کا معاملہ ہیٖ! اے تبدیلی کے خواہاں عوام! سنو! اس کے بعد کیا ہوا۔ بتایا گیا کہ چیف کمشنر کے خلاف یہ شکایت چیف کمشنر ہی کو بھیج دی گئی ہے! یہ ہے وہ گڑھا جس کے اوپر ٹہنیاں اور سبز پتے ڈالے گئے ہیں! کہیں دنیا میں ایسا ہوا کہ جس کے خلاف شکایت ہے اسی کو داد رسی کے لئے شکایت بھیجی جائے؟ دیوانے کو بھی معلوم ہے کہ یہ شکایت چیف کمشنر کونہیں‘ چیف کمشنر کے باس کو بھیجنی چاہیے تھی! وہ اس سے جواب طلبی کرتا اس کے کمنٹ لیتا ۔

ارے بھائی! یہ اشک شوئی ‘ یہ سرخ فیتے کی گردان تو ستر برس سے چل رہی ہے۔ ستر برس سے حکمران اعلیٰ کا دفتر ڈاکخانہ بنا ہوا ہے۔ ادھر سے آئے تو ادھر بھیج دو۔ اُدھر سے آئے تو اِدھر! جناب عمران خان وزیر اعظم پاکستان! ہر شکایت پر غور کرنے کے لئے کسی میٹرک پاس ہی کو تعینات کر دیتے اس کو بھی پتہ ہے کہ باڑ کھیت کو کھا رہی ہو تو باڑ سے شکایت نہیں کرتے۔ چرواہے کو پوچھتے ہیں۔ کیا چیف کمشنر سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ تم جو اتنی تنخواہ اور مراعات لے رہے ہو تو ایک باعزت تعلیم یافتہ ٹیکس دہندہ شہری سے دو منٹ بات کرنے کے روادار نہیں؟ اگر یہ نہیں ہو رہا تو جناب وزیر اعظم ! کس تبدیلی کی بات آپ کر رہے ہیں! مگر شہریوں کے ساتھ بدترین ‘مذاق ابھی ختم نہیں ہوا۔ خاصے کا پکوان تو آگے آنا ہے۔Lo and Behold! سنو اور غور سے سنو! تین ہفتے یعنی تقریباً چوبیس دن کے بعد چیف کمشنر کے دفتر سے یہ شکایت ڈپٹی کمشنر کو بھیج دی گئی! اللہ !اللہ !ڈپٹی کمشنر اب اپنے باس کمشنر سے پوچھے گا کہ جناب آپ نے نارسائی کا تانا بانا اپنے گرد کیوں بن رکھا ہے؟ آپ کیا خدا ہیں؟ آپ کا کیا خیال ہے ماتحت ڈپٹی کمشنر اپنے بڑے افسر سے جواب طلبی کرے گا؟ ڈپٹی کمشنر نے شکایت کرنے والے کو لکھ بھیجا کہ ’’تفصیلات بتائو تاکہ اگلی کارروائی کی جائے۔ اللہ اللہ خیر صلاّ۔ کارروائی تمام ہوئی۔ پنجابی میں کہتے ہیں مٹی تے سواہ! گرد اور راکھ! مکھی پر مکھی ماری جا رہی ہے۔

وہی سرخ فیتہ۔ وہی کمشنر سے ڈپٹی کمشنر۔ ڈپٹی کمشنر سے اسسٹنٹ کمشنر۔ پھر تحصیلدار۔ پھر پٹواری ع بندہ ہے کوچہ گرد ابھی خواجہ بلند بام ابھی جناب وزیر اعظم! تبدیلی تو تب ہوتی ہے کہ چیف کمشنر کا فسر اعلیٰ اس سے پوچھتا اور حکم دیتا کہ شہریوں سے بات کرو!مگر ہو وہی رہا ہے جو ستر برس سے لدھیانے میں ہوتا آیا ہے! یہ سنی سنائی بات نہیں ! ذاتی تجربہ ہے!دیگ کا ایک چاول دیگ کا ذائقہ بتا رہا ہے۔ تو پھر اس میں کیا شک ہے کہ ہزاروں لاکھوں شکایات کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہو گا۔ اعداد و شمار میں اس شکایت کے ساتھ بھی لکھا جائے گا۔’’نمٹا دی گئی‘‘ پھر وزیر اعظم اعلان کریں گے اتنی شکایتوں کا مداوا کر دیا گیا۔ یہ پورٹل روٹین کی کلرکی کے سوا کچھ بھی نہیں۔خدائے بزرگ و برتر کا شکر ہے کہ وزراء اعظم کی طویل فہرست میں ہمارے محبوب انقلابی رہنما جناب عمران خان کا نام آ گیا ہے! یہی مطلوب و مقصود تھا! سو حاصل ہو گیا! عُود سلگائو! لوبان دہکائو! جھاڑ فانونس روشن کرو! تبدیلی کا خیر مقدم کرو!