ہاتھوں کے طوطے- مہوش کرن

شادی کے بعد سسرال میں کچھ دن تک تو دوسرے شہروں اور ملکوں سے آئے مہمانوں کی چہل پہل رہی۔ ماشاء اللٰہ بہت بڑا خاندان اور سب میں محبت سے ملنا جلنا تھا۔اور شادی ہوئی بھی ایسے موسم میں تھی جسے عرفِ عام میں “گرمیوں کی چھٹیاں” کہا جاتا ہے اس لیے کئی دن خوب رونق اور نئے رشتہ داروں سے خوب جان پہچان رہی پھر آہستہ آہستہ سب گھروں کو لَوٹنے لگے تو اُن سے واسطہ پڑا جنہوں نے کہیں واپس نہیں جانا تھا ۔۔۔۔

جی نہیں میں سسرال والوں کی بات نہیں کر رہی ۔۔۔ میں بات کر رہی ہوں پرندوں سے بھرے ایک بہت بڑے سے پنجرے کی۔۔۔جی ہاں دنیا جہان کے رنگ برنگے طوطے اور چڑیاں, کبوتر اور مرغیاں ایک بڑے سے پنجرے میں جمع تھے اور وہ پنجرہ میرے ہی کمرے کی کھڑکی کے ساتھ رکھا تھا۔ میں فطرتاً خاموشی پسند طبیعت کی حامل تھی۔۔۔ اس وقت پتا نہیں تھا نا کہ آئندہ کی زندگی اتنی پُرشور گزرے گی(: ۔۔۔تو جناب روز صبح ،دوپہر، شام ، وقت بے وقت یہ پرندے میرے سر پر سوار شور شرابہ کرتے رہتے۔ ساس سسر سے تو کچھ بولنے کی ہمت نہ تھی البتہ کبھی دبے لفظوں میں صاحب خانہ سے کچھ کہنے کی جسارت کی تو الٹا ان کا کھلانا پلانا بھی مجھے ہی سونپ دیا گیا لو جی یہ سن کر تو میرے ہاتھوں کے طوطے ہی اُڑ گئے ،کیونکہ انہیں وہ پرندے عزیز تر تھے اور شاید میں بھی کسی حد تک عزیز تھی تبھی پنجرے کی صفائی کرنے کا کام مجھے نہیں دیا گیا ، وہ تو ہر چھٹی والے دن صاحب خود ہی بہت اہتمام اور لاڈ سے اپنے پرندوں کی صفائی ستھرائی اور خوراک دوائیوں کی جانچ کا انتظام کرتے اور تو اور جب کبھی انڈوں کا موسم ہوتا تو معاملے کی نزاکت بے تحاشہ بڑھ جاتی ۔۔۔۔صاحب تو ایک طرف لیکن یہاں تو دیور جی بھی جان دیتے تھے ان پر مطلب پرندوں پر اور پیاری نند بھی سسرال سے فون پر خیریت پوچھتی رہتی ، یہاں تک کہ بڑے جیٹھ جو ملک سے باہر تھے وہ بھی مکمل خیر خبر لیتے رہتے ۔

اب ایک میری پتلی گردن پھنسی ہوئی ، نئی نویلی دُلہن اور اتنی بھاری ذمہ داری ۔۔۔ جناب یہ محاورتاً نہیں کہا واقعی گردن بہت پتلی تھی ، ہرنی کی طرح پتلی کہہ لیں اور آج تک ہے پتلی بھی اور پھنسی ہوئی بھی ۔۔۔ بہرحال میں بھی کاموں میں پیش پیش رہتی ، شور شرابہ چپ چاپ سہتی رہتی بھئی ظاہر ہے صاحب کو خوش جو کرنا تھا اور باقی سب کی رضامندی بھی عزیز تھی کیونکہ میں خود بھی ہر دلعزیز بننا چاہتی تھی ۔اب کامیابی کتنی ہوئی یہ جاننے کے لیے تو آپ کو سسرال والوں کا انٹرویو کرنا پڑے گا ۔۔۔ اپنے منہ میاں مٹھو بننا تو اچھا نہیں لگتا نا... اسی طرح گرمی، سردی، خزاں ، بہار غرض سارے موسم گزرتے رہے ۔ میں اور پرندے ساتھ ساتھ بڑھتے گئے ۔۔۔حدود ِ اربع میں نہیں تعداد میں ،،، جی ہاں اللٰہ نے ایک پیاری سی رحمت سے نواز دیا ۔۔۔ اب اور بڑی ذمہ داری لیکن خود بخود سب کام ایک ساتھ پورے ہونے لگے کیونکہ عادت بن چکی تھی اور سچ پوچھیں تو بہت انسیت بھی ہو گئی تھی ۔ اتنے سال گزر گئے ہم نے گھر بھی بدلے لیکن وہ ہمسفر ہمیشہ ہمارے ساتھ ہجرت کرتے رہے ، ایک اور اولاد ، وہ بھی رحمت ِ الٰہی، جھولی میں آگئی ۔ اب کبھی بچیوں کو بخار میں پینا ڈول پلاؤں تو کبھی طوطوں کو، کئی ایک طوطے اور چڑیاں داغِ مفارقت بھی دے گئے ۔ ایک بار تو خدا جانے اُن کے دماغ میں کیا سمائی کہ اپنے سارے انڈے ہی مٹکے سے نکال کر باہر پھینک دیے ،

اُس دن میں بہت روئی اور سوچا کہ کیا اِن طوطوں کا ماہرِ دماغی امراض سے معائنہ کراؤں ؟۔۔۔ بھلا اپنے ہی انڈوں کو کون نکال پھینکتا ہے چاہے کتنے ہی گندے کیوں نہ ہوں ؟ کچھ کچھ یاد آیا کہ سنا تھا سانپ اپنے انڈوں کو نگل جاتا ہے اور بِلَّا بھی شاید اپنے نومولود بچوں کو کھا جاتا ہے،،، لو جی پھر خیال آیا کہ جاپان میں تو اپنے ہی یعنی انسانوں کے ہی پریمیچیور بچوں کو کھایا جاتا ہے،،، یعنی حد ہے بھوکے اور ندیدے پن کی بھی کہ سارے جانور اور کیڑے مکوڑے کھا کر بھی ان غلیظ لوگوں کے پیٹ نہیں بھرتے ؟؟؟، مجھے تو لکھتے بھی متلی آنے لگی ۔۔۔۔ہاں تو بھلا میں کس کس کو دماغ کے معالج کے پاس لے جاتی ؟ بس اسی لیے چپکی بیٹھی رہی کہ کہیں سب میری دماغی حالت پر شبہ نہ کرنے لگیں۔ خیر پھر تقدیر نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ ہم لوگوں کو بہت چھوٹے گھر میں جانا پڑا ۔اب یہ چھوٹائی میں نے جغرافیائی طور پر بتائی ہے ورنہ تو گھر کی وسعتیں دلوں میں پنہاں ہوتی ہیں۔۔۔ہاں تو اب کی بار تبدیلی یوں آئی کہ کسی کو پنجرہ دیا اور کسی کو طوطے تو کسی نے چڑیا پکڑی غرض اتنے عرصے سے جو لوگ ہمارے گھر کے پرندوں کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے آئے تھے ان سب کی دلی مراد بَر آئی اور ہم سب نے دل پر پتھر رکھ لیا کیونکہ اتنے عرصے میں تو اُن سے میری بچیوں کو بھی بے انتہا رغبت ہو چکی تھی .

جنہوں نے بعد میں اُس چڑیا گھر میں بطخ کی بچوں کا اضافہ بھی کیا تھا۔۔۔ بہرحال اب میں اپنے ایک اور گھر میں چڑیوں طوطوں کے شور کی کمی دل و جان سے محسوس کرنے لگے۔ دن بھر کے کاموں میں ایک بہت بڑا کام کم ہوگیا ، بچیاں بھی اکثر ان کا پوچھتیں، میں ہوں ہاں کر کے ٹالتی رہی۔ سچ ہے کہ دل میں بہت گہری جگہ بنا گئے وہ پرندے ، جو کہنے کو اللٰہ کی بے زبان مخلوق لیکن صبح سویرے سے اپنی زبان سے ہم سے بہتر اللٰہ کی حمد شروع کر دیتے ، جو روز کا رزق کھا کر ہمارا روزآنہ کا صدقہ پورا کروا دیتے ، پتا نہیں کون کون سی ان دیکھی بلاؤں کو اللٰہ تعالٰی اس بات سے خوش ہو کر ٹال دیتے ہوں گے۔۔ خیر جی وقت کسی کی یاد میں ٹھہرتا تھوڑی ہے، پرندے نہ سہی وقت ہی سہی وہ پَر لگا کر اڑتا رہا۔ اور اب کی بار ،باذن اللٰہ ،ہم نے صرف گھر نہیں شہر ہی بدل لیا اور اللٰہ سبحان تعالٰی نے نجانے کس بات پر خوش ہو کر تیسری بار بھی رحمت سے گھر بھر دیا۔۔۔اب مزہ آیا نا ،،، جی جناب اب اتنی جگہ ہے کہ میں نے اور بچیوں نے مل کر صاحب کی پرانی پسند، اپنی پرانی عادت اور بچیوں کی پرانی مصروفیت اور شوق کو دوبارہ گھر میں جگہ دی ۔۔۔۔ اب پھر سے موسم بے موسم ان کا ناز نخرہ ہے اور صبح شام ذاتِ باری تعالٰی کی حمد وثنا۔۔۔

ٹیگز