اف...! کتنا بولتا ہے یار - جاوید اختر آرائیں

اف...! کتنا بولتا ہے یار.....!! اس اتوار کی شام چھ بج کر چالیس منٹ پر ایک بہت مہربان دوست بہت پیارے انسان ملاقات کے لئے تشریف لائے . بہت بولتے ہیں..! بس بولے جاتے ہیں .
سامنے والے کی سنے بغیر بول بول بول بس بولے جاتے ہیں . میں نے ان کے آنے اور جانے اور بولنے کا وقت نوٹ کر لیا . یہ میچ تقریباً ٩٠ منٹ کا تھا .. اس دوران گفتگو کی فٹ بال پچاسی منٹ ان کے پاس رہی .

مجھے بمشکل پانچ منٹ بولنے کا موقع ملا...! میں نے سوچا .. آخر اس قدر زیادہ بولنے کی وجوہات کیا ہیں کیا یہ کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے..؟ تربیت کی کمی ہے..؟ اس شعبے کے ماہرین بتاتے ہیں
بہت زیادہ بولنے والے افراد کی اس عادت کی یہ دس وجوہات ہوسکتی ہیں ، . جب ہم اپنے بارے میں بولتے ہیں تو برین ایک ہارمون پیدا کرتا ہے جس کا نام ڈوپامن ہے ، اسے Pleasure Hormone کہتے ہیں یعنی خوشی کا ہارمون جب یہ جسم میں پیدا ہوتا ہے تو انسان خوشی محسوس کرتا ہے اور اپنے خوش رہنے کے لئے بغیر سنے بولے جاتا ہے . میں سب جانتا ہوں..! خود پسند انسان
یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ میں آپ سے زیادہ جانتا ہوں . زیادہ بولتا ہے .. اپنے ڈپریشن کو چھپانے کے لئے زیادہ بولتا ہے .. اپنے مخاطب کی ذہن سازی بلکہ برین واشنگ کے لئے بولتا ہے . . دوسرے کو چپ کرانے کے لئے زیادہ بولنا .جب ایک جیسے دو زیادہ بولنے والے مل جائیں تو دوسرے کو چپ رکھنے کے لئے بولتا ہے . . اکثر افراد کا زیادہ بولنا غیر اختیاری ہے . انہیں احساس ہی نہیں ہوتا وہ بہت زیادہ بولتے ہیں یہ بات ان کی لاشعوری عادت بن جاتی ہے . . انہیں یاد نہیں رہتا کہ ایک قصہ کتنی بار سنا چکے ہیں . . خاموشی کو دور کرنے کے لئے بولنا ..یہ لوگ عظیم ہوتے ہیں جو گم سم مٹی کے مادھو جیسے لوگوں کی محفل میں گفتگو، بول چال، زندگی بحال رکھنے کے لیے بولتے ہیں .ایسے لوگوں کو سلام پیش کرتا ہوں ..

آئیے ..اب کچھ حل تلاش کرتے ہیں ..کیسے انہیں سمجھائیں .کیسے بتائیں کہ آپ زیادہ بولتے ہیں کم سنتے ہیں ... پہلے سنیں ... . لیکن زیادہ دیر تک نہیں ... انہیں روک کر بتائیں کہ اب تک کیا بات سن چکے ہیں ... پھر انہیں بتا دیں آپ کتنے مصروف ہیں .... مجبوراً ایسا تاثر دیں جیسے آپ سن نہیں رہے ... سوال نا کریں ... جب گفتگو بہت طویل ہو جائے تو انہیں روکیں
. انہیں کہیں ہم پھر کسی وقت بات کریں گے ... بہت زیادہ بولنے والے دوست ، احباب کو یہ پوسٹ فارورڈ کر دیں .. میں نے ایک اصول یہ سیکھا ہے کہ ..اگر کوئی مہمان آئے اسے بولنے کا پچھتر فیصد وقت دیا جائے ..میزبان اپنے پاس صرف پچیس فیصد وقت مائک رکھیں اور اس وقت میں بھی سوال کیجئے وہ سوال جو ان کے بارے میں جاننے کے لیے ہوں ..
اگر دوست احباب کہیں باہر آؤٹ ڈور ملاقات کریں . پھر ففٹی ففٹی ہونا چاہیے .دونوں کو برابر وقت ملنا چاہیے . اکثر بہت زیادہ بولنے والے افراد کسی نہ کسی نفسیاتی الجھن کا شکار ہوتے ہیں اگر آپ ان سے ہمدردی رکھتے ہیں تو انہیں کسی ماہر نفسیات جو کاؤنسلنگ سے علاج کرتے ہوں سے ملوا دیں .لیکن .. اپنے بزرگوں کی بات تحمل سے سنیں .وہ بات کرنے کے لئے ترس رہے ہوتے ہیں
ان پر کوئی اصول کوئی فارمولہ اپلائی نہ کریں ..کم کھانا صحت، کم بولنا حکمت، اور کم سونا عبادت میں شامل ہے۔