جون ایلیا! (1) عطا ء الحق قاسمی

غالب نے کہا تھا: ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے لیکن میری خواہشیں وہ نہیں ہیں، جو اس شعر میں تہہ در تہہ موجود ہیں، میری خواہش تو چھوٹی سی ہے مگر میرے لئے وہ بہت اہم ہے۔

میں ان شخصیتوں کے بارے میں لکھنا چاہتا ہوں جنہوں نے مختلف شعبوں میں اپنے فن کا سکہ جمایا (ان میں سرفہرست تو میں خود ہوں) مگر یہ جو کم بخت کالم ہے نا، ہفتے میں پانچ روز اور یہ بھی طنز و مزاح، علامتی یا افسانوی رنگ میں لکھنے کی عادت پڑی ہوئی ہے،

سارا دماغ یہ چوس جاتا ہے، اس کے بعد تو خط لکھنے کو بھی جی نہیں چاہتا، یہ تو اللہ کا خصوصی کرم ہے کہ اب تو خط لکھنے کا زمانہ ہی نہیں رہا ورنہ جواب نہ دینے کی وجہ سے دوستوں کی رنجشوں کا ماضی کا سلسلہ حال اور اس کے بعد مستقبل تک جاری رہتا تھا۔

اس حوالے سے جو مضامین لکھے ہیں اُن میں سے پچاس فیصد مرحومین پر تھے اور اُن پچاس فیصد میں سے دس فیصد وعدہ وفا کرنے کی وجہ سے تھے کیونکہ مرحومین نے فرمائش کی تھی کہ اُن کی وفات پر کالم ضرور لکھنا اور اُن دس فیصد میں سے بھی پانچ فیصد وہ تھے جن کی وفات پر کالم لکھنے کی مجھے اُن سے زیادہ جلدی تھی!

میں اس حوالہ سے (بھی) بہت خوش ہوں کہ میری بے تکلفانہ دوستی ان نابغۂ روزگار ہستیوں سے رہی ہے جن کی ایک جھلک دیکھنے کو ہی لوگ ترستے ہیں، میں آج خصوصی طور پر منیر نیازی اور جون ایلیا کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ یہ دو شاعر اپنی منفرد شاعری کے علاوہ اپنی منفرد شخصیت کی وجہ سے بھی مجھے بہت محبوب ہیں مگر فی الحال جون بھائی سے اپنی چند ملاقاتوں کا ذکر کروں گا۔

میرے دوستوں کو بھی شاید علم نہیں کہ میں اوائل جوانی میں پورے چھ مہینے کراچی میں مقیم رہا، ان دنوں سلیم احمد، قمر جمیل، نفیس اطہر، جمیل الدین عالی، شبنم رومانی، رضی اختر شوق، محشر بدایونی اور دوسرے سینئرز کے علاوہ اپنے ہم عصروں‘ ثروت حسین، جمال احسانی، عبیداللہ علیم، اور اس دور کے دوسرے نوجوان اور بہت خوبصورت شاعری کرنے والے دوستوں سے ایرانیوں کے چائے خانوں میں ملاقاتیں رہیں مگر عجیب بات ہے کہ جون بھائی سے ملاقاتیں تو کیا، ایک ملاقات کا موقع بھی نہ ملا۔

ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ تو اس وقت شروع ہوا جب میری شاعری کی دھومیں زمین کے علاوہ کائنات کے دوسرے سیاروں تک بھی جا پہنچیں اور اندرون اور بیرونِ ملک مشاعرے کرانے والوں نے بہت منت ترلے کرکے مجھے ان مشاعروں میں شرکت کی دعوت دینا شروع کی۔

بس جون ایلیا سے ان مشاعروں اور مشاعروں کے بعد ہوٹل میں جمنے والی محفلوں میں ملاقاتیں ہونے لگیں۔ جون کو پڑھا تو بہت ہوا تھا اور ان کی شاعری نے مجھے ان کا دیوانہ بنا رکھا تھا مگر جب ان سے ملنے کا موقع ملا تو پتا چلا کہ وہ صرف دوسروں کو دیوانہ نہیں بناتے بلکہ خود بھی دیوانے ہیں مگر کبھی کبھار بکار خویش ہشیار بھی نظر آتے تھے۔

منیر نیازی بتاتے تھے کہ جب وہ پہلی دفعہ جون کو ملے تو وہ ’’مجھے دیکھ کر اتنا خوش ہوا کہ درخت پر چڑھ گیا‘‘ میں اس بات کو منیر کی جملے بازی کا حصہ سمجھا مگر قطر کے مظاہرے میں جب ہم ہوٹل کے ایک کمرے میں جمع تھے، باقی بات بعد میں بتاتا ہوں پہلے یہ سن لیں کہ جون مجھے صرف ’’الحق‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔

نیز مجھے یہ بھی بتانا ہے کہ اکثر لوگوں کی زبان سے عطاء الحق بڑی مشکل سے ادا ہوتا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو ’’ضیاء الحق‘‘بہت آسانی سے کہہ لیتے تھے، بہرحال مجھے کوئی عطاء اللہ، کوئی عطاء اللہ حق اور کوئی عطا محمد خان کہہ دیتا ہے۔ بہرحال جب قطر کے ہوٹل کے اس کمرے میں جہاں جون بھائی اپنے دوستوں اور مداحوں سے گپ شپ میں مشغول تھے،

اچانک انہوں نے مجھے مخاطب کیا اور کہا ’’الحق‘‘ مجھے سیر کرائو، مجھے سمجھ نہیں آئی کہ میں انہیں سیر کیسے کرائوں مگر میرے فیصلے سے پہلے وہ پلاکی مار کر میرے کاندھے پر سوار ہو گئے اور کہا ’’چلو‘‘۔ میں انہیں کمرے سے باہر لے آیا اور دیر تک ادھر ادھر گھماتا رہا اور اس وقت کاندھے سے اتارا جب وہ تھک گئے یا بور ہوگئے، میں تو نہ بور ہوا تھا اور ان کے وزن سے تھکنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

جون بھائی ڈرامے باز بھی تھے۔ دبئی کے ایک مشاعرے میں جب ہال سامعین سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا، وہ اچکن اور سر پر جناح کیپ پہنے پورے قائداعظم بنے داخل ہوئے، میں اسٹیج پر پہلے سے موجود تھا، انہیں اس گیٹ اَپ میں دیکھ کر میری ہنسی نکل گئی۔

اپنی باری آنے پر انہوں نے ٹوپی اتار دی کیونکہ کلام سناتے ہوئے انہوں نے اپنے لمبے بالوں سے بھی کام لینا ہوتا تھا۔ کچھ دیر بعد اچکن بھی اتار کر پرے رکھ دی؛ تاہم معاملہ یہیں تک محدود رہا۔ جون بھائی چائے کے کپ میں بظاہر چائے مگر منیر نیازی کے الفاظ میں دراصل ’’گرائپ واٹر‘‘ پی رہے تھے۔ برابر میں دھری چینک بھی ’’گرائپ واٹر‘‘ سے بھری ہوئی تھی۔

سلیم جعفری مرحوم مشاعرے کی نظامت کر رہے تھے۔ اردو ادب کے لئے بے پناہ خدمات انجام دینے والے مصیب الرحمٰن حسبِ معمول بھرے ہوئے ہال کے آخر میں کھڑے تھے۔ اس شخص نے بلامبالغہ کروڑوں روپے اردو کی خدمت پر صرف کئے، افسوس انہیں اب کوئی یاد نہیں کرتا، صرف میں نے لاہور میں ان کی یاد میں ایک تقریب منعقد کی۔

مصیب قطر میں رہتے تھے اور برادرم محمد عتیق کے ساتھ مل کر انہوں نے فروغِ اردو ادب ایوارڈ جاری کیا جو ہر سال ایک ہندوستانی اور ایک پاکستانی ادیب کو ملتا تھا، بہرحال چائے یعنی ’’گرائپ واٹر‘‘ پینے کے دوران اچانک جون بھائی نے سلیم جعفری کو باآواز بلند مخاطب کرکے کہا ’’یہاں چائے گرم ہو رہی ہے، تھوڑی سی برف بھجوائو‘‘۔ (جاری ہے)