وہ ترکی جسے فرانس اور جرمنی مرد بیمار کہتا تھا آج اسکے ایک سیلوٹ سے خوفزدہ ہے -

یورپی ممالک کی فٹبال فیڈریشن یوفا کے زیر اہتمام 2020 میں یوفا کپ کے کوالیفائنگ راونڈرز کے لئے میچز جاری ہیں , ترک فٹبال ٹیم نے جب البانیا کی ٹیم کو ایک صفر سے ہرایا تو چند ترک کھلاڑیوں نے ترک فوج کا شمالی شام میں آپریشن کے حق میں اور اپنی فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے سیلوٹ کیا جس پر یوفا نے شدید احتجاج کیا.

تین دن بعد ترکی کا مقابلہ فرانس کے ساتھ پیرس میں ہوا اور میچ ایک ایک گول سے برابر رہا لیکن جب اس میچ میں ترک کھلاڑی جنک توسن نے گول کیا تو کپتان براق یلماز نے اپنے کھلاڑیوں محمود تکدمیر , مریح دیمرل اور اموت میراس کے ساتھ ملکر پھر سیلوٹ کیا , پیرس کے اسٹیڈئم میں موجود ہزاروں ترکوں نے کھڑے ہوکر پلیرز کے ساتھ سیلوٹ کیا جس پر فرانس اور جرمنی کے کچھ سیاستدانوں نے شدید احتجاج کیا ,وہ ترکی جسے فرانس اور جرمنی مرد بیمار کہتا تھا آج اسکے ایک سیلوٹ سے خوفزدہ ہے , قومیں ایمان , جوش , اتحاد , علم اور توکل سے منظم ہوتی ہے اور اپنی پہچان بناتی ہے , پھر جب انہیں ایک مرد میدان رہنما ملتا ہے تو انکا نام ہر جگہ گونجتا ہے , یہ ترکوں نے ایک ہزار سال پہلے بتا دیا تھا اور یہ دو دن پہلے پیرس میں ترکوں نے پھر بتا دیا ,