بابا فرید ؒکی سیاحت - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

سلسلہ نبوت ختم ہونے کے بعد خالق کائنات نے رشد و ہدایت کا سلسلہ بند نہیں کیا۔ آقا کریم سرور کونین ﷺ کے بعد صحابہ کرام ؓ پھر ہر دور میں اللہ تعالی کے برگذیدہ نفوس قدسیہ نے یہ ڈیوٹی دی۔ دنیا کے چپے چپے پر خدا کے پسندیدہ یہ بندگان خدا ہر دور میں جہالت، گمراہی، بت پرستی میں غرق انسانیت کو راہ ہدایت پر لانے میں اپنی اپنی ڈیوٹیاں احسن طریقے سے سر انجام دیتے رہے ہیں۔ دنیا جہاں سے علم اور روحانیت کے پیاسے اِن آستانوں پر آ کر اپنی روح دل و دماغ کو علم کے نور سے منور کر تے رہے ہیں۔

بابا فرید ؒ بھی نگر نگر پھرتے ہوئے چشت میں مشہور بزرگ حضرت ابویوسف چشتی ؒ کی روحانی درگاہ پر غلاموں کی طرح حاضر ہوتے ہیں۔ شب و روز عبادت، ریاضت، مراقبہ جات سے صاحب مزار سے روحانی فیض حاصل کرتے ہیں۔ حضرت ابویوسف چشتی ؒ کے مزار پرانوار پر دن رات دنیا جہاں سے آئے ہوئے بزرگوں کی محفلیں برپا رہتی تھیں۔ ایسی ہی ایک روحانی محفل میں ایک دن جوان بابا فریدؒ بھی شریک تھے۔ ایک بزرگ نے صاحب مجلس کے سامنے اپنا خواب رکھا اور اُس کی تعبیر بھی پوچھی۔ خواب یہ تھا کہ رات کو خواب میں میری موت ہو چکی ہے جس کی وجہ سے میری روح، دل و جان بہت اضطراب کا شکار ہیں۔ بہت پریشانی میں میری آنکھ کھلتی ہے۔ اب میں اُس وقت سے شدید پریشان ہوں کہ میرے اِس خواب کی تعبیر کیا ہے؟ صاحب مجلس نے خواب سن کر اچھی طرح خواب کی تعبیر کی، لیکن خواب سنانے والا مطمئن نہ ہو سکا۔

جوان فرید ؒ ادب سے اٹھے اور بولے جناب آپ حضرات کی موجودگی میں میری اوقات نہیں، لیکن اگر آپ لوگ اجازت دیں تو اِس خواب کے بارے میں کچھ عرض کروں۔ سب بولے علم کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہے، یہ تو خدا کا نور ہے جو کسی کے باطن کے اندھیرے دور کر کے اجالوں میں بدل سکتا ہے، اگر تم اِس خواب کو سمجھ سکتے ہو تو بالکل بتائو۔ جوان بابا فریدؒ شیریں دھیمے لہجے میں بولے، خواب میں جو موت دکھائی گئی ہے وہ حقیقی موت نہیں ہے، بلکہ اِس کی وجہ میری کمزور رائے میں کچھ اور ہے۔ میری رائے میں اِس موت کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی فجر کی نماز قضاہو گئی ہے جس کی وجہ سے خواب میں آپ کو اپنی موت نظر آتی ہے۔ بابا فرید ؒ کی اِس شاندار بات پر مجلس پر سکوت طاری تھا، اب سب کی نظریں اُس بزرگ کی طرف تھیں جس نے خواب دیکھا تھا۔ جیسے ہی بابا فرید ؒنے اپنی بات مکمل کی تو وہ بزرگ بو لے نوجوان تمہاری تعبیر بلکل درست ہے، یہ سچ ہے کہ میں صبح نماز کے لیے نہ اُٹھ سکا تو مجھے خواب میں میری موت دکھائی دی۔ موت کے خوف سے جب میں اٹھا تو واقعی نماز فجر قضا ہو چکی تھی اور سورج طلوع ہو چکا تھا۔ جب بزرگ نے اپنی کمزوری کاعتراف کر لیا تو بابا فرید ؒ بولے کسی مسلمان کے لیے نماز کا قضا ہو جانا موت کے برابر ہو تا ہے۔ میری رائے میں یہی آپ کے خواب کی تعبیر بنتی ہے۔ نوجوان فرید کی علمی وسعت پر حاضرین مجلس عقیدت و احترام کی نظروں سے بابا فریدؒ کو دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ آنے والے وقتوں کا خورشید معرفت یہی ہوگا جس کی تابناک نورانی شعائوں سے لاکھوں لوگ روشن ہوں گے۔

یہاں پر روحانیت اور علم کے موتی سمیٹنے کے بعد جوان فرید ؒ دمشق کی طرف روانہ ہوتے ہیں جو اُس دور میں اولیا اللہ اور اہل علم و دانش کا مرکز تھا۔ یہاں پر آپ ؒ کا زیادہ وقت حضرت شہاب الدین زندوسی ؒ کی صحبت میں گزرتا تھا جن کی مجلس میں علم و معرفت کا آبشار ہر وقت ابلتا رہتا تھا، اور جوان فرید ؒ اپنی روحانی علمی پیاس خوب بجھاتے تھے۔ کئی دن راتیں گزارنے کے بعد اب شام کی طرف روانہ ہو تے ہیں، اور وہاں بھی بہت سارے اولیاء کرام کی صحبتوں سے فیض اٹھایا۔ پھر بابا فریدؒ کرہ ارضی کی مقدس جگہوں میں سے ایک جگہ بیت المقدس تشریف لاتے ہیں، جہاں پر بےشمار انبیاء کرام اور اولیاء اللہ کا قیام رہا ہے۔ معتبر تذکرہ نویسوں کے مطابق عبادت ریاضت کے شاہسوار جوان فریدؒ نے یہاں پر بھی چلہ کاٹا۔ یہ جگہ آج بھی زائرین کے لیے خاص کشش رکھتی ہے۔ اِس جگہ کو زاویہ فرید الدین ہندی ؒ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہاں پر آج کل ایک عمارت تعمیر کر دی گئی ہے جو کئی کمروں پر مشتمل ہے۔ سلسلہ چشتیہ اور باقی روحانی سالکین آج بھی اِس جگہ پر جا کر قیام کرنا بہت بڑی سعادت سمجھتے ہیں کیونکہ یہاں پر اولیاء کرام کی تاریخ کے بہت بڑے بزرگوں نے عشق الٰہی کے لیے عبادت و ریاضت اور مجاہدے کیے۔

بابا فریدؒ کی دنیاگردی و سیاحت کا جب ہم مطالعہ کر تے ہیں تو کوچہ تصوف کے عظیم درویش صوفی حضرت شیخ فرید الدین عطارؒ کے ساتھ ملاقات اور قیام کا بھی تذکرہ ملتا ہے جنھوں نے روحانی طالبین اور علمی پیاسوں کے لیے باقاعدہ ایک خانقاہ تعمیر کی ہوئی تھی، جہاں پر دنیا جہاں کے روحانی طالبین اپنی پیاس بجھاتے اور ریاضت کے لیے آتے اور قیام کر تے۔ جوان فرید ؒ جب فرید الدین عطار ؒ کے پاس آئے تو آپ ؒ کی محبت عقیدت میں حضرت فرید الدین عطار ؒ پکار اٹھے، دنیا دارو! دیکھو میرا پیارا فرید ہندی ؒ آرہا ہے۔ فرید الدین عطار ؒ کا شمار بھی گلشن تصوف کے عظیم ترین صوفیا میں ہوتا ہے۔ انھوں نے جوان فرید کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ علم و معرفت کے مو تیوں سے بابا فرید ؒ کی جھولی کو بھر دیا۔ یہاں پر بھی کئی دن قیام کے بعد بابا فرید ؒ آگے بڑھ جاتے ہیں۔

واپس جاتے ہوئے بغداد میں حضرت شیخ سیف الدین فردوسیہ ؒ کی صحبت سے خوب فیض یاب ہوئے۔ حضرت شیخ سیف الدین فردوسیہ ؒ کا دستر خوان بہت وسیع تھا۔انہوں نے بابا فریدؒ کی خوب خدمت اور علمی پیاس بجھائی۔ ساتھ میں سیاہ رنگ کا خرقہ بھی عطا کیا۔ یہاں بابا فرید ؒ نے ایک بات خاص طور پر نوٹ کی کہ یہاں کا لنگر بہت وسیع تھا جہاں دن رات ہزاروں بھوکے اپنی بھوک پیاس کو آکر بجھاتے۔ اب جوان فرید ؒ کو شدت سے اپنی ماں کی یاد ستا رہی تھی۔ ماں سے ملنے کی تڑپ بہت زیادہ بڑھ گئی تھی۔ ماں سے جدائی کو اب کئی سال گزر چکے تھے۔ اب بار بار ماں کا چہرہ اور شفقت بھری ادائیں یاد آرہی تھیں۔ بابا فرید ؒ کو ہزاروں چہروں میں صرف اپنی ماں کا روشن چہرہ ہی نظر نہیں آتا تھا۔ اِس لئے اب ماں کے قدموں سے لپٹنے کے لیے بابافریدؒ نے ماں کے پاس جانے کا فیصلہ کیا اور وطن واپسی شروع کر دی۔ طویل مسافت کے بعد جب گھر تشریف لائے، ماں کا مقدس چہرہ دیکھا تو بے قرار ہو کر دوڑ کر ماں کے قدموں سے لپٹ گئے۔ شدت جذبات سے پائوں کو بار بار چومتے اور روتے جاتے۔ ماں میں بہت اداس ہو گیا تھا مادر گرامی بھی بیٹے کے ہجر میں بے حال تھیں۔ بیٹے کو بانہوں میں بھر کر لگا پیاسے کو سمند ر مل گیا ہے۔ ماں بیٹا کتنی دیر شدت جذبات سے ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔ ماں بھی تو وہ عظیم ماں تھی جس نے اپنے خاوند کی جدائی کے بعد ماں باپ بن کر فرید ؒ کو پالا تعلیم دلائی، حج کرایا۔ چند دن سکوں سے گزر گئے تو ایک دن بابافرید ؒ ماں سے بولے اماں جان مرشدکریم ؒ کے حکم پر میں دنیا جہاں کے بزرگوں اور اہل علم سے مل کر دنیاوی روحانی علم حاصل کر آیا ہوں، لیکن ابھی تک تشنگی دور نہیں ہوئی۔ من کی اداسی اضطراب ویسے کا ویسا ہے۔ یہ بےقراری اب مرشد کے قدموں حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒسے ملنے کے بعد ہی ختم ہوگی تو ماں کہتی ہے، جاؤ بیٹا اپنے مرشد کے پاس اور جا کر اپنے من کی پیاس اور اندھیرے دور کرو، میری دعائیں تمھارے ساتھ ہیں۔