بوٹے مراثی دا پرنہ - خالد ایم خان

ہمارے پنجاب کا خوبصورت کلچر ہے،گاؤں دیہاتوں میں کبھی کبھار چھوٹی بڑی وارداتیں ہو جایا کرتی تھیں۔ کسی گاؤں میں جب کوئی واردات ہوجاتی تو علاقے کا تھانے دار (جسے اُس کی پوری عمل داری جس میں وہ تعینات ہوتا ہے چوہدری صاحب ہی کے نام سے پکارا جاتا تھا) کی کسی بھی دیہات میں آمد پر گاؤں والوں کی طرف سے بڑی عزت دی جاتی تھی اور بڑی آؤ بھگت کی جاتی تھی، اور یہ پورے گاؤں کے لوگ اپنے گاؤں کے سب سے بڑے زمیندار کی حویلی کی بیٹھک میں جمع ہو جاتے تھے،

جہاں ایک بڑے منجے پر چوہدری صاحب کو بٹھا کر کھانا پینا اور دودھ لسی پیش کی جاتی تھی۔ اسی طرح کے ایک دیہات میں ایک چھوٹی موٹی واردات ہو گئی اور گاؤں میں چوہدری صاحب کی آمد بھی ہوئی، چوہدری صاحب ایک منجے پر براجمان ہوئے تو گاؤں کا بوٹا مراثی بھی بھاگ کر چوہدری صاحب کے پاؤں کی طرف زمین پر بیٹھ گیا، بات چیت زوروں پر تھی کہ اچانک تھانے دار کو زوردار چھینک آئی اور اُن کی ناک سے پانی بہہ گیا ، چوہدری صاحب نے بے اختیار ادھر اُدھر نگاہ دوڑائی تو اُنہیں پاؤں کی جانب زمیں پر بیٹھا بوٹا مراثی اور اُس کے کندھے پر پڑا پرنہ (رومال) دکھائی دیا، آؤ دیکھا نہ تاؤ، چوہدری صاحب نے بوٹے مراثی کا پرنہ کھینچ کر سب سے پہلے اپنا ناک صاف کیا، اُس کے بعد زکام زوروں پر تھا، چوہدری صاحب نے بوٹے مراثی کا پرنہ اپنے سامنے رکھ لیا، بات چیت بھی ہوتی رہی، معاملات بھی بہتری کی جانب گامزن ہوئے اور بوٹے کا پرنہ بھی تین چار مرتبہ چوہدری صاحب کے لیے تسکین کا باعث بنا۔ معاملات حل ہونے کے بعد چوہدری صاحب پیا گئے رنگون کی طرح اپنے دیس پدھارے۔گاؤں کے لوگ بھی تتر بتر ہوئے تو بوٹے مراثی نے جھاڑ کر اپنا پرنہ (رومال) بڑی نخوت کے ساتھ اپنے کندھے پر رکھا، اور مست گانا گاتے گاتے اپنے گھر کی جانب روانہ ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر : بھارت اب پاکستان پر دعویٰ کرنے والا ہے- میر افسر امان

دوسرے دن صبح بوٹا مراثی نہائے دھوئے، سر پر تیل لگائے، اُجلی قمیض اور بہترین دھوتی پہنے اپنے گاؤں کے واحد بازار میں ''نوری نتھ'' کے سے انداز میں چلتا ہوا دکھائی دیا۔گاؤں کے لوگوں میں سے چند نے ''واہ جی بوٹے کوئی جوڑ نہیں تیری ٹور دا'' اور گاؤں کے چند منچلوں میں سے کچھ نے بوٹے مراثی سے پوچھا بھی کہ بوٹے ''کی ہویا ہے .آج تینوں کیوں لشکاریاں مارن ڈیاں ہیں'' تو بوٹا مراثی انتہائی نخوت کے ساتھ اپنے پرنے (رومال) کو جھٹکتے ہوئے ''اوئے تُساں دیکھیا نہیں کہ رات نوں چودھری صاحب نے پرنہ کیدا چُکیا ہویا سی''۔ یہ تو ایک بوٹے کی کہانی ہے یہاں تو ہر گھر میں ایک بوٹا موجود ہے، آپ غور تو کریں، آپ کے دفتروں میں، آپ کے آفس میں آپ کے اپنے یاروں دوستوں میں بھی کہیں نہ کہیں ایک عدد بوٹا ذرور پایا جاتا ہوگا، بس پہچاننے کی نظر ہونی چاہیے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کا پہلا الیکشن تھا۔ جناب مولانا فضل الرحمن اُن کے خلاف الیکشن لڑ رہے تھے۔ کراچی کے علاقہ شیر شاہ کے ساتھ میراں ناکہ کے ایک جلسہ میں جناب مولانا صاحب جوش خطابت میں محترمہ کے خلاف فتوی جاری کر بیٹھے اور ببانگ دہل پورے مجمع اور میڈیا کے سامنے قرآن اور حدیث کی روشنی میں اعلان کردیا کہ اسلام میں عورت کی حکومت جائز نہیں ہے اور یہ اعلان اُس کے بعد مولانا صاحب نے پورے پاکستان کی کئی کارنر میٹنگوں اور جلسوں میں کیا۔

الیکشن محترمہ جیت گئیں، یا یوں سمجھیں کہ چوہدری صاحب جیت گئے اور مولانا ''جدوں ہولی جئی لیندا میرا ناں'' کے مصداق اپنے پرنے کو جھاڑتے ہوئے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بنے تو مجھے حیرانگی ہوئی کیوں کہ مولانا مُفتی محمود پاکستان کے ایک جید عالم دین مانے جاتے تھے اور مولانا فضل الرحمن صاحب اُن کے فرزند، یقین جانیں ہمیں ہضم نہیں ہو رہا تھا کہ پورے پاکستان کے سامنے عورت کی حکمرانی کو ناجائز کہنے والا اُسی عورت کے گُھٹنوں میں کیسے جا بیٹھا؟ اگر یہ سیاست ہے تو اس میں قرآن اور حدیث کا استعمال کیوں؟ مولانا صاحب ایک اچھے عالم دین تو سرے سے کبھی بھی نہیں تھے، لیکن شاید ایک اچھے سیاست دان بھی کبھی نہیں بن پائیں گے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو (مرحومہ) ہوں یا زرداری صاحب، جنرل مشر ف صاحب ہوں یا نواز شریف صاحب، مولانا صاحب نے 30 سالوں میں اپنے پرنے کا اپیوگ بڑے بہترین انداز میں کیا، تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ہمیں یاد ہے ذرا ذرا۔ مولانا صاحب اپنی ڈوبتی کشتی بچانے کی کوشش میں پاکستان کے مدارس کے معصوم بچوں کو ساتھ لیے اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر باہر نکل آئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ مولانا کے ایجنڈے میں کون کون شامل ہے، اور کون نہیں؟ کیونکہ ملکی عسکری قیادت کو وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ساتھ کھڑا دیکھ کر پاکستان کے تمام سیاست دانوں کا پتہ پانی ہوگیا ہے اورسیاست دانوں کاکوئی ایک لیڈر بھی اپنی گردن پھنسوانے کے لیے اس حد تک آگے نہیں آئے گا۔