جماعت اسلامی کا تربیتی نظام، ایک ورکشاپ کا احوال - میر افسر امان

اس دفعہ مرکزی تربیت گاہ لاہور کے لیے جماعت اسلامی ضلع اسلام آباد اور کراچی ضلع غربی کے کارکنان کا انتخاب کیا گیا تھا۔ مرکزی تربیت گاہ کے ناظم جناب حافظ سیف الرحمان صاحب نے تربیت گاہ کے لیے جامع مسجد منصورہ میں بہترین انتظام کیا ہوا تھا ۔ تربیت کے لیے آنے والے کارکنوں میں تقسیم کیے گئے نظام اوقات کے مطابق سارے مقررین وقت پر تشریف لائے اور اپنے اپنے مضامین کے ساتھ مکمل انصاف کیا۔ کارکنوں نے بھی مکمل یک سوئی کے ساتھ سارے پروگرام سنے اور دل لگا کر تربیت حاصل کی۔ رہائش اور کھانے کا انتظام بھی مناسب تھا۔ منصورہ کی جامع مسجد میں ہر فجر کی نماز کے بعد روزانہ تھوڑی دیر کے لیے مولا ناعبدالمالک صاحب شیخ الحدیث کا درس حدیث ہوتا رہا۔ پروگرام سے پہلے ایک دن لطف الرحمان صاحب اور ایک دن حافظ سیف الرحمان صاحب نے اجتماعی طور پر مسنوں دعائیں یاد کرائیں۔ جماعت اسلامی ضلع اسلام آباد کے امیر نصراللہ رندھاوا صاحب اور سیکرٹری زبیر صفدر صاحب نے پورے پروگرام میں بڑی ہمت سے صدارتی فرائض انجام دیے۔

تربیتی پروگرام کے نظام الاوقات کے مطابق کارروائی ۴؍ اکتوبر ساڑھے آٹھ بجے تلاوت قرآن پاک سے شروع ہوئی۔ اس کے بعد کراچی کے ایک کارکن محمد منیر صاحب نے انگریزی زبان میں we are the muslim umma ترانہ سنا کر حاضرین کے دل گرمائے۔ افتتاحی کلمات کے لیے امیر جماعت اسلامی ضلع اسلام آباد جناب نصراللہ رندھاوا صاحب کو اسٹیج پر بلایا گیا۔ آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ہم اللہ کی رضا کے لیے ایک لمبا سفر طے کر کے لاہور جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں تین دن کے لیے تربیت حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنے وقت کا صحیح ترین استعمال کرتے ہوئے اس تربیت گاہ سے فائدہ اُٹھائیں۔ وقفوں کے دوران وقت نکال کر مرکزی رہنماؤں سے تعارف حاصل کریں۔ یہ تربیتی پروگرام ہماری دینی دنیوی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ اس تربیتی پروگرام سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر کے واپس میدان عمل میں اُتر کر اللہ کے دین کو قائم کرنے میں مصروف عمل ہو جائیں۔

اسلام آباد اور کراچی کے کارکن ایک دن پہلے ،یعنی۳ ؍اکتوبر کو رات گئے اس تربیت گاہ لاہور منصورہ پہنچ گئے تھے۔ ۴ ؍اکتوبر رجسٹریشن کے بعد صبح ۸ بج کر ۳۰ منٹ پر پہلا پروگرام درس قرآن بعنوان ’’میر راستہ اللہ کا راستہ، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں‘‘ تھا۔ جناب ڈاکٹر اشتیاق گوندل صاحب کے ایمان افروز کلمات سے شروع ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر غور سے دیکھا جائے قرآن میں اُردو زبان کے کافی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس لیے قرآن سمجھنا آسان ہے۔ یہ قرآن صرف مسلمانوں کے لیے نہیں اُترا ۔ قرآن سارے انسانوں، جس میں عیسائی، یہودی، ہندو اور سکھ بلکہ سارے انسانوں کے لیے بھی اُترا ہے۔ اس لیے کہ اللہ سارے انسانوں کا رب ہے صرف مسلمانوں کا رب نہیں۔ اس طرح رسولؐ اللہ سارے انسانوں کے پیغمبر ؐ ہیں صرف مسلمانوں کے نہیں۔ قرآن میں جب لفظ ’’ قل‘‘ آیا ہے، یعنی جب اللہ اپنے پیغمبرؐ سے کہے کہ قل یعنی کہو، تو ہمیں بھی سب سے پہلے پیارے پیغمبر صلی اللہ وسلم کی طرف متوجع ہونا چاہیے۔اس لیے کہ آپؐ اللہ کے پیغمبرؐ ہیں، یعنی پیغام پہنچانے والے ہیں۔ اس لیے پیغمبر ؐ پر ایمان لانا ضروری ہے۔ بقول شاعر اسلام علامہ محمد اقبال:


نگاہ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر

وہی قرآں وہی فرقاں وہی یسیں وہی طہٰ


انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ جو رسولؐ دے وہ لے لو۔ جس چیز سے روکے رک جاؤ۔ دوسری بات، کیوں کہ اللہ کے دین کو قائم کرنے والے سارے مسلمان ہیں اس لیے ہمارے دلوں میں ان کے لیے وسعت ہونی چاہیے۔ خاص کر جماعت اسلامی کے کارکنوں کے دلوں میں وسعت زیادہ ہونی چاہیے۔ ویسے بھی انسان کے اخلاق اچھے ہونے چاہییں۔ رسولؐ اللہ مکارم اخلاق کے لیے اُٹھائے گئے ہیں، اس لیے جن کے اخلاق اچھے ہیں وہ ہی رسولؐ اللہ کے قریب تر ہیں۔ حقوق العباد سب پہلے ہیں۔ رسولؐ اللہ نے کافروں کے سامنے پہلے اخلاق پیش کیے تھے۔ اسی لیے کافر آپ کو صادق و امین کہتے تھے۔ آپ نے جب اللہ کے حکم سے اللہ کے دین کو پھیلانے کے اعلان عام کیا تو کوہ صفا پہاڑ پر چڑھ کر کافروں کو پکارا ’’یا صبا حایا صباحا‘‘ صبح کا خطرہ صبح کا خطرہ۔ رسولؐ اللہ نے قریش کے لوگوں سے کہا کہ میں اگر میں تم سے کہوں کی پہاڑ کی دوسری طرف خطرہ ہے تو مانو گے۔ سب نے یک زبان ہو کر کہا ہم مانیں گے، کیونکہ آپ صادق اور امین ہیں۔ یعنی سچ بولنے والے ہیں۔ جب رسولؐ اللہ نے کہہا کہ سنو، اللہ ایک ہے، میں اللہ کا پیغمبرؐ ہوں، تو وہ فوراً پلٹ گئے اور آپ ؐ کو برا بھلا کہنے لگے۔گوندل صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ کی طرف بلانے والے کچھ لوگوں نے ایک چیز عام کر دی ہے کہ دین پر چلنا مشکل کام ہے۔ جبکہ اللہ قرآن میں کہتا ہے کہ دین پر عمل کرنا میں نے آسان بنایا ہے۔ رسولؐ اللہ نے بھی یہی تعلیم دی کہ دین کا کام کرنا بہت آسان ہے۔ خاص کرجب لوگ اجتماعی طور پر کام کریں تو اللہ آسانیاں پیدا کر دیتا ہے۔ پھر دین کا کام کرنے والے کچھ حضرات یہ بات بھی عام کرتے رہتے ہیں کہ اسلام میں دولت کمانا ناپسندیدہ کام ہے۔ بکری کے مرے ہوئے بچے کی مثالیں غلط انداز میں بیان کر کے عام آدمی کا ذہن ایسا بنا دیتے ہیں کہ لوگ اس کو ناپسندیدہ ہی سمجھنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ اللہ جن عشرہ مبشرہ صحابہؓ سے راضی ہوا، ان میں چھ مالدار تھے۔ اس لیے مسلمانوں کو دولت مند ہونا چاہیے تاکہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کر سکیں۔ کیا دنیا کی ساری آسائشیں اور دولت صرف کافروں کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ کیا علامہ اقبالؒ نے قرآن کی تفسیر بیان کرتے ہوئے عام مسلمانوں کو سمجھانے کے لیے شکوہ جواب شکوہ میں نہیں کہا تھا:


قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصور

اور بیچارے مسلماں کوفقط وعدہ حور


پہلے دن کادوسرا پروگرام ’’سوشل میڈیا کا موثر استعمال اور توازن‘‘ تھا۔ اس کے لیے سید وقاص جعفری صاحب کو بلایا گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ قرآن میں لفظ ’’بیان ‘‘سے مراد کسی چیز کا ابلاغ کرنا ہے۔ یعنی بیان کرنا ہے۔ چائے وہ چیز صحیح ہو یا غلط۔ ابلاغ کے ذریعے ہی سے انسانوں کی تذکیر کی جاتی ہے۔ اب تو ابلاغ کی بے انتہا ترقی ہوگئی ہے ۔ ایسے ایسے ذرائع ایجاد ہوگئے ہیں کہ آپ کچھ بھی کہیں تو ساری دنیا ایک سیکنڈ میں آپ کی بات سن سکتی ہے۔ چاہے وہ بات صحیح ہے یا غلط۔ جب نیا نیا لاؤڈ اسپیکر ایجاد ہوا تو علماء نے اسے حرام قرار دے دیا تھا۔ مگرمولانا موددیؒ نے کہا تھا کہ آپ لاؤڈ اسپیکر کی بات کرتے ہیں، کوئی ایسا آلہ ایجاد ہو، کہ اس کے ذریعے میری بات پوری دنیا سنے میں اسے بھی حلال قرار دیتا ہوں۔ چاقو کا کیا قصو رہے۔ ڈاکو اس سے قتل کرتا ہے اور ڈاکٹر اس سے عمل جراحی کرتا ہے۔ ابلاغ کی افادیت نیایت ضروری ہے۔ نئی نئی ایجادات نے دنیا کا رخ بدل دیا ہے۔ ہمیں بھی ابلاغ کے ان ذرائع کو استعمال کر کے قرآن کے پیغام کواچھی طرح عوام میں پھیلاناچاہیے۔ ان ذرائع کو استعمال کر کے ہم اللہ کے پیغام کو اللہ کے بندوں تک آسانی اور جلد از جلد پہنچا سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا بھی ابلاغ کی ایک قسم ہے اسے زیادہ سے زیادہ استعمال کر نا چاہیے۔

ایک سروے کے مطابق دنیا کی سات ارب آبادی میں سے سوا تین ارب لوگ اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں۔ ہر نئی آنی والی ٹیکنالوجی پہلے سے موجود ٹیکنالوجی کو مات کر دیتی ہے۔ اسمارٹ فون کے ذریعے آپ پوری دنیا کی باتیں سمجھ سکتے ہیں۔ لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ آپ گھر بیٹھے بیٹھے ضرورت کی ہر شے ای مارکیٹنگ کے استعمال سے خرید سکتے ہیں۔ فیس بک، ٹیوٹر، وٹس ایپ تقریباً ۶۰ سے ۶۵؍ ایجادات سے دنیا فائدہ اُٹھا رہی ہے۔ پاکستان کے تین کروڑ سے زائد لوگ فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز نے اپنی اپنی سلطنتیں قائم کر رکھی ہیں۔ مشہور مقرر عطا اللہ شاہ بخاری صاحب عشاء کے وقت تقریر شروع کرتے تھے تو فجر تک جاری رہتی تھی۔ اب لوگوں کے لیے اتنی آسانی پیدا ہو گئی ہے کہ کسی مقرر کی تقریر سننے کے لیے ساری رات جاگنا نہیں پڑتا بلکہ کسی بھی وقت، کہیں بھی ،کسی کی بھی تقریر آپ یوٹیوپ پرگھر بیٹھے بیٹھے سن سکتے ہیں۔ اگر ہمیں میڈیا کی افادیت سمجھنا ہے تومشہور دو کیسوں پر غور کریں۔ پہلے کیس میں بااثر لوگوں نے مجرم شاہ زیب کو بچانے کی بہت کوشش کی، مگر سوشل میڈیا پر جاری مہم نے اسے سزا دلائی۔ اسی طرح ایک سابق صدر کے داماد عرفان اللہ مروت، سندھ میں نون لیگ چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہونا چاہتے تھے۔ مگر مرحومہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی صاحب زادیوں نے اسے پسند نہیں کیا اور سوشل میڈیا پر مہم چلا کر اسے روک دیا۔ یہ صحیح ہے کہ سوشل میڈیا میں برائی بھی اور اچھائی بھی ہے۔ ہمیں سوشل میڈیا کی اچھائی اپنا کر فائدہ حاصل کرنے چاہیے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا نے انسان کی معلومات میں اضافہ تو کیا مگر انسان کو نقصان بھی پہنچایا۔ سوشل میڈیا نے لوگوں کو ننگا کر دیا۔ ہمیں سوشل میڈیا کی اچھائی کو استعمال کر کے دنیا میں اسلام کا پیغام پہنچانا ہے۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ کہتے تھے کہ قرآن اور سنت کی دعوت کو لے کر اُٹھو اور پوری دنیا پر چھاجائو۔ ہمارے پاس سید موددیؒ کے اس پیغام کو پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کا ٹول موجود ہے۔ اس سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔

پہلے دن کا تیسرا پروگرام’’ اسلامی تحریکات اور عصر حاضر‘‘ جناب عبدالغفارعزیز کا تھا۔ انہوں بات شروع کرنے سے پہلے شرکاء پروگرام سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ دور دراز سے محنت کر جہاں تشریف لائے ہیں، اللہ آپ کی محنت قبول فرمائے اور ہماری قسمت بدل دے۔ اللہ تو فرد کے رائی برابر نیک کام کو بھی بہت پسند کرتا ہے۔ عبدالغفار عزیز صاحب کے آنے سے قبل راقم کو (صدی کا بیٹا سید ابو الاعلی مودودیؒ) مضمون پڑھنے کا موقع دیا گیا۔ بعد میں عبدالغفار عزیز صاحب نے بھی اپنی تقریر صدی کا بیٹا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ ہی سے شروع کی۔ انہوں نے بتایا کہ مودودیؒ ۱۹۰۳ء میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۴۱ء میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔ حسن البناؒ نے اس سے قبل مصر میں اللہ کے دین کو اللہ کی زمین پر قائم کرنے کا کام شروع کر دیا تھا۔ اللہ کے اس نیک بندے کو اللہ کے باغیوں نے شہید کر دیا۔ حسن البناؒ مؤذنوں کو فجر کے وقت منادی کر کے جگایا کرتا تھا۔ حسن البناؒ نے فحاشی کے خلاف کام کیا۔ فحاشی پھیلانے والوں کے نام خطوط لکھا کرتا تھا۔ ۱۹۰۶ء میں پیدا ہوا۔ ۲۳ سال کی عمر میں صرف چھ افراد کے ساتھ مل کر کام کا آغاز کیا۔ ان چھ افراد نے حسن البناؒ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ تنظیم کے نام پر مشاورت ہوئی تو اس تنظیم کا نام اخوان المسلمون رکھا گیا۔ سارے عالم عرب کے لوگ حسن البناؒ اور سید ابوالاعلی مودودیؒ کو اپنا دینی و سیاسی رہبر مانتے ہیں۔ ان دونوں رہنماؤں نے حق کو حق اور باطل کو باطل ثابت کر کے دنیا کے سامنے رکھا۔ فروری ۱۹۴۹ء کو مصر میں حسن البناؒ کو ظالموں نے شہید کر دیا۔اس کے بعد پوری اخوان المسلمون کو مصر کی جیلوں میں قید کر دیا گیا۔ حسن البناؒ کے جنازے میں شرکت سے لوگوں کو روک دیا گیا۔ گھر کے صرف چار افراد جنازے میں شریک ہو سکے۔ اُس وقت سید قطبؒ امریکا میں مقیم تھے۔ ان کے کان کھڑے ہوئے بلکہ اس واقعہ نے انھیں مفسر قرآن میں بدل دیا۔ سید قطبؒ نے فی ظلال القرآن کے نام سے مشہور و معروف قرآن کی تفسیر لکھی۔

عبدالغفار عزیز صاحب نے بتایا کہ ایک لمحہ بھی مصر، مراکش اور تیونس میں نہیں گزرا ہوگا کہ اخوان المسلمون فرعونوں کے عتاب میں نہ رہی ہو۔ اخوان کا ہر کارکن ۲۰۔ ۲۰ سال قید کی صعبتوں سے گزرا ہے۔ حبیب ابو رقیبا اور زین العابدین نے اخوان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔ مگر یہ لوگ پہاڑوں کی طرح باطل کے سامنے ڈٹے رہے۔ ان فرعونوں کو اسلامی شعار سے نفرت تھی۔ مگر اللہ کا کرنا کہ جب زین العابدین فوت ہوا تو ایک تو اس کے جنازے میں صرف چالیس لوگ شریک تھے اور یہ سارے کے سارے باریش تھے۔ جن داڑھی والوں کو وہ ختم کرنا چاہتا تھا وہ زندہ جاوید اس کے جنازے میں شریک تھے۔ آج تیونس اسلامی نظام زندگی کے رائج کرنے میں تمام اسلامی ملکوں سے آگے آگے ہے۔ جہاں تک مصر کی بات ہے تو اب بھی ۷۰ ہزار اخوان جیلوں میں قید ہیں۔ سابق منتخب صدر مرسی اعلی تعلیم یافتہ تھا۔ اس کے ساتھی بھی اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ یہ لوگ فجر کی نماز کی آواز سن کر فوراً مسجد باجماعت نماز ادا کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ وقت کے فرعون سیسی نے ان اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کو، اور ان کے لیڈر جو جمہوری طریقے سے منتخب ہوئے، سابق صدرمرسی کو ناکردہ گناہوں کی پاداش میں چھ سال سے لوہے کے ایک پنجرے میں بند کر کے قید تنہائی میں رکھا۔ فرعونی عدالت میں آخری پیشی پر کمرہ عدالت میں بیان دیتے ہوئے، جج کو مخاطب کرتے ہوئے، مرسی نے کہا کہ جج صاحب حکمرانوں نے مجھے ختم کرنے کے لیے چھ سال سے ایک لوہے کے پنجرے میں قید تنہائی میں بند رکھا ہوا ہے۔ اور عدالت میں اس بیان کے بعد گر کر جان دے دی۔

مرسی ؒاور سید قطب ؒکو اللہ نے پہاڑ جتنا دل دیا تھا۔ عبدالغفارعزیز نے حاضرین سے پوچھا کہ کیا ہم ایسی شہادت کے لیے تیار ہیں؟ جب سیدقطب ؒکو پابند سلاسل رکھا ہوا تھا تو ان سے کہا گیا کہ صرف معذرت کی ایک سطر لکھ دیں۔ اسی طرح مرسیؒ سے بھی کہا گیا کہ آپ ایک سطر لکھ دیں تو آپ کو رہائی مل سکتی ہے۔ مگر مرسیؒ نے کہا کہ جب تک میرے ۷۰ ہزار ساتھیوں کو چھوڑ نہیں دو گے میں کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ اب اللہ کا کرنا کہ مصر میں محمد علی نام کا ایک گورنمنٹ ٹھیکیدار ہے۔ یہ شخص اربوں کا مالک بن گیا۔ اس شخص نے مصر میں ڈکٹیٹر سیسی کے خلاف کرپشن کی مہم، سوشل میڈیا پر چلائی ہوئی ہے۔ اس نے ظالم ڈکٹیٹر سیسی پر کرپشن کے الزامات لگائے ہیں۔ اس نے مصری عوام سے کہا کہ ڈکٹیٹر سیسی کرپٹ ہے۔ مصری عوام کے اربوں ڈالر ہڑپ کر چکا ہے۔ سیسی کے خلاف مصر کے عام لوگ اُٹھ گھڑے ہوئے ہیں۔ ۲ ہزار لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس ٹھیکیدار نے سوشل میڈیا کے ذریعے مصری عوام کو بتایا کہ ایک جرنل کے مکان کے سامنے ایک قطعہ زمین خالی پڑا ہوا ہے ۔ اس نے اپنی زمین کی قیمت بڑھانے کے لیے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میرے گھر کے سامنے خالی زمین پر ۵؍ اسٹار ہوٹل کی بنیاد ایک دن کے اندر اندر رکھو۔ محمد علی ٹھیکیدار نے کرپٹ اور ظالم مصری فوجیوں کے خلاف مہم چلائی ہوئی ہے۔ ان کو جب قربانیاں دینے والے لوگ نہیں مل رہے تو یہ اخوان المسلمین سے رابطہ کر رہے ہیں کہ وہ ہمارا ساتھ دیں۔ اپنی تقریر کے آخر میں عبدالغفار عزیز صاحب نے کہا کہ جب اللہ چاہے گا مصر میں مثبت تبدیلی آئے گی۔ اس کے بعد دوپہر کے کھانے اورنماز جمعہ کا وقفہ ہوا۔ اس کے بعد پروگرام میں سارے کارکنوں کو مختلف ٹولیوں میں بانٹ کر کئی گروپ بنا دیے گئے۔ ان گروپوں کو ڈسکشن کے لیے کہا گیا۔گروپوں نے اجتماعی مطالعہ کر کے دین کو قائم کرنے کے طریقوں پر سیر حاصل بحث کی۔

پہلے دن کے آخری پروگرام ’’حکومت الہیٰہ کا قیام‘‘ کے لیے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور سابق ناظم اعلی اسلامی جمعیت طلبہ، جناب راشد نسیم کو اسٹیج پر بلایا گیا۔ آپ نے سروے کی غرض سے حاضرین سے کہا کہ ۴۰ سال سے کم عمر کے لوگ ذرا کھڑے ہوجائیں۔ پھر آپ نے جماعت اسلامی کے تاسیسی اجلاس کو یاد کراتے ہوئے، تاسیس میں شامل لوگوں کی عمریں بتائیں۔ ۷۵ ؍لوگوں میں سے۶؍ لوگ ۴۰ سال سے زیادہ تھے، باقی کم۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ ۳۸ سال کے اور میاں محمد طفیل ۲۷ سال کے، اور باقی لوگ بھی نوجوان تھے۔ اب بھی ملت اسلامیہ کی آبادی کے پاس ۶۵ فیصد نوجوان ہیں۔ یہ اللہ کی خاص مہربانی ہے۔ انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ پہلے رسولؐ اللہ نے مدینے کے اندر اسلامی فلاحی جہادی ریاست قائم کی۔ پھر اس ریاست کو خلفائے رشدینؓ نے کامیابی سے چلا کر دنیا کو دکھایا۔ آج بھی یہ حکومتیں مسلمانوں کے لیے آئیڈیل حکومتیں ہیں۔ پھر بادشاہت آئی۔ آخر میں ۱۹۲۴ء میں عثمانی خلافت کو صلیبیوں نے پہلی جنگ عظیم کے بعد ختم کر کے ترکی میں ۱۰۰ سالہ معاہدے کے تحت قوم پرست کمال اتاترک کے ذریعے سیکولر حکومت قائم کی۔ راشد نسیم صاحب نے ایک حدیث پر روشنی ڈالتے ہوئے تفصیل بیان کی، کہ رسولؐاللہ نے فرمایا۔ پہلے مدینے کی اسلامی ریاست، پھرخلافت راشدین کا دور، پھر بادشاہت کادور، پھرجبر کا دور، جو اب گزر رہا ہے۔ اور آخر میں خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگی۔ اللہ تعالی نے یہ کام اپنے بندوں کے ذریعے ہی کرانا ہے۔ اس تشریح کے بعد راشد صاحب نے کہا کہ واقعہ یہ ہے کہ مسجدوں میں نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ان شاء اللہ یہ جوان ہی حکومت علی منہاج النبوۃ قائم کریں گے۔ پاکستان میں اسلام کی طرف عوا م کا رجوع بڑھ رہا ہے۔ عورتوں کے پردے کے متعلق ایک سروے کے حساب سے پاکستان میں ۵۰ فیصد عورتیں برقعہ اور ۴۰ فی صد چادر اُوڑھتی ہیں۔ صرف ۲ فیصد بغیر پردے کے ہیں۔ اللہ کے دین کو قائم کرنے میں مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ مصر میں منتخب صدر مرسی کو چھ سال ایک لوہے کے پنجرے میں بند رکھا گیا۔ کھانے کے لیے پنجرے کے نیچے سے ایک ہفتہ کے لیے سوکھی روٹیاں ڈال دی جاتی تھیں۔ ناکردہ گناہوں کی معافی کے لیے کہا جاتا تھا مگر مرسیؒ مجاہدنے معافی نہیں مانگی۔ مشرقی پاکستان میں پاکستان بچانے کے لیے جماعت اسلامی کے مرکزی رہنمائوں کو بھی معافی کے لیے کہا جاتا رہا مگر کسی نے بھی معافی نہیں مانگی اور تختہ دار پر چڑھ کر اسلاف کی یاد تازہ کر دی۔ مشرقی پاکستان جماعت اسلامی کے رہنمائوں پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا۔ مشرقی پاکستان میں شہید ہونے والوں نے، ظالموں سے کہا کہ پاکستان لا الہ الااللہ کے نام سے بنا ہے، ہم اسے مسجد سمجھتے ہیں۔ ہم نے مسجد بچانے کے لیے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا۔

سیاسی جماعتوں کے کردار کی بات کرتے ہوئے، راشد نسیم صاحب نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں اپنی اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔ مگر جماعت اسلامی سیاست صرف حکومت الہیٰہ قائم کرنے کے لیے کرتی ہے۔ اسی لیے جماعت اسلامی اپنے کارکنوں کے لیے ایسی تربیت گاہوں کا انتظام کرتی ہے کہ کارکن حکومت الہیٰہ قائم کرنے کی تیاری کریں۔ ان شاء اللہ پاکستان میں حکومت الہیٰہ قائم ہو گی اور ایسی تربیت گاہوں سے گزر کر جماعت اسلامی کے کارکن حکومت الہیٰہ قائم کریں گے۔ اس لیے ہمارے کارکنوں کو حضرت یوسف ؑ کی طرح بہترین پاک دامنی اور اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ بادشاہ جب لوگوں کو اپنا بندہ بناتے ہیں تو ان پر اللہ کا سایہ نہیں ہوتا۔ جن پر اللہ کا سایہ ہوگا، وہی حکومت الہیٰہ قائم کریں گے۔ خلفائے راشدین ؓکا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ خلیفہ اوّل حضرت ابو بکرؓ کی بیوی نے ایک دفعہ سویٹ ڈش بنا دی ۔ خلیفہ ؓنے پوچھا یہ کیسے بن گئی۔ بیوی نے کہا کہ میں تھوڑاتھوڑا آٹا بچا لیتی تھی۔ ایک دن راشن میں اس بچے ہوئے آٹے کی سویٹ ڈش بنائی ہے۔ خلیفہ ؓنے بیت المال کے انچارج سے کہا کہ بھائی ہمارے راشن میں اتنا آٹا فاضل آجاتا ہے، اسے کم کر دو۔ ہمارے دوسرے خلیفہ حضرت عمر ؓراتوں کومدینے کی گلیوں میں گھوم پھر کر اپنے عوام کی حالت کا جائزہ لیاکرتے تھے۔ جب ہمارے حکمرانوں کا رویہ ان جیسا ہو گا تو پھر اللہ کاسایہ ان حکمرانوں پر ہوگا۔ جماعت کے کارکنوں کو اس تربیت کے بعد اپنے اپنے علاقوں میں جاکر حکومت الہیٰہ قائم کرنے کی تیاری شروع کر دینی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   پہلے پولا کرو، پھر کھاؤ - سہیل وڑائچ

۵؍ اکتوبردوسرے دن کا پہلا پروگرام درس قرآن تھا۔ اس کا عنوان ’’رزق حلال کی اہمیت و فضیلت قرآن روشنی میں‘‘ اس پروگرام کے لیے پروفیسر قاری محمد عظمت صاحب کو زحمت دی گئی۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں فرمایا کہ اللہ سوائے اپنی ذات کے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے محفوظ رکھے۔ اللہ کہتاہے کہ میرے بندے مجھ سے مانگیں۔ انسان کہتا کہ اللہ میں صرف تیرا بندہ ہوں۔ اے اللہ مجھے اپنی غلامی میں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔ ایسے ہی ہم لوگ کشمیریوں کے ۷۰ سال سے دعائیں مانگ رہے ہیں، مگر ہماری دعائیں قبول نہیں ہو رہیں۔ ہم پھر بھی اللہ ہی سے دعا کرتے ہیں ۔اے اللہ کشمیریوں کی مددفرما، عراق، شام، روہنگیا، افغانستان، بوسینا، چیچنیا، جہاں جہاں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے ان کی مدد فرما۔ اللہ تیرے پیارے نبیؐ کا نام کو پکار پکار کر، اللہ تیرے سے مدد مانگ رہے ہیں، اللہ ہماری مدد فرما۔ اللہ قرآن کوہمارے دلوں کا نور بنا دے۔ ایسا قرآن پڑھنا سکھا دے، جیسے صحابہ کرام ؓ پڑھتے تھے۔ اللہ ایسا قرآن سننا نصیب فرمادے جیسے اس کے سننے کا حق ہے۔ قرآن کو ہمارے دلوں میں بسا دے جب ایسی حالت ہوگی تو قرآن انقلاب لائے گا اور ملک میں انقلاب آجائے گا۔ تمدن میں، معاشرت میں اور سیاست میں انقلاب آئے گا۔ یہ انقلاب جماعت اسلامی کے کارکنوں کے ہاتھوں آئے گا۔ ایک قاعدہ ہے کہ جو قرآن کو اُٹھاتا ہے قرآن اس کو اُٹھاتا ہے۔ جو قرآن کو گراتا ہے قرآن اس کو گرادیتا ہے۔ سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے فرمایا تھا کہ قرآن اور حدیث کو لے کر اُٹھو اور ساری دنیا پر چھا جائو۔ یاد رکھیں انقلاب صرف دعائوں سے نہیں آئے گا۔ اس لیے ہمیں جدوجہد کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا ہوگا۔ اللہ کے رسولؐ کا کام اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام پہنچانا اور اس پر عمل کرانا تھا۔ اسی طرح اللہ کے رسولؐ کی سنت پر عمل کر کے ہم اسلامی انقلاب لا سکتے ہیں۔ ہم کو کلمہ طیبہ کو عام کرناہوگا۔ کلمہ خبیثہ کوکو ختم کرنا ہوگا۔ قرآن کے حلال کیے کوعام کرنا ہوگا اور حرام کو ختم کرنا ہوگا۔ غیبت، رشوت، زیادتی، بدکاری، ساری برائیوں کو ختم کرنا ہوگا۔ محبت، اخوت، صلہ رحمی کو عام کرنا ہوگا۔ کرپشن کو ختم کرنا ہوگا۔ نیب کے سابق انچارج فصیح بخاری صاحب کے مطابق پاکستان میں روزانہ ۱۲؍ ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔ اب تو یقیناً اس سے زیادہ ہوتی ہوگی۔ ہم سب کو مل کر اس کرپشن کے ناسور کو ختم کرنا ہے۔ اس میں ایک دوسرے کی مدد کرنا ہوگی۔ک رپشن نے ملک کو کنگلا کر دیا ہے۔ جب کرپشن ختم ہو جائے گی تو پھر ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ پروفیسر قاری محمدعظمت صاحب نے فرمایا کہ سرکاری بیان کے مطاق ۲۰۰؍ ارب ڈالر اور سول ذرائع کے مطابق۳۷۵؍ارب ڈالر پاکستانیوں کے باہر ملکوں میں پڑے ہیں۔ اگر کوئی حکومت یہ روپے باہر سے پاکستان لے آئے تو ہمیں کسی سے قرض لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ کام صرف حلال روزی پر یقین رکھنے والے ہی لا سکتے ہیں۔اللہ ہمیں حلال روزی عطا فرمائے۔

دوسرے دن کا دوسراپروگرام، جناب مشاق احمد خان سینیٹر اور امیر جماعت اسلامی خیبر پختوخواہ کا تھا۔ بعنوان’’ سالار کارواں ہے میر حجاز اپنا‘‘ کے تحت انہیں اسٹیج پر تشریف لانے اور گفتگو شروع کرنے کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سراج منیر کہہ کر پکارا ہے۔ یعنی چمکنے والاسورج۔ جس کے ذکر کو اللہ بلند کرے اس کی کیا شان ہے۔ماننے والوں اور نہ ماننے والوں نے ان کے حق میں لکھاہے،لکھ جارہا ہے اور لکھا جاتا رہے گا۔ ہمارے لیے عشق کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنے پیغمبرؐ سے بے انتہا محبت کریں۔ مال ودنیا، ماں باپ، بچوں سے زیادہ محبت اپنے پیغمبرؐ کی محبت ہے۔ ایک صحابی ؓ سے معلوم کیا گیا کہ رسولؐ اللہ کیسے تھے۔ وہ کہنے لگا مجھے نہیں معلوم۔ استفسار پر بتایا کہ ہمیں رسولؐ اللہ کی طرف آنکھ بھر کے دیکھنے کہ ہمت ہی نہیں ہوتی تو کیا بتائیں کہ وہ کیسے تھے۔ ایک دفعہ باہر سے روم کا سفیر آیا اور رسولؐ اللہ کی محفل کا جائزہ لے کر واپس اپنے بادشاہ کے دربار میں گیا۔ روداد سناتے ہوئے گویا ہوا کہ رسولؐ اللہ کو ماننے والے اس کے سامنے دست بدستہ کھڑے رہتے ہیں۔ اس کی محفل میں اس کی باتیں خاموشی سے سنتے ہیں۔ وہ جو حکم دیتا ہے تو وہ دوڑ پڑتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے تم نہیں لڑ سکتے۔ لہٰذا آپ ا س سے لڑائی کا سوچو بھی نہیں۔ اللہ کے رسولؐ نے جہالت کے نظام کو یک سر ختم کر کے اللہ کا نظام قائم کیا۔ ہمارے نبی ؐپڑھ نہیں سکتے تھے مگر اپنی امت کو رسول ؐ اللہ نے علم اور معلومات کے خزانے دیے۔ یہ ان کا ہی اعزاز ہے۔ اس لیے امت مسلمہ کو پڑھا لکھا ہونا چاہیے۔ رسولؐ نے یہ تک کہا تھا کہ اگر علم حاصل کرنے کے چین یعنی دُور دراز، جانا پڑے تو جائو اور علم حاصل کرو۔ یہ امت محمدیؐکا اعزاز ہے۔ ہم داعی الی اللہ ہیں۔ ہم نے اللہ اور رسول ؐ کا پیغام اس دنیا میں عام کرنا اور اسے نافذ بھی کرنا ہے۔ وہ پرامن اسلامی انقلاب جس میں ۵۶ سریے اور ۲۶ غزوے ہوئے مگر ان لڑائیوں میں صرف سیکڑوں لوگ ہلاک ہوئے اور نظام قائم ہو گیا۔ جماعت اسلامی پاکستان میں کل ۳۵ ہزار مرد ارکان اور ۵ ہزار خواتین ارکان ہے جو اس عظیم کام کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہمیں اس تعداد کو بڑھانا ہوگا۔ سیرت کا اگر گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس جدوجہد میں عورتوں کا کافی رول ہے۔ اس لیے ہمیں خواتین میں کام کو بڑھانا ہوگا۔ شروع کی خواتین کا معاشرے میں نمایاں مقام تھا۔ ام المومنین حضرت خدیجہ ؓتجارت کرتی تھیں۔ ان کا امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار تھا۔ ام لمومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ شاعرہ، عالمہ اور طبیبہ تھیں۔ انہوں نے کئی حدیثیں بھی بیان کی ہیں۔ اس لیے ہمیں بھی عورتوں کو معاشرے میں اعلیٰ مقام دینا ہوگا۔ جب عورتیں مردوں کے کام میں برابر کی شریک ہو جائیں گی تو اسلامی انقلاب کا راستہ زیادہ آسان ہو جائے گا۔ ہمارے ملک پاکستان کی آبادی کے ۶۵ فی صد نوجوان ہیں۔ ہمیں ان نوجوانوں کو جماعت کے ہراول دستے کے طور پر شامل کرنا چاہیے۔ اللہ ہمارا مدد گار ہو۔

اس بعد تربیتی نشست کے انچارج حافظ سیف الرحمان صاحب نے منصورہ لاہور کی مختصر تاریخ حاضرین کے سامنے بیان کی۔ انہوں کہا کہ منصورہ پورے دنیا کی اسلامی تحریکوں کا ہیڈکوراٹر ہے۔ ساری اسلامی تحریکیں جماعت اسلامی کو مدر تنظیم مانتی ہیں۔ اس جگہ کو جس کمیٹی نے خرید تھا، اس نے اس کا نام منصورہ رکھا تھا۔ اس کا کل رقبہ ۲۳۲ کنال ہے۔ اس میں ۱۶۰ کنال جماعت اسلامی کی ملکیت ہے۔ باقی جماعت اسلامی کے لوگوں کی ذاتی ملکیت ہے۔ جماعت اسلامی کے نظم نے اپنے لوگوں کو ترغیب دی تھی کہ منصورہ کے اردگرد کی زمین خریدیں۔ منصورہ کی سامنے آبادی جماعت اسلامی کے لوگوں کی ہے۔ منصورہ میں کل۹۰۰؍ افراد کی آبادی ہے۔ ۱۵۰ گھر وں میں کچھ گھر جماعت اسلامی کے لوگوں کے ہیں۔ قاضی حسین احمد علیہ الرحمہ کا گھر بھی منصورہ میں ہے۔ ۱۶۰ کنال جماعت کی جگہ میں جماعت اسلامی کے دفاتر ہیں۔ ایک بلڈنگ میں جماعت اسلامی کے مختلف شعبے ہیں۔ پہلے جماعت اسلامی کا ہیڈ کوارٹر اچھرہ میں تھا۔ ضلع اٹک میں جماعت اسلامی کے ایک ہمدرد نے جماعت اسلامی کا ہیڈ کوارٹر بنانے کے لیے جگہ دی تھی۔ مشاورت کے بعد اس جگہ کو فروخت کر کے پہلے منصورہ میں ۸۰ کنال جگہ ۱۹۶۸ء میں خریدی گئی تھی۔ اس کے برابر ۵۵ کنال مولانا ثناءاللہ امرتسری کے نواسے کی ملکیت تھی۔ اس جگہ فلمیں بنانے کاا سٹوڈیو تھا جس میں وہ مذہبی فلمیں بناتا تھا۔ جب پہلی دفعہ جگہ خریدی گئی تھی تو اسٹوڈیو کا مالک پریشان ہوا اور کہا کہ ہم تو فلمیں بنائیں گے۔ آپ نے تودین کا کام کے لیے جگہ خریدی ہے، لہٰذا یہ میری جگہ بھی آپ خرید لیں۔ میں آپ کو فروخت کرنے کے لیے تیار ہوں۔ مشاورت کی گئی۔ مگر پیسے موجود نہیں تھے۔ سید مودودیؒ نے کہا کہ بھائی ٹھیک ہے آپ اپنا کام کرتے رہیں، ہم اپنا کام کرتے رہیں گے۔ جماعت اسلامی کے پرانے کارکن صفدر صاحب نے بتایا کہ اس جگہ پہلے دفعہ مولانا گلزار احمد مظاہریؒ صاحب نے جمعہ پڑھایا۔ اس میں اسٹوڈیو کا مالک بھی شریک تھا۔ بعد میں یہ اسٹوڈیو والی جگہ خرید لی گئی۔ اس کے مالک نے بھی ۵ لاکھ فنڈ میں بھی دیے۔ منصورہ میں ہی معارف اسلامی کا دفتر و لائبریری ہے۔ بچوں اور بچیوں کا الگ الگ ہائی اسکول اور کالج ہے۔ ایک ہسپتال ہے۔ پہلے باہر کے بچے تعلیم حاصل کرنے کے لیے منصورہ آیا کرتے تھے، مگر ڈکٹیٹر پرویزمشرف کے دور میں بند کر دیے گئے۔ لڑکیوں کے لیے جامعۃ المحصنات کام کر رہا ہے۔ جماعت کے سارے امرا نے منصورہ میں اپنے گھر نہیں بنائے۔ سید منور حسن صاحب پہلے جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری اور پھر امیر کی حیثیت ۲۶ سال منصورہ میں۱۲؍بائی ۱۲؍ کے ایک کمرے میں زندگی گزار کر واپس کراچی جاتے ہوئے صرف ایک ہینڈ بیگ میں اپنے کپڑے ساتھ لے گئے۔

دوسرے روز کا چوتھا پروگرام ’’ہمارے اسلاف، عزیمت کے راہی‘‘ حافظ محمد ادریس صاحب کا تھا۔ حافظ صاحب نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ عزیمت کے راہی تو ہمارے پیارے پیغمبرؐ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم تھے جو ہمیشہ سچ ہر قائم رہے۔ وہ عزیمت کا پہاڑ تھے۔ صحابہ ؓ بھی عزیمت کے پہاڑ تھے۔ صحابیؓ پیغمبر ؐکے ساتھیوں کو کہتے ہیں۔ جس نے ایک دفعہ بھی رسول ؐ سے ملاقات کی وہ صحابیؓ قرار پایا۔ ایک صحابی ؓاسود الرایؓ نے حضورؐ سے کہا کہ میں اگر اگلی صفوں میں جاکر لڑوں اور شہید ہو جاؤں تو کیا میں جنت میں داخل ہو سکوں گا۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا، ہاں تم ضرور جنت میں جاؤ گے۔ خاتون اسلام حضرت سمیہؓ سے کہا گیا کہ رسولؐ کا ساتھ چھوڑ دو۔ حضرت سمیہ ؓ نے انکار کیا اور عزیمت کی رہ اختیار کی۔ ابوجہل مشرک، کافر، بزدل نے حضرت سمیہؓ کو برچھی مار کر شہید کر دیا۔ حضرت سمیہ ؓنے کہا رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گئی۔ حضرت سمیہ ؓ خواتین اسلام میں پہلی شہیدہ ہیں اور خواتین اسلام کا یہ ایک بڑا اعزاز ہے۔ حافظ صاحب نے عزیمت کے راہیوں کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ رسالہ آئین میں ’’روشنی کے مینار‘‘ مضمون لکھا۔ یہ رسالہ بعد میں بند ہو گیا۔ اس کے ایڈیٹر مظفر بیگ صاحب تھے۔ اس کے بعد تو عزیمت کے راہیوں پر کئی کتابیں لکھیں۔ صحابہؓ نے جو محنت کے کارنامے چھوڑے تھے وہ بعد میں جاری رہے۔ امام مالک ؒ کو وقت کے حاکم نے بیعت کے لیے فتویٰ کا کہا۔ امام ملکؒ سے بہت زبردستی کی گئی۔ مگرامام مالکؒ نہیں مانے۔ پھر فتویٰ دیا کہ زبردستی کی بیعت نہیں ہوتی۔ جب قرآن کے مخلوق ہونے کا قصہ چھیڑا گیا تو امام احمد بن حنبل ؒ نے کہا کہ قرآن مخلوق نہیں خلق ہے۔ یعنی قرآن کا ایک ایک لفظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت جبریلؑ رسول اللہ کے پاس لائے۔ احمد بن حنبل ؒ کو وقت کے حاکم نے کوڑے لگوائے ۔ بعد میں متوکل نے امامؒ کو تحفے میں اشرافیوں کی تھیلی بھیجی۔ امام حنبلؒ نے کہا کہ عباسی بادشاہ مامون کے کوڑوں سے زیادہ خطرناک متوکل کی اشرفیاں ہیں۔ ڈکٹیٹر ایوب خان کے دور میں جماعت اسلامی کے لاہورکے جلسہ میں لاؤڈ اسپیکر کی اجازت نہیں دی گئی۔ مولاناؒ کی تقریر سننے کے لیے ۱۲؍ نقیب مقرر کیے گئے تھے۔ مولاناؒنے تقریر شروع کی تو غنڈوں نے شامیانے اور قناتوں کو آگ لگا دی۔ ایوبی غنڈوں نے مولاناؒ پر گولی چلا دی۔ لوگوں نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں ۔ مولاناؒ نے اس وقت تاریخی بات کی تھی۔ کہا کہ ’’میں بیٹھ جاؤں تو پھر کھڑا کون ہوگا‘‘۔ غنڈوں کی فائرنگ سے جماعت اسلامی کا ایک کارکن شہید ہو گیا۔ مولاناؒ نے ہدایت دی کی کہ اس شہید کی میت ایک طرف رکھ دو۔ اس کے بعد مولاناؒ نے اطمینان سے اپنی تقریر مکمل کی۔ یہ ہیں عزیمت کے راہی۔ اخوان المسلمین کے رہنماؤں کوظلم کی چکی میں پیساگیا۔ اسلاف کی قربانیوں کی بات آگے بڑھاتے ہوئے حافظ صاحب نے مصر کے اخوان المسلمون کے رہنماحسن البناؒ کا ذکر کیا۔ ان کو بھی بادشاہ کے دور میں شہید کیا گیا تھا۔ شہر میں کرفیو لگا دیا گیا۔ جنازے میں عام لوگوں کر شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ حسن البناؒ کے والد نے جنازہ پڑھایا۔ جنازے کی چار پائی گھر کے چار افراد جن میں والد، ماں، بیوی اور بیٹی تھی نے اُٹھائی۔ پھر انھی گھر کے چار افراد نے قبرستان میں دفن کیا۔ عبدالغفار عودہ کو پھانسی پر چڑھایا گیا۔ سید قطبؒ کو بھی سفاکی سے شہید کیا گیا۔ ان کے جنازے میں عوام کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے بھی گھر والوں نے جنازہ پڑھایا اور شہید کو دفنایا۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پھانسیوں پر چڑھایا گیا۔ یہ سب عزیمت کے راہی ہیں۔ میر قاسم علی ؒ کو بنگلہ دیش کی خونی صفت شخصیت حسینہ واجد نے اپنے جعلی انٹرنیشنل ٹربیونل کے ذریعے پھانسی پر چڑھایا۔ حافظ صاحب نے بتایا کہ خواب میں کیا دکھتا ہوں کہ شہید میر قاسم علی ؒکو دیکھ کر میرے آنسو نکل رہے ہیں۔ میر قاسم علیؒ میرے آنسوں کو صاف کر کے کہتے ہیں بھائی کیوں رو رہے ہو، یہ تو خوشی کا مقام ہے۔ یہ ہیں عزیمت کے راہی۔

دوسرے دن کا پانچواں پروگرام ’’اسلامی معاشرہ میں نفوذ کی راہیں‘‘ لیاقت بلوچ صاحب نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کا تھا۔ جناب لیاقت بلوچ نے اپنے تقریر شروع کرتے ہوئے فرمایا کہ رسولؐ اللہ نے کہا کہ مؤمن کی شان تو یہ ہے کہ مشکل آئے تو صبر کرتا ہے اور آسانی ہو تو شکر کرتا ہے۔ یعنی ہرحال میں فائدہ ہی فائدہ۔ ہمیں اللہ کے کلمے کو بلند کرنا ہے، چاہے مشکل ہو یا آسانی۔ اصلاح معاشرہ تب تک نہیں ہو سکتی جب تک پہلے فرد کی اصلاح نہ ہو جائے۔ معاشرے میں رہ کر انسان کو اللہ کے حقوق اور انسانوں کے حقوق ادا کرنے ہوتے ہیں۔ اللہ تو شاید اپنے حقوق معاف کر دے مگر فرد جب تک اپنے حقوق معاف نہیں کرے گا تواللہ بھی معاف نہیں کرتا۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے۔ دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں مقتدر حلقوں نے عوام کے حقوق ضبط کر رکھے ہیں۔ عوام کے معاشی، تعلیمی اور بنیادی حقوق مارے جا رہے ہیں، جبکہ مقتدر حلقے چاہیں تو عوام کے حقوق ادا کر سکتے ہیں مگر وہ نہیں چاہتے۔ عوام کے حقوق ادا کرنے کے بجائے باہر کے نظریات عوام پر مسلط کر دیے جاتے ہیں۔ پاکستان کے تمام سروے بتاتے ہیں کہ عوام اسلام سے محبت کرتے ہیں۔ مگر مقتدر حلقے عوام کی رائے کا احترام نہیں کرتے۔ ملک میں بےدینی عوام پر مسلط کر دی جاتی ہے۔ یہ عوام کے حقوق ضبط کرنے کی بدتریں شکل ہے۔ جماعت اسلامی عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی کو جمہوری طریقے سے جدوجہد کرکے عوام کو ان کے حقوق دلانا ہے۔ ہماری پرامن جمہوری جدوجہد کی وجہ سے پہلے پاکستان کے آئین میں قرارداد پاکستان داخل ہوئی۔ پھر ۱۹۷۳ء کا آئین بنا۔ اسی آئین میں اسلامی نظریاتی کونسل بنی۔ اسلامی آئین کی وجہ سے حکمران ملک میں غیر اسلامی قانون بنانے سے روکے ہوئے ہیں۔ ۲۰۱۸ء کا الیکشن ہوا تو باریاں بانٹنے والی نواز لیگ اور پیپلزپارٹی سے عوام کی جان چھوٹی۔ عمران خان اقتدار میں آئے تو لوگوں نے توقع باندھی تھی کہ عمران خان مشہور و معروف آدمی ہے ۔کرپشن سے پاک ہے، اس کے دور میں عوام کو غموں سے نجات ملے گی۔ مگر عمران خان بھی عوام کی توقعات پر پورا نہیں اُترا۔ جہاں تک دین اسلام کی دعوت کا معاملہ ہے تو مولانا مودودی ؒ نے کہا تھا کہ اس ملک میں بےدینی نظام حکومت نہیں چل سکتا۔ اللہ کے دین کو قائم کرنے کے جماعت اسلامی کے کارکنوں کو جدید طریقے اختیار کرنے چاہییں۔ ملک میں اسلامی نظام حکومت کے لیے کثیر تعداد میں رائے موجود ہے۔ کارکنوں کو پریشان ہونے کے بجائے عوام میں جانا چاہیے۔ ان کو ساتھ کر چلنا چاہیے۔ اپنے بیانیہ اور اپنے جھنڈے کو سامنے رکھتے ہوئے دوسروں کے ساتھ اتحاد کر کے اپنے قدم آگے بڑھانے چاہییں۔ کسی سے بھی غیر ضروری ٹکراؤ کی پالیسی سے بچنا چاہیے۔ اپنا کام زیادہ سے زیادہ کریں، لوگوں تک اللہ کے دین کاپیغام پہنچائیں۔ نوجوان آبادی کا بڑا حصہ ہیں ان تک ہمارا پیغام جانا چاہیے، ان پر ہمیں زیادہ کام کرنا چاہیے۔ اللہ ہمیں دین کو قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

دوسرے دن کا چھٹا پروگرام ’’جماعت اسلامی کی کامیابیاں‘‘ جناب ڈاکٹر طارق سلیم امیر صوبہ پنجاب شمالی کا تھا۔ ڈاکٹر سیلم صاحب نے کہا کہ جماعت اسلامی کی پہلی کامیابی، اس کی دعوت کی کامیابی ہے، جس کی پہلی مثال وہ ۲۶ سال کا ایک نوجوان تھا۔ یہ نوجوان اپنی ضلع کا اکلوتا بی اے ایل ایل بی وکیل تھا، بغیر داڑھی، تھری پیس سوٹ، یعنی فرنگی لباس پہنے ہوئے حکومت الہیٰہ قائم کرنے والی جماعت اسلامی کے تاسیسی اجلاس میں حلف برداری میں شریک تھا۔ اس شخص پر دوسرے شریک حضرت نے ا عتراض کیا۔ مشاورت سے اسے اپنی شکل و صورت اسلامی بنانے کے لیے ۶ ماہ کا وقت دیا گیا۔ جس نے اپنی شکل و صورت ہی نہیں اسلامی بنائی بلکہ اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے اسلامی بنا کر جماعت اسلامی کے حوالے کر دیا۔ ساری زندگی اقامت دین میں گزار دی۔ یہ شخص پہلے جماعت اسلامی کا جنرل سیکرٹری بنا۔ بانی جماعت کے بعد امیر جماعت اسلامی بنا۔ اِس کا نام میاں محمد طفیل ہے۔ دوسری کامیابی پاکستان کے تعلیمی اداروں میں اسلامی جمعیت طلبہ کا قیام تھا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوانوں نے اسلامی تعلیمات کے زور پر پاکستان کے تعلیمی اداروں میں انقلاب برپا کیا۔ ایشیا سرخ ہے کے نعرے والے کیمونزم کو تعلیمی اداروں سے رخصت کیا۔ مسلمانوں میں یہ بات عام ہوگئی تھی کہ بندہ جب۵۰۔۶۰ سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو ڈاڑھی رکھتا ہے۔ مگراسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر جمعیت کے نوجوانوں نے اوّل عمر کے اندر ہی نورانی چہروں پر سنت رسولؐسجا لی۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے پنجاب یونیورسٹی یونین میں کامیابی حاصل کی، تو پہلی تقریر سیرت النبیؐ پر تھی۔ جماعت اسلامی نے دستور کے اندر قرارداد مقاصد داخل کرانے کی تحریک شروع کی۔ پھر ۱۹۴۹ء میں لیاقت علی خان نے قانون ساز اسمبلی میں قراراداد پیش کی جسے منظور کر کے آئین پاکستان کا دیپاچہ بنا دیا گیا۔ جس سے حکومتِ پاکستان کا مذہب اسلام ہو گیا۔ اس پر مولانا مودودی ؒ نے کہا تھا کہ اب پاکستان مسلمان ہوگیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے دور وزارت میں پاکستان میں یوم شوکت اسلام منایا گیا۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں جماعت اسلامی کے چار ممبران قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ یہ ایسے ممبران تھے کہ اُن کی اسمبلی میں کارکردگی پہلے نمبر پر تھی۔ پاکستان کا اسلامی دستور بنانے میں دستوری مہم شروع کی جس کے نتیجے میں ۱۹۷۳ء میں پاکستان کا اسلامی دستور بنا۔ ۲۰۰۲ء میں متحدہ مجلس عمل کے انتخاب کے تحت ۲۲ قومی اسمبلی،۴۳ ممبران صوبائی اسمبلی اور پاکستان کی سینٹ کے اندر ۷؍ افراد منتخب ہوئے۔ پاکستان میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ اگر کوئی فرد اسلامی نظام کی بات کرتا تھا تو لوگ فوراً کہتے کہ یہ جماعت اسلام کا ہی بندہ ہو سکتا ہے۔ اگر انتظامیہ میں کوئی ایسا نیک فرد ہوتا جو رشوت نہیں لیتا تو کہا جاتا یہ جماعت اسلامی کا ہی ہو سکتا ہے۔ کسی جج نے بھی کہا تھا کہ جماعت اسلامی کا بندہ عدالت میں کبھی بھی جھوٹی گواہی نہیں دیتا۔ اللہ کی طرف سے یہ جماعت اسلامی کے لیے انعام ہے کہ جماعت اسلامی کو نیک جماعت سمجھا جاتا ہے۔ چیف جسٹس صاحب نے بھی نواز شریف صاحب کے کیس میں تبصرے کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پاکستان کے آئین کی دفعہ ۶۲۔۶۳ کو سیاست دانوں پر لاگو کیا جائے تو صرف جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق صاحب ہی پورے اُتر سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے مشکل کی گھڑی میں ہمیشہ مسلمانوں کا ساتھ دیا۔ سیلاب، زلزلے یا کوئی بھی قدرتی آفات ہوں جماعت اسلامی کے کارکن مدد کے لیے پہنچے۔ جہاد کشمیر کو جماعت اسلامی زندہ رکھا۔ افغانستان کے جہاد میں بھرپور ساتھ دیا۔ مشرقی پاکستان میں بھارتی فوج کے خلاف پاکستانی فوج کا ساتھ دیا۔ تعلیمی اداروں، مزدور تحریک اور پاکستان کی سیاست سے کیمونزم کو دیس نکالا دیا۔ جماعت اسلامی ایسی لیڈر شپ مہیا کی جس میں کرپشن کا نام ونشان تک نہیں۔ یہ ہیں جماعت اسلامی کی کامیابیاں۔

یہ بھی پڑھیں:   پہلے پولا کرو، پھر کھاؤ - سہیل وڑائچ

اس کے بعد دوسرے دن کا ساتوں اور آخری پروگرام’’پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا‘‘ جناب حافظ نعیم الرحمان، امیر جماعت اسلامی حلقہ کراچی کا تھا۔ حافظ نعیم صاحب نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ موددیؒ نے اپنے کام کے آغاز میں کہا تھا کہ جماعت اسلامی معروف میں سیاسی جماعت ہے نہ مذہبی گروہ، بلکہ یہ اسلامی نظریاتی تحریک ہے جس کا نام جماعت اسلامی ہے۔ اُس وقت اسلام دشمنوں نے مشہور کر دیا تھا کہ اسلام کے پاس نہ سیاسی نظام ہے نہ معاشی نظام۔ سید مودودیؒ نے اپنے کردار اور تحریروں اور عملی کاموں سے ثابت کیا کہ اسلام کے پاس جدید حکومت چلانے کے لیے سیاسی اور معاشی نظام موجود ہیں۔ کیا مسلمان اس دنیا میں ہزار سال تک کامیابی سے ان نظاموں کا استعمال کر کے حکومتیں نہیں چلاتے رہے؟ یہ غلط بات کہ اسلام کے پاس جدید حکومت چلانے کے لیے کوئی نظام ہی نہیں۔ اسی دنیا میں مسلمانوں کے پیغمبرؐ نے مدینے کی اسلامی فلاحی ریاست قائم نہیں کی تھی؟ کیا خلفائے راشدین ؓنے اسے کامیابی سے چلا کر دنیا کو نہیں دکھایا؟ حضرت عمرؓ کی حکومت۲۲ لاکھ مربع میل پر پھیلی ہوئی تھی۔ بعد میں بنو امیہ، بنو عباس اور ترک عثمانی حکومت ۱۹۲۴ء دنیا کے کثیر علاقہ پر پھیلی ہوئی تھی۔ سید مودودیؒ نے ثابت کیا کہ مسلمانوں کے پاس سیاسی، معاشرتی، تمدنی، ثقافتی اور تہذیبی وراثت موجود ہے۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے اسلام دشمنوں کے پراپیگنڈے کو ایک طرف رکھ کر یکسوئی سے اسلامی نظام حکومت کے لیے کام کرنا ہے۔ جس طرح یکسو ہو کر ہم نماز پڑھتے ہیں، اسی طرح یکسو ہو کر معاشرے میں اسلامی نظام کو قائم کرنا ہے۔ ہم نے جدید دور کے لیے انجینئر، ڈاکٹر، سیاستدان، معاشی ماہرین پیدا کرنے ہیں۔ پھر یہ جدید تعلیم یافتہ لوگ اسلامی حکومت کے کل پرزے بنیں گے۔ ترکی میں صلیبیوں کی سازش سے قوم پرست کمال اتاترک نے ۱۹۲۳ء میں ایک معاہدے کے ذریعے عثمانی خلافت ختم کر کے ترکی میں سیکولر نظام حکومت قائم کیا۔ اسلامی شعائر، اذان، پردہ اور ڈاڑھی پر پابندی لگائی۔ اسلامی مدرسے بند کیے۔ اب اس معاہدے کو ۲۰۲۳ء میں ختم ہونا ہے۔ ترکی پھر رجب طیب ایردوان کی لیڈرشپ میں اسلام کی طرف گامزن ہے۔ ساری دنیا ایردوان کی مخالف ہوگئی ہے۔ ترکی کی سیکولر فوج نے انقلاب لانے کی کوشش کی مگر ایردوان کی حمایتی پولیس اور عوام کی مدد کے ذریعے اس فوجی انقلاب پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا۔ اب اللہ نے ایسے اسباب پیدا کر دیے کہ ترکی میں اسلام کا راستہ کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ ان شاء اللہ۔ ہمیں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پاکستان میں جماعت اسلامی کوم ضبوط سے مضبوط تر بنائیں۔ سیکولر لابی اور مغرب پاکستان کے اسلامی دستور کوختم کرنا چاہتے ہیں۔ ساری دنیا ان کے پیچھے ہے۔ مگر اللہ نے چاہا تو پاکستان میں اسلام نظام قائم ہو کر رہے گا۔ یہ کام جماعت کے ہاتھوں سے ہوگا۔ کشمیریوں کی جدوجہد کو اللہ کی مدد حاصل ہے۔ کشمیری بھارت کے سارے ظلم و ستم برداشت کر رہے ہیں۔ برہان وانی کی قربانی نے آزادی کشمیر کی تحریک کو تاریخ کے روشن ترین دور میں داخل کر دیا ہے۔ کشمیری سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ڈٹ گئے ہیں۔ کشمیری اپنی ایمان کی پختگی کی وجہ سے پاکستان کے حکمرانوں کو بھی للکارتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں جماعت اسلام اتنی تن آور ہو چکی ہے کہ اب اسلامی نظام حکومت کا کوئی بھی راستہ نہیں روک سکتا، کیونکہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہیں جا سکتا؟

۶؍اکتوبر آخری دن کا پہلا پروگرام درس قرآن بعنوان ’’اپنے اور اولاد کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ‘‘ جناب معراج الہدیٰ صدیقی نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کا تھا۔ ڈاکٹر معراج الہدی نے کہا کہ ہم لوگ بچوں کے کیرئیر بنانے کے لیے پلاننگ کرتے ہیں کہ بیٹے کو انجینئر، ڈاکٹر، سیاست دان یا سائنسنٹ بنانا ہے۔ مگر اولاد کی آخرت بنانے کے لیے کوئی بھی پلاننگ نہیں کرتے۔ حضورؐ کی حدیث ہے کہ تم میں ہر کوئی کسی نہ کسی کا راعی ہے۔ ہم اپنی اولاد کے راعی ہیں۔ عام معنی میں چرواہے کو بکریوں کا راعی کہتے ہیں۔ کیونکہ چرواہا اپنی بکریوں کے لیے چارے، پانی اور آرام کا بندوبست کرتا ہے۔ بکریوں کو آگے پیچھے چلنے کا ڈسپلن سکھاتا ہے۔ شام کو چرواہا بکریوں کی گنتی کرتا ہے پوری ہیں کہ نہیں۔ ہم جماعت اسلامی کے کارکن داعی الی اللہ ہیں۔ ہم بچوں کی دنیوی تعلیم کا تو انتظام کرتے ہیں مگر دینی تعلیم یعنی قرآن کی طرف دھیان نہیں دیتے۔ آج کل موبائل دیکھنے والی نسل پیدا ہو رہی ہے۔ موبائل فون استعمال کریں مگر ضرورت کے تحت آئی پیڈ اور آئی فون جب بچے بالغ ہو جائیں تب استعمال کرنے کی اجازت دینا چاہیے۔ اپنے بچوں کی تربیت کاخیال رکھنا چاہیے۔ اپنے گھروں میں اجتماع اہل خانہ کا انتظام کرنا چاہیے۔ بچوں کے ساتھ دوستی اور محبت والا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ایک صاحب کا بیٹا مغرب میں رہائش پذیر تھا، اس کا والد فوت ہوا، لوگ جنازہ پڑھ رہے تھے، وہ ایک کنارے کھڑا رہا۔ جنازہ میں شرکت نہ کرنے کا معلوم کیا گیا تو کہا کہ میں آزاد خیال معاشرے میں رہتا ہوں۔ معراج صدیقی صاحب نے واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ رسولؐ اللہ گھر میں بیٹھے تھے کہ حسن ؓ اور حسینؓ آپ ؐ کے قریب آئے۔ آپؐ نے دونوں سے پیار کیا۔ ایک پیچھے سے آپؐ کے کندھوں پر سوار ہو گیا۔ اس وقت آپ کی محفل میں ایک سردار بھی بیٹھا ہوا تھا۔ سردار نے رسولؐ اللہ سے کہاکہ میرے دس بیٹے ہیں مگر میں ان سے ایسا پیار نہیں کرتا۔ رسولؐ اللہ نے اس کو جواب دیا کہ اگر لوگوں کے دل پتھر جیسے ہو گئے ہیں تو میں کیا کروں۔ آپ جانتے ہیں کہ رومانیہ دنیا کا ایک ملک ہے۔ ریسرچ کے لیے انہوں نے ۲۰ بچوں کو ان کی ماؤں سے علیحدہ ایک جگہ رکھا۔ جتنی بھی سہولتیں ہو سکتی ہیں ان ۲۰ بچوں کو مہیا کی گئیں۔ ۶ ماہ کے بعد ایک ایک کر کے سارے بچے فوت ہوگئے۔ اس لیے کہ ان کو ماؤں کی محبت نہیں ملی۔ انسان کو پیار محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے عام جانداروں سے انسان کے بچے کو ماں کے ساتھ دیر تک رکھا جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے کہ اپنے آپ اور اپنے بچوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔ دوزخ کی آگ سے انسان اللہ کے احکامات پر عمل کر ہی بچ سکتا ہے۔ اللہ کے احکامات دین کی تعلیم سیکھنے سے ہی حاصل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اپنے بچوں کو دین کی تعلیم دلانا چاہیے۔

آخری دن کا دوسرا پروگرام’‘ تحریکی شعور اور تحریکی مزاج‘‘ امیرالعظیم سیکرٹری جماعت اسلامی پاکستان کا تھا۔ امیرالعظیم صاحب نے کہا کہ کئی چیزیں مل کر انسان کا مزاج بناتی ہیں۔ دور صحابہ ؓ کا مزاج کچھ اور ہی تھا۔ سید مودودیؒ نے ایک حدیث کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اس حدیث کا مزاج یہ ہے کہ جب ہم تذکیر کرتے ہیں تو قرآن کی تعلیم سکھاتے ہیں تو ایک مزاج بنتا ہے۔ مگر آج کل لوگوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ جب ملتے ہیں تو ووٹ گنتے ہیں کہ کتنے ہیں۔ کہتے ہیں پارلیمنٹ میں کیا پوزیشن ہے۔ اسلام کو سمجھنے والا جب قرآن کی تعلیم حاصل کرتا تو اس کا مزاج قرآن کا مزاج بن جاتا ہے۔ عام انسان نسلی مسلمان ہیں۔ جماعت اسلامی انسانوں کو شعوری اور عملی مسلمان بنانا چاہتی ہے۔ انسان کا شعوری مزاج دعوت دینے سے بنتا ہے۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ ایسا دوست بناؤ کہ تمھیں اس سے مل کر خدا یاد آ جائے۔ کارکنوں کو ایسا مزاج بنانے کے لیے تحریکی لٹریچر کے مطالعہ کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی نے دین پر ایک مدت سے پڑی گرد جھاڑ جنکار کو صاف کر کے خالص اللہ کے لیے دعوت پیش کر دی ہے۔ اس لیے جماعت اسلامی کہتی ہے اللہ کی بندگی کرو، منافقت چھوڑ دو، زمام کار صالحین کے حوالے کر دو، تاکہ دنیا کی گاڑی اپنے صحیح راستے پر چلے۔ جماعت اسلامی کے کارکن داعی اللہ ہیں۔ ان کو اللہ کی زمین پر اللہ کے کلمے کو بلند کرنا ہے۔ اس طرح کے کام کرنے سے انسان کو جنت ملتی ہے۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں کو جماعت اسلامی کا لٹریچر پڑھنا چاہیے۔ جتنے بھی جدید علوم ہیں اس دور میں مغرب کی طرف سے آئے ہیں۔ مغرب نے اسلام دشمنی میں اسلام کے سیاسی نظام کو گم کر دیا ہے۔ مشہور کر دیا گیا کہ اسلام میں سیاسیات معاشیات وغیرہ کوئی نہیں۔ سید مودودیؒ نے ایسا لٹریچر تیار کیا ہے کہ مغرب کا پروپیگنڈہ اب دم توڑ گیا ہے۔ مولاناؒ نے کہا کہ جو قوم دنیا پر ۱۲؍ سو سال کامیابی سے حکومت کرتی رہی، کیا اس کے پاس حکومت چلانے کا کوئی نظام نہیں، یہ سفید جھوٹ ہے۔ اسی لیے ہم تربیتی پروگرام میں آ کر اپنی بیٹریاں چارج کرتے ہیں۔ ایک صحابی حضرت حنظلہ ؓ نے رسولؐ اللہ سے کہا کہ رسولؐ اللہ جب ہم آپ کے محفل میں ہوتے ہیں تو اسلام کی طرف زیادہ ہوتے ہیں۔ جب واپس اپنے گھروں میں یا بازاروں میں ہوتے ہیں تو ہماری پوزیشن کچھ اور ہوتی ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا اگر باہر بھی تم ایسے ہو جیسے میری محفل میں ہوتے ہو تو فرشتے تمھیں سلام کریں۔ سید مودودی ؒ نے کہیں کہا تھا کہ اگر انسان قرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے اپنے دل میں ایسی کیفیت پیدا کرے کہ قرآن اُس پر ابھی نازل ہو رہا ہے تو اسے ویسے ہی کردار نظر آئیں گے جیسے قرآن کے اُترتے وقت نظر آتے تھے۔ جماعت کے کارکن اسلام کو ترجیح اوّل بنائیں، پھر ان کاکام آسان ہو جائے گا۔ کتنے لوگ ایسے ہیں کہ جنھوں نے مولاناؒ کا لٹریچر پڑھا اور اپنی نوکریاں چھوڑ کر یکسو ہو کر جماعت اسلامی کے پروگرام کو آگے بڑھانے کے کام میں لگ گئے۔ جماعت اسلامی میں حریت فکر موجود ہے مگر احتیاط لازم ہے۔ جب کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اللہ اور رسولؐ کی طرف رجوع کر کے معاملات کو درست کر لینا چاہیے۔ یہی تحریکی شعور اور مزاج ہے۔

آخری دن کا تیسرا پروگرام ’’مؤثرتنظیم، کارکن اور قیادت سے تحریک کے تقاضے‘‘ جناب شاہد ہاشمی، ڈائریکٹر ادارہ معارف اسلامی کراچی کا تھا۔ ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ جماعت اسلامی کے قیام سے قبل اسلام کہیں کہیں ذاتی زندگیوں میں نظر آتا تھا، مگر سیاست اور معیشت وغیرہ میں نہیں تھا۔ اسی پوزیشن کو شاعر اسلام علامہ محمد اقبالؒ نے اپنے ایک شعر میں بیان کیا تھا:


ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

نادان یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد


مولاناؒ نے قرآن کا باریکی سے مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ رائج اسلام تو نامکمل ہے لہٰذا مولاناؒ نے پورے کے پورے اسلام کو نافذ کرنے کے لیے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔ اس وقت شادی، طلاق اور زمین کے معاملات طے کرنے کے لیے اسلام تو موجود تھا مگر زندگی کے کسی اور شعبے میں اسلام نہیں۔ ۱۹۴۱ء میں لاہور میں ۷۵؍ افراد اور ۷۵؍ آنے مالیت سے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی گئی۔ جماعت اسلامی اپنی نوعیت کی منفرد تنظیم ہے۔ پہلے دینی جماعت ایسے بنتی تھیں کہ کوئی برزگ اُٹھا اور اس نے دینی جماعت کی بنیاد رکھ دی۔ لوگوں سے بیعت لی اور کام چل پڑا۔ مگر مولانا مودودیؒ نے پہلے جماعت بنائی اور اس کے بعد مشورے سے جماعت کے امیر کا انتخاب ہوا۔ یعنی فرد کے بجائے یہ اجتماعی بیعت تھی۔ پہلے کسی جماعت کا سربراہ ایک بزرگ ہوتا تھا۔ اس کی وفات کے بعد اس کا بیٹا جماعت کا سربراہ بنتا تھا مگر جماعت اسلامی کا سربراہ مشورے سے چنا گیا۔ اور اس کی امارت کی مدت کا تعین کر دیا گیا۔ اس طرح جماعت اسلامی کا پہلے امیر سید ابوالاعلی مودودیؒ، پھر میاں طفیل محمد، پھر قاضی حسین احمدؒ، پھر سید منور حسن اور اب سرالج الحق بنے۔ جماعت اسلامی والے کسی بزر گ شخص کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتے بلکہ اجتماعی بیعت ہوتی ہے۔ جماعت اسلامی میں صرف امیر تبدیل ہوتا ہے، جماعت اسلامی اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے۔ اس لیے اس میں گدی کے لیے لڑائیاں نہیں ہوتیں ۔۱۹۷۲ء میں مولاناؒ نے ارکان کے نام خط لکھا کہ میں بیمار ہوں مجھے ووٹ نہ دیا جائے۔ آپ اپنا امیر منتخب کر لیں۔ اسی طرح آج تک جماعت اسلامی کے امیر تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور جماعت اسلامی اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے۔ جماعت اسلامی میں نیچے سے لوگ اُوپر کی طرف بڑھتے ہیں اور امیر بن جاتے ہیں، جبکہ دوسری پارٹیوں میں باہر، یعنی دوسری پارٹیوں کو چھوڑ کو کسی بھی پارٹی کے صدر یا سیکرٹری بن جاتے ہیں۔ جماعت اسلامی میں ایسا کوئی رواج نہیں ہے۔ کارکن اپنی محنت کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں۔ جماعت اسلامی منفرد تنظیم ہے۔ جنون، جذبہ اور دین سے لگاؤ ایسا ہے کہ لوگ اس میں گم ہو جاتے ہیں۔ جہاں نقد دے کر اُدھار کا سودا کرنا پڑتا ہے۔ اس جماعت میں بے شعوری میں کوئی بھی شامل نہیں ہو سکتا۔ مکمل شعور کے ساتھ لوگ شریک ہوتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں بیڑیاں جلا کر شامل ہوتے ہیں۔ جو ایک دفعہ شامل ہو گیا پھر وہ اسی کا ہو گیا۔ جماعت اسلامی کی قیادت کارکنوں کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے۔ کوئی بھی کارکن جماعت کے امیر کا محاسبہ کر سکتا ہے۔ یہ رواج دوسری پارٹیوں میں نہیں۔ تصور دین گروہی نہیں، فرقہ وارانہ نہیں اور خانقاہی نہیں، اسلامی اور صرف اسلامی ہے۔ اللہ کو ماننے والوں کو انقلابی ضرور ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی کا نظام کار حالات بدلنے سے نہیں بدلتا بلکہ یہ دائمی ہے۔ جماعت اسلامی کی دعوت اس کے بانی کی طرف یا کسی اور کی طرف نہیں۔ یہ صرف اسلام کی دعوت ہے۔ جماعت اسلامی قوم پرستی کی بھی دعوت نہیں دیتی۔ اگر کہیں مسلمان کسی سے بھی زیادتی کر رہے ہوں تو جماعت اس کے مخالف ہے۔ جماعت اسلامی تصور ملت اور تقویٰ پر قائم ہے اور ان شاء اللہ قائم رہے گی۔ یہی جماعت اسلامی کی مؤثر تنظیم کارکن اور قیادت کا گلدستہ ہے۔

تیسرے دن کا آخری اور چوتھا اختتامی پروگرام، امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا تھا۔ تربیتی کارکنوں نے امیر جماعت کی آمد پر کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا۔ سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی ضلع اسلام آباد اور کراچی ضلع غربی کے کارکن تین دن سے تربیتی پروگرام سے گزر رہے ہیں، اللہ ان کی محنت قبول فرمائے۔ اس کے بعد امیر جماعت اسلامی پاکستان نے اسلام آباد کے امیر اور کراچی غربی کے امیر کو کتابوں کا تحفہ دیا۔ امیر جماعت نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمیں وقت کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ وقت کا صحیح استعمال کر کے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھایا جا سکے۔ جماعت اپنے کارکنوں کو مثالی دیکھنا چاہتی ہے۔ کارکنوں کی زندگیاں بہتر سے بہتر ہوں۔ اور جب اللہ کے حضور پیش ہوں تواللہ کی جنت کے بھی مستحق ٹھہریں۔ جماعت اسلامی کے کارکن اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں پر چل کراس دنیا میں اللہ کا کلمہ بلند کریں گے تو ہی جنت مل سکتی ہے۔ ہمیں ایسا نظام قائم کرنا ہے کہ ملک کا حکمران اس امر کا خیال کرے کہ میرے عوام کسی پریشانی میں مبتلا تو نہیں۔ اس کے ساتھ جماعت اسلامی اپنے کارکنوں کو خوشحال دیکھنا چاہتی ہے۔ دوسری پارٹیوں کی طرح نہیں کہ کام نکال کر کارکنوں کو بھول جائے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ حکمران قوم کی کمائی کھاتے کھاتے سو جائیں۔ جماعت اسلامی اللہ کے دین کو پورے کا پورا نافذ کرنا چاہتی ہے۔ ایسے کامل انسان دیکھنا چاہتی ہے، جس کی یہ دنیا بھی اچھی ہو اور آخرت بھی اچھی ہو۔ دنیا میں سب سے مشکل کام انسان سازی ہے اور آپ اسی کام پر لگائے گئے ہیں۔ جب سارے لوگ سوئے ہوئے ہوتے ہیں تو آپ اُٹھ کر اللہ سے اللہ کے نظام کو قائم کرنے کے لیےدعائیں مانگتے ہیں۔ کارکن اللہ کو حاضر و موجود سمجھ کر معاملہ کریں۔ اس دنیا کے زمام کار کو چلانے کی صلاحیت پیدا کریں۔ اپنی کوشش اور محنت بھی جاری رکھیں۔ اللہ کی سنت ہے کہ اگر ایک مسلمان کھیت میں صحیح دانہ نہ ڈالے اور نہ پانی دے تو فصل اچھی نہ ہوگی۔ جبکہ کافر یہ سارے کام صحیح طریقے سے کرے تو اس کی فصل زیادہ اوراچھی ہوگی۔ اس لیے ہر کام کے لیے کوشش اور محنت ضروری ہے۔ دنیا چاہتی ہے کہ آپ بھی مغربی دنیا میں گم ہو جائیں۔ مگر آپ نے معاش کا بندہ نہیں بنا ہے بلکہ اللہ کابندہ بننا ہے۔ ہم نے اس دنیا کا نظام کیمونزم، سیکولرزم اور سرمایہ دارانہ نہیں بلکہ دنیا کا نظام اسلامی بنانا ہے۔ معاشرے سے انسانوں کے خلاف ظلم کو بند کرنا ہے۔ اسی لیے جماعت اسلامی قائم کی گئی ہے۔

امیر جماعت اسلامی کی اختتامی تقریر کے بعد ۳ روزہ تربیتی اجتماع اختتام پذیر ہوا۔کارکنوں نے اس کے بعد نماز ظہر ادا کی اور دوپہر کے کھانے کے بعد واپس اپنی اپنی مزلوں کی طرف عازم سفر ہوئے۔ ہم نے سہ روزہ تربیت گاہ کی ساری کاروائی نوٹ کی۔ اسے اس غرض سے کمپوز کیا کہ جماعت اسلامی ضلع اسلام آباد کے جو کارکن اس تین روزہ تربتی پروگرام میں کسی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے، ان تک پہنچانے کی سبیل ہو جائے تاکہ وہ بھی اس اہم سہ روزہ اہم تربیت گاہ سے مستفید ہو سکیں۔ اللہ کے دین کو اللہ کے بندوں پر نافذ کرنے کے کام میں تازہ دم ہونے کے لیے اس کا مطالعہ کریں۔ پاکستان اور دنیا سے ظلم کے اندھیرے چھٹیں اور اللہ کا نور عام ہو جائے۔ اللہ جماعت اسلامی کے کارکنوں کی اس سعی کو قبول فرما کر انہیں اپنی جنت کا مستحق بنائے۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں کو اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے یہ سبق سکھانے والے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒکی قبر کو نور سے بھردے۔ آمین۔