میں ہی خطاکار ہوں - بشارت حمید

انسان غلطی اور خطا کا پُتلا ہے۔ ہم دوسروں کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے اپنا تجزیہ نہیں کرتے اور اپنے آپ کو صد فیصد کلین چٹ دے دیتے ہیں جبکہ ہماری اپنی غلطی کا بھی امکان اتنا ہی ہوتا ہے جتنا کسی دوسرے کی غلطی کا۔

پھر انسانوں کا ظرف بھی ہر ایک کا الگ الگ ہوتا ہے۔ ہر ایک کی سوچ پرورش اور تربیت الگ الگ ماحول میں ہوتی ہے اس لئے سب کو ایک جیسا ٹریٹ نہیں کرنا چاہیئے۔ جب دو انسانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا ہوتا ہے تو دونوں اپنے آپ کو درست سمجھ رہے ہوتے ہیں کیونکہ غصے کی حالت میں انسان کا ذہن درست تجزیہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے اور اکثر غصے کی حالت میں کئے گئے فیصلے اور اٹھائے گئے قدم بعد کے بڑے پچھتاوے کا باعث بن جاتے ہیں۔ ہمیں ہر معاملے میں دوسروں کو الزام دینے اور خود کو بری الذمہ قرار دینے کی بجائے اپنے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کی سنت کے مطابق اپنا تجزیہ کرکے اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کی عادت اپنانی چاہیئے جب ان سے خطا ہوئی تو انہوں نے اللہ کی جناب میں کسی بحث مباحثے کی بجائے یا شیطان کو ذمہ دار ٹھہرانے کی بجائے اپنا جائزہ لیا اور فوراً اللہ سے معافی مانگ لی اور ایک بڑی خوبصورت دعا اللہ نے انہیں سکھا دی . رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا ٜ وَ اِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَ تَرۡحَمۡنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ 0 اے ربّ! ہم نے اپنے اوپر ستم کیا ، اب اگر تو نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے۔

اس دعا پر غور و فکر کر لیا جائے تو ہم مختلف قسم کے ڈیپریشن سے آزاد ہو سکتے ہیں۔ انسان یہ سوچ لے کہ کہیں نا کہیں میری غلطی بھی ہو سکتی ہے اور جب اپنی غلطی کا علم ہو جائے تو دوسرے لوگوں سے بھی معذرت کرے اور ساتھ ہی ساتھ اللہ سے بھی معافی کی درخواست کرے۔ ہم جب کسی معاملے میں ساری ذمہ داری دوسرے پر ڈال کر اپنے آپ کو سو فیصد درست سمجھتے ہیں تب ہی دوسروں کے کسی غلط رویے کی بنا پر ٹینشن اور ڈیپریشن اپنے سر پر لے لیتے ہیں۔ کسی کے ساتھ اچھا سلوک کریں تو بدلہ اس سے نہیں بلکہ اللہ سے مانگیں تو پھر کبھی مایوس نہیں ہوں گے اور نہ ہی یہ سوچ ذہن میں آئے گی کہ نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے۔

ٹیگز

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.