بلوچستان کے نوجوان اب بھی لائبریری کے لیے کوشاں ہیں - گہرام اسلم بلوچ

روز اول سے اس خطے میں بلوچستان کی ایک اسٹرٹیجک اہمیت رہا ہے اور جہاں تک اسوقت پاکستان اور چین کی دوستی کا تعلق ہے اس میں بھی بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت و افادیت کو نذرانداز کئے بغیر ( پاک، چین اقتصادی رہداری) سی، پیک ایک کامیاب منصوبہ نہیں بن سکتا۔

مگر اسوقت المیہ دیکھو کہ جہان سے پاک، چین دوستی کا جغرافیہ کا کردار ہے اس صوبے کے لو گوں کو کیا ملا ہے اسوقت یہ اپنی جگہ ایک بڑی سوال ہے جس پہ مکالمہ کی اشد ضرورت ہے۔
سی پیک کے علاوہ بلوچستان کی پاکستان میں اپنی اسٹرٹیجک اہمیت اور ساڈھے سات سو کلو میٹر طویل ساحلی پٹی، ریکوڈک، سندک اور دیگر معدنیات، کرومائیٹ جیسے ساحل وسائل سے مالا مال صوبے کے باسی ہربنیادی انسانی اور سماج کے ضروریات سے محروم ہیں۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔پاکستان کے کل رقبے کا 44فیصد رکھنے والا یہ صوبہ کی آبادی صرف ایک کروڈ بیس لاکھ کے لگ بھگ ہے مگر یہی چھوٹی سی آبادی کے بلوچ ہر قسم کی بنیادی انسانی سہولیات سے روز بروز محروم ہوتے جارہے ہیں۔ پسماندہ صوبے کے نوجوان اور بزرگ کس کرب سے گزرتے ہوئے سب چیزوں کو اپنی بے بسی سے چُپ چھاپ سے سہہ رہے ہیں کیونکہ ایک حد تک اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتاکہ اگر کسی نے بھی اسلام آباد یہ کہ یہاں کے حکمرانوں سے کسی بھی بنیادی سہولیات کے لیے آواز بلند کی تو انکے لیے بھی پالیسی وہی اختیار کی جاتی ہے برسوں سے یہاں کے ہر باسی خاموشی سے انکی زد میں آچکا ہے۔ یہی پسماندگی کی آواز نے کیسا رُکھ اختیار کرچکا ہے مگر وفاق متصبانہ رویے میں ابھی تک ذرا بھی فرق نہیں آیا ہے۔

بلوچستان کے دیگر سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل اپنی جگہ اسوقت بلوچستان کا ایک انتہائی اہم ایک اکیڈمک مسلہ ہے جو سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 34اضلاع پر مشتمل ایک کروڈ سے زائد کی آبادی رکھنے والے صوبے کے لیے بلوچستان کی دارحکومت کوئٹہ میں صرف ایک ہی قائد اعظم پبلک لائبریری ہے جسکی نشستوں کی تعداد چار سو طلبا اور سو طالبات ہیں جبکہ چار ہزار سے زائد طلبا و طالبات کی رجسٹریشن اب تک ہوچکی ہے۔ ہونا تو یہ چایئے تھا کہ ہر ڈسٹرکٹ میں ایک پبلک لائبریری ضروری تھا مگر ہرڈسٹرکٹ لائبریری اپنی جگہ پورے بلوچستان میں اسوقت صرف ایک میڈیکل کالج بولان میڈیکل یونیورسٹی ہے اور باقی تین نئے میڈیکل کالجز جو کہ اب اسٹیبلش ہوچکے ہیں مگر انکے طلبا ابھی بھی اپنی کلاسز کے لیے کوئٹہ میں سراپا احتجاج تھے۔ اور ستر سالوں سے ایک ہی پبلک یونیورسٹی اب جاکے سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی دور حکومت میں تربت یونیورسٹی کا اضافہ ہوچکا ہے۔ قائد اعظم پبلک لائبریری میں طلبا و طالبات کو اس لیے دشواری کا سامنا ہے کہ پورے بلوچستان کے طلبا و طالبات میڈیکل انٹری ٹیسٹ، ڈائریکٹریٹ نشستوں کی تیاری کے لیے طلبا ور مقابلہ جاتی امتحان کے امیدوار پورے بلوچستان سے یہاں کوئٹہ میں بیٹھ کر تیاری کرنا انکے لیے زیادہ آسان ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   تربت کے متاثر اساتذہ اور نمائندوں کی خاموشی - گہرام اسلم بلوچ

کوہلو، نصیرآباد، رخشان، جھلاوان مکران سے اسٹوڈنٹس تیاری کے لئے کوئٹہ آتے ہیں کوئٹہ سے گوادر، تربت آٹھ سو کلومیٹر ہوگا اتنی دور سے آئے ہوئے طلبا و طلبات کو اپنی رہاہش کے لیے پریشانی اپنی جگہ اور لائبریری میں بھیٹنے کے لیے جگہ نہ ملنے کا مسلہ اس پسماندہ صوبے کے طلبا کے لیے بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ حکومت بلوچستان کو چائئیے کہ اپنے تعلیمی پالیسوں کے لیے جامعے پالیسی اور کوئٹہ میں مزید لائبریری کی قیام کو یقینی بنائے۔ صوبے میں قائم صوبائی حکومت ٹوئیٹر سرکار کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں بھی منطق ہے کہ اگر بلوچستان حکومت اور سوشل میڈیا پر انکے حمایتی کے ہر تعارفی کلمات سے بلوچستان سے باہر دوست یہی سجھتے ہیں کہ بلوچستان کے ستر سالہ پسماندگی کا خاتمہ ایک سال میں دور کردیا جارہا ہے، کوئی بیروزگار نہیں، ہر امیر و غریب کو اپنے ہی علاقے میں صحت کے تمام سہولیات میسر ہیں جہاں غریب علاج کرتے ہیں وہاں امیر اور حکمران بھی ایک ہی لائن میں (او پی ڈی) میں ڈاکٹر کا انتطار کر رہے ہوگے، سرکاری سکولوں بھی تمام جدید سہولیات سے مستفید ہیں کہ اگر ٹوئیٹر سرکار اپنی سوشل میڈیا کی سرگرمیوں کو ترک نہیں کریں تو وہ دن دور نہیں ہے کہ امیر لوگ بھی اپنے بچوں کو نجی سکولوں سے نکال کر اپنے گاوں میں داخلہ دلاتے ہیں۔