عمران خان کی تقریر کے بعد کشمیر میں پابندیاں سخت

رپورٹ کے مطابق، عمران خان کی تقریر کے فوراً بعد کشمیر میں سینکڑوں شہری گھروں سے نکل آئے اور انہوں نے عمران خان اور کشمیر کی آزادی کی حمایت میں نعرے لگائے۔
نئی دہلی:میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کشمیر میں حکام نے شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ یہ اقدام جنرل اسمبلی میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے خطاب کے بعد کشمیر میں ممکنہ احتجاج کے تناظر میں کیا گیا ہے۔غور طلب ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے وارننگ دی تھی کہ کشمیر میں پابندیاں ختم ہونے کے بعد ‘قتل عام‘ ہو سکتا ہے۔

واضح ہو کہ گزشتہ 5 اگست کو مودی حکومت نے پارلیامنٹ میں آرٹیکل 370 کے زیادہ تر اہتماموں کو ختم کر دیا ،جس کے تحت جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کر اس کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا۔ اس قدم سے ٹھیک پہلے مرکزی حکومت نے کمیونیکشن ذرائع پر سخت پابندی لگا دی، لوگوں کی آمد و رفت کو بند کر دیا اور سابق وزیر اعلیٰ سمیت مین اسٹریم کے تقریباً سبھی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرس کے مطابق،عمران خان کی تقریر کے فوراً بعد کشمیر میں سینکڑوں شہری گھروں سے نکل آئے اور انہوں نے عمران خان اور کشمیر کی آزادی کی حمایت میں نعرے لگائے۔اس واقعے کے بعد سنیچر کی صبح پولیس کی گاڑیوں پر نصب اسپیکرز کے ذریعے سری نگر کے شہریوں کو نقل و حرکت پر عائد کردہ تازہ پابندیوں سے آگاہ کیا گیا۔ حکام اور عینی شاہدین کے مطابق ،ممکنہ مظاہرے روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کے اضافی دستے بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔ فوج نے سری نگر کے مرکزی بازار کی جانب جانے والے راستوں کو بھی خاردار تاریں نصب کر کے بند کر دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرس سےبات کرتے ہوئے ایک سکیورٹی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ‘یہ اقدام اس لیے ضروری تھا کیوں کہ جمعہ کو رات گئے عمران خان کی تقریر کے بعد سری نگر میں جگہ جگہ مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔‘ایجنسی کے مطابق، حکام نے بتایا کہ 6 عسکریت پسند اور ایک فوجی دو الگ الگ معاملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

ہندوستانی دفاع کے ترجمان لفٹننٹ کرنل دیویندر آنند نے کہا کہ 3 عسکریت پسند گاندر بل میں مارے گئے ہیں ،دوسرے تین بٹوت میں مارے گئے ہیں۔بتا دیں کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نے وارننگ دی تھی کہ کشمیر میں ‘غیر انسانی کرفیو‘ ختم کیے جانے کے بعد وہاں ‘قتل عام‘ کا خطرہ ہے۔ عمران خان نے کہا تھا، ‘کشمیری عوام سڑکوں پر نکلیں گے، تو پھر یہ فوجی کیا کریں گے؟ وہ انہیں گولیوں سے نشانہ بنائیں گے۔‘