‘ترکی، پاکستان میں سیاحت، ہوٹل صنعت کے لیے افرادی قوت تیار کرے گا‘

ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ناصر خان نے کہا ہے کہ ترکی کی حکومت مقامی سطح پر سیاحت اور ہوٹل کی صنعت کے لیے باصلاحیت افرادی قوت تیار کرنے کا ’اسکلز ڈیولپمنٹ پراجیکٹ‘ شروع کرے گی۔ نیوٹیک کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ ترکی کے تعاون سے پاکستان میں جدید خطوط پر استوار ’سینٹر آف ایکسیلنس فار ہاسپیٹیلٹی اینڈ کنسٹرکشن‘ کی بنیاد رکھی جائے گی۔

سرکاری خبرایجنسی اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مذکورہ ادارہ اسلام آباد میں نیشنل اسکلز یونیورسٹی میں قائم ہوگا۔ ڈاکٹر ناصر خان نے بتایا کہ ادارے کے لیے افرادی قوت کی تعیناتی اور اس کی تعمیرات سمیت تمام اخراجات ترک حکومت برداشت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ترکی کی جانب سے پاکستان میں مذکورہ منصوبے کا آغاز اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے اور سیاحت سمیت تعمیرات کے شعبے میں استنبول غیرمعمولی تجربہ رکھتا ہے‘۔

ڈاکٹر ناصر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں سیاحت اور ہوٹل صنعت میں سالانہ 15 لاکھ باصلاحیت افرادی قوت کے لیے ملازمتوں کی گنجائش ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ نیوٹیک کے اعداد و شمارکے مطابق ملک میں تھری، فور اور فائیو اسٹار سمیت کم از کم 10 ہزار ہوٹلز موجود ہیں جن میں مجموعی طور پر 50 ہزار سے زائد کمرے ہیں۔

نیویٹک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے بتایا کہ پاکستان میں سیاحت اور ہوٹل صنعت سے 15 لاکھ نوجوانوں کو ملازمتیں مل سکیں گی جو کہ مجموعی ملازمت کا سالانہ 2.5 فیصد بنتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ترکش سینٹر ملک میں ملازمتوں کے تناسب میں اضافے کا باعث بنے گا۔

ڈاکٹر ناصر احمد نے کہا کہ ’سینٹر کے قیام سے ناصرف پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے منصوبوں کے لیے پیشہ وارانہ صلاحیت کے حامل افراد موجود ہوں گے بلکہ پاکستانی نوجوانوں کو بیرون ملک میں ملازمتیں مل سکیں گی۔

واضح رہے کہ اپریل 2017 میں ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے ٹریول اینڈ ٹورزم کے مسابقتی انڈیکس 2017 کے جاری کرہ اعداد وشمار کے مطابق پاکستان نے سیاحت میں عالمی طورپر اپنی پوزیشن ایک درجے بہتر کی تھی۔ ملک میں اوسطاً دس لاکھ کے قریب غیرملکی سیاحت کے لیے آتے ہیں اور 2017 میں 136 ممالک کی فہرست میں پاکستان کا 124 واں نمبر ہے۔ رواں برس اپریل میں موجودہ حکومت کے اصلاحات کے ایجنڈے کو مدنظر رکھتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے عالمی بینک سے 12 کروڑ ڈالر طلب کیے تھے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے عالمی بینک سے اس بھاری سرمایہ کاری کی درخواست کی تھی تاکہ صوبے میں سیاحت کا انفرا اسٹرکچر بنایا جا سکے، سیاحتی اثاثوں کو بڑھایا جا سکے اور صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے اہم مقامات کی مینجمنٹ کی جا سکے۔

اصلاحات کے ایجنڈے کو مدنظر رکھتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے ترقیاتی روڈ میپ میں معاشی بحالی، نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے اور سیاحتی مراکز کی ترقی کو محور بنایا تھا، ان مقاصد کے حصول کے لیے صوبائی حکومت نے اپنے مربوط سیاحتی ڈیولپمنٹ پروگرام کے ذریعے معاونت کے لیے عالمی بینک سے رابطہ کیا تھا۔

خیبر پختونخوا پاکستان میں سیاحت کا گڑھ ہے اور یہ تیزی سے مقامی سیاحوں کی پہلی ترجیح بنتا جا رہا ہے، قدرتی وسائل سے لیس ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ہندوکش اور ہمالیہ کے پہاڑوں، شاندار مناظر، جنگلی حیات، ہرے بھرے جنگلات اور متعدد جھیلوں اور جھرنوں کی دولت سے مالا مال ہے۔